
مولانا محمد اسامہ
بچپن انسان کی زندگی کا وہ دور ہے جس میں شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے، عادات پروان چڑھتی ہیں، سوچ تشکیل پاتی ہے اور آنے والی زندگی کے لیے مزاج تیار ہوتا ہے۔ اسی لیے والدین کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اچھا انسان بنے، علم حاصل کرے، بڑوں کا ادب کرے، چھوٹوں سے محبت کرے اور معاشرے کے لیے ایک مفید فرد ثابت ہو۔ اس مقصد کے لیے والدین اسے بری صحبت سے بچاتے ہیں، غلط لوگوں سے دور رکھتے ہیں، غیر مناسب جگہوں پر جانے سے روکتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ بچے کے ماحول پر نظر رہے۔
لیکن آج کے دور میں صرف بچے کے باہر جانے والے راستوں کی نگرانی کافی نہیں رہی، کیونکہ بہت سی چیزیں جن سے والدین اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں، وہ خود گھر کے اندر داخل ہوچکی ہیں۔ اب غلط صحبت کے لیے بچے کا گلی محلے میں جانا ضروری نہیں، غلط خیالات کے لیے کسی برے دوست کا ہونا ضروری نہیں اور نامناسب مناظر کے لیے کسی مشکوک جگہ پر پہنچنا ضروری نہیں؛ ایک چھوٹی سی اسکرین یہ سب کچھ بچے کے ہاتھ میں لاکر رکھ دیتی ہے۔
اسمارٹ فون نے جہاں انسان کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے بے احتیاط استعمال نے بچوں کے سامنے ایک ایسی دنیا بھی کھول دی ہے جس میں اچھائی اور برائی، علم اور جہالت، اصلاح اور فساد سب کچھ ایک ساتھ موجود ہے۔ بچہ جس چیز کی تلاش کرتا ہے، اسے صرف وہی نہیں ملتی بلکہ اس کے بعد اسے مزید بہت کچھ دکھایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دیکھنے والا خود فیصلہ کرنے کے بجائے اس مواد کے بہاؤ میں بہتا چلا جاتا ہے۔
یہ صورت حال اس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے جب والدین خود بچے کے سامنے ہر وقت موبائل استعمال کرتے ہوں۔ بچہ جب دیکھتا ہے کہ والد کے ہاتھ میں موبائل ہے، ماں کی توجہ بھی موبائل کی طرف ہے، کھانے کے وقت بھی موبائل موجود ہے اور آرام کے وقت بھی موبائل ساتھ ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ موبائل کوئی عام چیز نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ پھر جب وہ خود موبائل مانگتا ہے تو والدین اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، حالاں کہ موبائل کی کشش پیدا کرنے میں سب سے پہلا کردار خود والدین ادا کرچکے ہوتے ہیں
ابتدا میں بچہ صرف کارٹون دیکھتا ہے، پھر گیمز کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے بعد مختلف ویڈیوز اور سوشل میڈیا تک پہنچتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی دلچسپیاں بھی بدلتی جاتی ہیں۔ وہ چیزیں جو اس کی عمر، ذہنی پختگی اور اخلاقی تربیت کے لیے مناسب نہیں ہوتیں، وہ بھی اس کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ کبھی وہ ارادتاً انہیں دیکھتا ہے اور کبھی محض تجسس اسے وہاں لے جاتا ہے، لیکن نتیجہ بہرحال اس کی سوچ، مزاج اور کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ خاموشی سے ہوتا ہے۔ والدین کو کئی مرتبہ اس وقت خبر ہوتی ہے جب بچے کی عادت پختہ ہوچکی ہوتی ہے۔ وہ پڑھائی سے جی چرانے لگتا ہے، چند منٹ موبائل سے دور رہنا اسے مشکل محسوس ہوتا ہے، موبائل چھیننے پر غصہ کرتا ہے، گھر والوں سے بات کرنے کے بجائے اسکرین میں مصروف رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی دلچسپی حقیقی زندگی کے بجائے مصنوعی دنیا میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔
آج ہمارے گاؤں اور محلوں میں بھی کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ آٹھ دس سال کے بچے ایسے پلیٹ فارمز پر موجود ہیں جہاں ان کی عمر کے بجائے ان کے سامنے ایک پوری بالغ دنیا موجود ہے۔ بعض بچے گھنٹوں مختلف گیمز میں مصروف رہتے ہیں، بعض سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز بنانے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے شوق میں اپنا بچپن ضائع کر رہے ہیں۔ جس عمر میں بچے کو کتاب سے دوستی کرنی چاہیے، استاد کی بات غور سے سننی چاہیے، کھیل کے میدان میں جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے اور اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کے آداب سیکھنے چاہییں، اس عمر میں وہ چند سیکنڈ کی ویڈیو سے چند سیکنڈ کی ویڈیو تک بھٹک رہا ہے۔
نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ بچوں میں چڑچڑا پن بڑھ رہا ہے، پڑھائی میں یکسوئی کم ہورہی ہے، گفتگو کا انداز بدل رہا ہے، بڑوں کا ادب متاثر ہورہا ہے اور جسمانی سرگرمیوں کی جگہ مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت پیدا ہورہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ بچے کی توجہ ایک جگہ قائم رکھنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔ وہ جلدی سے نتیجہ چاہتا ہے، فوری تفریح چاہتا ہے اور معمولی سی بوریت بھی اسے ناقابل برداشت محسوس ہونے لگتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟
صرف موبائل؟
صرف سوشل میڈیا؟
صرف گیمز؟ ٭٭ جاری ہے ٭٭
یا والدین بھی؟
حقیقت یہ ہے کہ موبائل نے خود ہمارے بچوں کے ہاتھ میں چل کر جگہ نہیں بنائی، ہم نے اسے ان کے ہاتھ تک پہنچایا ہے۔ کبھی بچے کو خاموش رکھنے کے لیے، کبھی کھانا کھلانے کے لیے، کبھی اپنی مصروفیت سے بچنے کے لیے اور کبھی صرف اس لیے کہ بچہ ہمیں تنگ نہ کرے۔ ابتدا میں ہمیں اس سے سہولت ملی، لیکن رفتہ رفتہ اسی سہولت نے بچے کی عادت کا روپ اختیار کرلیا۔
اس لیے اگر والدین واقعی اپنے بچوں کو اسکرین کے نقصانات سے بچانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اپنے معمولات کا جائزہ لینا ہوگا۔ بچے کو موبائل سے دور رہنے کی نصیحت کرنے سے پہلے خود موبائل کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا ہوگا، کیونکہ بچے کے سامنے ہمارا عمل ہماری نصیحت سے کہیں زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اگر ہم خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں گے تو ہمارا بچہ ہمارے الفاظ نہیں بلکہ ہماری زندگی سے سبق لے گا۔
بچوں کی توجہ موبائل سے ہٹانے کے لیے صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں، بلکہ اس کے متبادل فراہم کرنا ضروری ہے۔ بچے کے ساتھ وقت گزاریں، اس کے ساتھ بات کریں، اسے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں، کھیل کے لیے وقت دیں، گھر کے معمولی کاموں میں شریک کریں، اس کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیں۔ اسے ایسا ماحول دیں جس میں حقیقی زندگی کی سرگرمیاں اسکرین سے زیادہ دلچسپ محسوس ہوں۔
اور ساتھ ہی بڑے ہوتے بچوں کی صحبت اور نقل و حرکت پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ صرف موبائل ہی تربیت کا میدان نہیں۔ بچے کن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، کس قسم کی گفتگو کرتے ہیں، کن چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور ان کے رویے میں کیا تبدیلی آرہی ہے، یہ سب والدین کی توجہ کا مستحق ہے۔ نگرانی کا مطلب ہر وقت شک کرنا نہیں بلکہ بروقت رہنمائی کرنا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کی تربیت کسی ایک دن، ایک نصیحت یا ایک ڈانٹ سے نہیں ہوتی۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ والدین کو اپنے وقت، آرام، مصروفیات اور بعض خواہشات کی قربانی دینا پڑتی ہے، کیونکہ اولاد کی تربیت میں گزرا ہوا وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا، جبکہ اس مرحلے میں کی گئی غفلت کا نقصان بعد میں پورا کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
بچپن دوبارہ نہیں آتا۔
اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو اسکرین کے حوالے کردیا تو کل ہم ان کے اندر وہ چیزیں تلاش کرتے رہ جائیں گے جو بچپن ہی میں پیدا ہونی چاہییں تھیں۔
اس لیے آج فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیا کے ساتھ چلنے کے قابل بنانا چاہتے ہیں یا دنیا کے ہجوم میں اپنی شناخت، اپنے اخلاق اور اپنے مقصد کو محفوظ رکھنے کے قابل بھی بنانا چاہتے ہیں۔
کیونکہ ہماری اولاد صرف ہمارا مستقبل نہیں، ہماری آج کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم نے اس امانت کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسل کی کمزوری کا شکوہ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے کردار اور اپنی غفلت کا حساب بھی دینا ہوگا۔
بچوں کا بچپن اگر ہماری غفلت کی نذر ہوگیا تو کل ہم ایک ایسی نسل کے سامنے کھڑے ہوں گے جس کے پاس دنیا بھر کی معلومات تو ہوں گی، مگر زندگی کا مقصد، کردار کی پختگی اور رشتوں کی حرارت کم ہوتی جائے گی۔