بزدلانہ حملے حکومت کے عزم اور حوصلے پست نہیں کرسکتے‘ سرفراز بگٹی

کوئٹہ(خ ن)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کی فضا ختم کرکے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا، بزدلانہ حملے حکومت کے عزم اور حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ بلوچ بچیوں اور بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا دہشت گردوں کا مقصد ہے، تاہم بلوچستان حکومت کسی صورت تعلیمی ادارے بند نہیں کرے گی بلکہ اپنے بچوں کو تعلیم، شعور اور روزگار کے مواقع فراہم کرے گی۔ جو لوگ ریاست کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں ، ان کیلئے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوشکی کے گرلز کالج میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز کالج میں بی ایل اے کے دہشت گرد داخل ہوئے اور تین طالبات کو زخمی کیا۔ زخمی طالبات میں سے دو کو شدید چوٹیں آنے کے باعث فوری طور پر کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں حکومت ان کے بہترین علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنا رہی ہے، جبکہ تیسری طالبہ کو معمولی چوٹیں آئیں اور اس کا علاج نوشکی میں کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے یہ سوال اٹھاتے آ رہے ہیں کہ دہشت گرد آخر چاہتے کیا ہیں ؟ بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور کرنا، ان پر حملے کرنا اور معصوم طالبات کو گولیوں کا نشانہ بنانا کون سی بلوچیت اور کون سی روایات ہیں ؟ بلوچ معاشرہ اپنی روایات کا امین ہے، لیکن اب بلوچستان کے لوگوں پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ عناصر بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنے اور انہیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو دہشت گرد انہیں ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ ان کیلئے آسان ہدف بن جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام، بالخصوص زخمی طالبات اور ان کے والدین کو یقین دلایا کہ حکومت ان قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ سیکیورٹی فورسز ان ظالموں اور دہشت گردوں تک پہنچ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے دانشوروں ، پروفیسرز اور سول سوسائٹی کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ایسے حملوں سے دہشت گرد کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک طرف بلوچستان حکومت اپنی بچیوں کیلئے آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے تعلیمی اداروں کے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دہشت گرد انہیں خودکش جیکٹیں پہنانے اور علم سے دور رکھنے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشت گرد متعدد پروفیسرز کو قتل کر چکے ہیں اور اب ان کی کارروائیوں کا دائرہ طلبہ اور طالبات تک پہنچ گیا ہے۔ یہ عناصر مسلسل اپنی حدود عبور کر رہے ہیں ، تاہم ریاست اور حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری طرح پرعزم ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور بلوچستان پولیس کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی اور بربریت کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے بشیر زیب، رحمان گل، اللہ نذر اور دیگر دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی مفادات کیلئے کام کرتے ہوئے اس حد تک گر چکے ہیں کہ اب نہتی بلوچ بچیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ، جو صرف تعلیم حاصل کرنے کیلئے کالج آتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پروپیگنڈے کے ذریعے بچیوں کو ریاست کے خلاف خودکش حملوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی متعدد بچیوں کو حکومت میڈیا کے سامنے بھی پیش کر چکی ہے، جن سے پوچھ گچھ کے دوران ان عناصر کی گھناؤنی سرگرمیوں کے شرمناک پہلو سامنے آئے، تاہم ان کی تفصیلات میڈیا یا دیگر فورمز پر بیان کرنا مناسب نہیں ۔ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان اپنے اسکول اور کالج کسی صورت بند نہیں کرے گی۔ حکومت پہلے ہی 3,200 بند اسکول کھول چکی ہے اور اب ان اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے مزید آباد کرے گی۔ انہوں نے نوشکی گرلز کالج میں زخمی ہونے والی طالبات سے اظہار یکجہتی کیلئے اعلان کیا کہ بیوٹمز یونیورسٹی میں اسپورٹس گالا منعقد کیا جائے گا، جبکہ نوشکی کے اسی کالج میں زخمی طالبات کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول بھی منعقد ہوگا۔ محکمہ کھیل دونوں مقامات پر ان بہادر، غیور اور دلیر بچیوں کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا جائے گا کہ وہ جتنی بھی کوشش کرلیں ، حکومت کو اسکول اور کالج بند کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ حکومت ان تعلیمی اداروں کو آباد رکھے گی اور بلوچستان کی گلیوں کو بھی زندگی اور سرگرمیوں سے بھرپور بنائے گی۔ دہشت کی فضا مستقل طور پر ختم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے سیکیورٹی فورسز لازوال قربانیاں دے کر پہاڑوں اور ان ٹھکانوں میں دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں جہاں وہ چھپ کر پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہیں شہری مراکز سے بھی نکالا جائے گا اور پہاڑوں سے بھی، اور ان کے انجام تک پہنچنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جو لوگ دلیل کی بنیاد پر اور ریاست کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کرنا چاہتے ہیں ، ان کیلئے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اللہ نذر کے اپنے بچے فرانس اور دیگر مقامات پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو کیا بلوچ بچیوں کو نوشکی کے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ؟ کیا انہیں آگے بڑھنے کا حق نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی بچیوں کو تعلیم، شعور اور ترقی کے مواقع فراہم کرے گی اور نوجوانوں کیلئے روزگار، کاروبار اور ذریعہ معاش کے پروگراموں پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ یوتھ پالیسی سمیت حکومت کی تمام کوششوں کا مرکز بلوچستان کے نوجوان ہوں گے۔میر سرفراز بگٹی نے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے ایسے سفاکانہ حملے حکومت کے ارادوں کو کمزور نہیں کرسکتے بلکہ اس عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں ۔ حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں