اسلام آباد(این این آئی) پاکستان ساڈک چیمبر ٹریڈ فیڈریشن (پی ایس سی ٹی ایف) کے سرپرستِ اعلیٰ دیوان محمد یوسف فاروقی نے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستند تجارتی معلومات، مؤثر کاروباری روابط اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے سے دونوں خطوں کے لیے معاشی فوائد اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔وہ اسلام آباد میں پاکستان-ساڈک سربراہی اجلاس کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ اجلاس میں سینیٹر سید مشاہد حسین سید، وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین، چیئرمین محمد رفیق میمن، پاکستان چیپٹر کے صدر سید معیز الدین، تاجر، صنعت کار، غیر ملکی سفارت کار اور فوکل پرسن بختیار احمد فاروقی بھی شریک تھے۔ سفارتی شرکاء میں سوڈان کے قونصل جنرل، کینیا اور جنوبی افریقہ کے سفرا، زمبابوے اور دیگر ممالک کے قائم مقام سفارتی نمائندوں سمیت ماریشس، مراکش، تیونس اور صومالیہ کے نمائندے شامل تھے۔دیوان محمد یوسف فاروقی نے کہا کہ پاکستان افریقی منڈیوں سے کوئلہ، تانبا، قدرتی گیس، مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، فاسفورک ایسڈ، قیمتی دھاتیں اور دیگر معدنیات درآمد کرنے کے امکانات تلاش کر سکتا ہے، جبکہ پاکستانی کاروباری ادارے خوراک، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، معدنیات اور دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے کاروباری حلقوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں ، ضروریات اور سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے خریداروں اور سپلائرز کے درمیان براہِ راست روابط قائم کرنا، تجارتی معلومات کا تبادلہ اور کاروباری ملاقاتوں کا انعقاد ضروری ہے۔ ان اقدامات سے باہمی تعاون کو عملی شکل دینے اور نئے تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عملی جامہ پہنانے کے لیے 90 روزہ عملی منصوبہ تجویز کیا گیا۔ اس منصوبے میں تجارتی اعداد و شمار کی تصدیق، ممکنہ خریداروں اور سپلائرز کی فہرستوں کی تیاری، درآمدی ڈیوٹی اور متعلقہ منڈیوں میں کاروبار کے لیے درکار شرائط کا جائزہ لینے جیسے اقدامات شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ منتخب ممالک اور مصنوعات کی بنیاد پر ابتدائی کاروباری ملاقاتوں کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی گئی، تاکہ دستیاب امکانات کو ٹھوس تجارتی معاہدوں میں تبدیل کیا جا سکے۔اجلاس میں پیش کی گئی پریزنٹیشن کے مطابق، وزارتِ تجارت کی سالانہ رپورٹ سے منسوب اعداد و شمار کے تحت مالی سال 25-2024 میں پاکستان اور افریقہ کے درمیان مجموعی تجارت کا حجم 4 ارب 85 کروڑ امریکی ڈالر رہا۔ اس عرصے میں پاکستان کی برآمدات 2 ارب 24 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 2 ارب 61 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں ۔ پریزنٹیشن کے مطابق مالی سال 24-2023 میں دونوں خطوں کے درمیان مجموعی تجارت 5 ارب 45 کروڑ ڈالر تھی۔اجلاس میں خوراک و زراعت، ٹیکسٹائل و ملبوسات، سیمنٹ، معدنیات، مشینری، برقی آلات، ادویات، طبی و جراحی کے آلات، چمڑے کی مصنوعات، جوتوں اور کھیلوں کے سامان سمیت مختلف شعبوں میں تجارتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی جائزے میں جنوبی افریقہ، مڈغاسکر، تنزانیہ اور موزمبیق کی منڈیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی، جہاں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے مستند معلومات، مسلسل رابطوں اور منظم کاروباری کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔ شرکاء کے مطابق مجوزہ 90 روزہ منصوبے پر پیش رفت سے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے نئے امکانات کو عملی شکل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل