پاکستان کی سیاست میں بعض رہنما ایسے ہیں جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنا خوب جانتے ہیں۔ ملکی سیاست میں مولانا فضل الرحمان بھی ان گنے چنے سیاست دانوں میں ایک ہیں جو اپنی سیاسی حکمت عملی، پارلیمانی تجربے اور مذہبی ووٹ بینک کی بدولت ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ جب بھی ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو مولانا کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ سیاسی حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے ان کا سخت مؤقف بھی اسی سیاسی پس منظر کی ایک کڑی ہے، جو ان دنوں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی وفاقی حکومت سے شکایات محض کسی انتظامی فیصلے کے خلاف احتجاج نہیں ہیں، بلکہ ان کے پس منظر میں آئینی اختیارات، صوبائی خودمختاری، امن و امان کی صورت حال اور سیاسی مفادات سے متعلق کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان میں چند اہم سوالات یہ ہیں: اگر کسی صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہو تو اس کا حل کیا ہونا چاہیے؟ کیا منتخب حکومت کو ہٹا کر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے؟ کیا ایسا سخت اقدام صوبے کے عوام میں بداعتمادی کو مزید نہیں بڑھائے گا؟ یہ سوالات صرف خیبر پختونخوا کی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے وفاقی حکومت کے مستقبل سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔
مولانا میڈیا پر بارہا یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ اگر دہشت گردی کو بنیاد بنا کر کسی صوبے کی منتخب حکومت کے خلاف غیرمعمولی آئینی اقدامات اٹھانے پر غور کیا جا رہا تھا تو اس سے پہلے پارلیمان میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے آئینی حدود اور عوام کے منتخب نمائندوں کے اختیارات کا احترام بھی ضروری ہے۔ اگر کسی صوبائی حکومت سے اختیارات واپس لینے کو مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اس اقدام سے دہشت گردی کے خاتمے میں عملی طور پر کیا مدد مل سکے گی۔
بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے مولانا کا سوال بھی میڈیا میں زیر بحث ہے۔ ان کے مطابق، اگر کسی صوبے میں دہشت گردی کی موجودگی گورنر راج نافذ کرنے کی وجہ بن سکتی ہے تو پھر بلوچستان کے لیے یہی معیار کیوں اختیار نہیں کیا جاتا، جہاں دہشت گردی کے واقعات بھی سنگین صورت اختیار کرتے رہے ہیں؟ تاہم یہ مولانا کا مؤقف ہے۔ دونوں صوبوں کے حالات، آئینی تقاضے اور انتظامی حقائق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی فیصلے کا جائزہ جذباتی بیانات کے بجائے حقائق اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ ایسے اقدام کے لیے کون سے آئینی جواز موجود ہیں اور اس سے کیا نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے۔
مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی تقاریر میں اپنے مؤقف کی حمایت میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کی قربانیوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، پارٹی کارکنوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جانی نقصان اٹھایا ہے، اس لیے پوری جماعت کو دہشت گردوں کا ہمدرد سمجھنا ناانصافی ہوگی۔ ان کے اس مؤقف کو سنجیدگی سے سننا چاہیے، کیونکہ کسی سیاسی جماعت کے بارے میں اجتماعی الزامات لگانے کے بجائے مخصوص واقعات اور شواہد کی بنیاد پر بات کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف کسی جماعت کی جانب سے دی گئی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا جانا چاہیے، جو جمہوری سیاست کا ایک اہم اصول ہے۔
مولانا پارلیمان کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ منتخب نمائندوں کو بھی صورت حال سے بے خبر رکھا جائے۔ پارلیمان کو سکیورٹی پالیسی، فوجی کارروائیوں کے نتائج، متاثرہ علاقوں کی صورت حال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہیے۔ اس عمل سے نہ صرف حکومتی پالیسیوں کو سیاسی حمایت مل سکتی ہے بلکہ ان کی خامیوں کی نشاندہی کا موقع بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ارکان کی طرف سے مولانا پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کی ناراضی کی وجہ اقتدار کی تقسیم میں حصہ نہ ملنا ہے۔ تاہم ایسے الزامات کا فیصلہ صرف بیانات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کے اپنے مفادات ضرور ہوتے ہیں، لیکن ہر اختلاف کو ذاتی رنجش قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ مولانا کے مؤقف کا جائزہ ان کے مطالبات، سیاسی سرگرمیوں اور آئینی دلائل کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ اگر ان کے اعتراضات اصولی ہیں تو حکومت کو ان کا جواب دلیل اور شواہد کے ساتھ دینا چاہیے۔ اگر ان کے مؤقف میں سیاسی مصلحتیں بھی شامل ہیں تو ان پہلوؤں پر غور کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اقتدار کی ذمہ داری حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی وفاقی حکومت کی طرف بڑھتی ہوئی لفظی گولہ باری پاکستان کی سیاست میں نئی کشیدگی کا اشارہ ضرور دیتی ہے، لیکن اس کشیدگی کو قومی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کے سوالات کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظرانداز نہ کرے، جبکہ مولانا اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی اپنے مؤقف کو شواہد، آئینی دلائل اور عملی تجاویز کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ ملک کو اس وقت الزام تراشی کے بجائے سنجیدہ مذاکرات، طاقت کے مظاہرے کے بجائے قانون کی بالادستی اور سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک حکومت یا جماعت کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کا راستہ سیاسی انتقام سے نہیں، بلکہ مشترکہ سیاسی حکمت عملی، قومی یکجہتی اور عوام کے اعتماد سے ہی ممکن ہے۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔