یانگلنگ–پاکستانی زرعی ماہرین ملک میں زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کر رہے ہیں اس سلسلے میں دوطرفہ تربیتی پروگرام کے تیسرے مرحلے میں شامل 107 پاکستانی شرکاء چین کی نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی میں زیرِ تربیت ہیں ۔ پاکستانی حکام کے مطابق پروگرام کے آغاز سے اب تک 885 شرکاء تربیت مکمل کرکے پاکستان واپس جا چکے ہیں ، جہاں انہوں نے 15 اسٹارٹ اپس کے قیام اور 50 ہزار سے زائد کسانوں اور دیگر زرعی ماہرین کی تربیت میں کردار ادا کیا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق اس پروگرام کو چین کے صوبہ شانشی کے شہر یانگلنگ میں منعقدہ چین پاکستان زرعی سائنس و ٹیکنالوجی تبادلہ تقریب میں اجاگر کیا گیا۔ تقریب کا موضوع ”تویان پروگرام کے ذریعے زراعت کو بااختیار بنانا اور دنیا کی جانب پیش قدمی تھا۔ یہ تقریب 33ویں یانگلنگ زرعی ہائی ٹیک میلے اور 2026 شنگھائی تعاون تنظیم کی زرعی نمائش کے موقع پر منعقد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی پراجیکٹ ڈائریکٹر صائمہ نورین نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش عملی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ زرعی جامعات، ماہرین اور سرکاری محکموں سے مشاورت کے بعد تربیت کیلئے نو ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔ان شعبوں میں زرعی مشینری کا استعمال، فصلوں کی تیز رفتار افزائش، ڈرونز، انٹرنیٹ آف تھنگز اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز، بیجوں کی پیداوار اور پراسیسنگ، مویشیوں کی بیماریوں کی نگرانی، مویشیوں کی افزائش اور جینومکس، آبی زراعت، مؤثر آبپاشی اور آبی وسائل کا انتظام جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی پراسیسنگ شامل ہیں ۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق صائمہ نورین کہا کہ تربیتی پروگرام میں تعلیمی تدریس کے ساتھ عملی تجربے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ شرکاء کو چینی کاروباری اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے، تاکہ وہ یہ سیکھ سکیں کہ زرعی ٹیکنالوجیز کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا ہدف نوجوان زرعی ماہرین ہیں ، جو تربیت مکمل کرکے پاکستان واپسی کے بعد اپنے اداروں یا کاروبار میں حاصل کردہ علم اور مہارتوں کو بروئے کار لا سکیں ۔ درخواست گزاروں کیلئے زراعت میں بیچلر ڈگری اور 35 سال یا اس سے کم عمر ہونا ضروری ہے۔ انتخاب کے عمل میں پیشہ ورانہ تجربے اور متعلقہ اداروں کی نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔صائمہ نورین نے بتایا کہ اب تک 885 شرکاء تربیت مکمل کرکے پاکستان واپس آ چکے ہیں ۔ ان کے بقول، اس پروگرام کے مثبت نتائج پاکستان میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے افراد نے 15 اسٹارٹ اپس قائم کرنے، نمائشی فارمز تیار کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسانوں ، بیج تیار کرنے والی کمپنیوں کے اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کی تربیت میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق، تربیت کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف اداروں نے نئی ٹیکنالوجیز بھی اپنائی ہیں اور اپنی پالیسیوں میں بھی بہتری لائی ہے۔پاکستانی زرعی اسٹارٹ اپ نینو ڈراپ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالصمد بھی تیسرے مرحلے کے 107 شرکاء میں شامل ہیں ۔ ان کیلئے یہ پروگرام ایسی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لینے کا موقع ہے، جنہیں پاکستان کے زرعی ماحول اور مقامی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے
چین میں زرعی تربیت،پاکستان میں 15 اسٹارٹ اپس قائم، 50 ہزار سے زائد کسانوں کی تربیت
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل