طالب علم کی نفسیات

تحریر: عابد علی
تعلیم صرف کتاب پڑھانے کا نام نہیں بلکہ ایک انسان کو سمجھنے اور اسے معاشرے کے لیے تیار کرنے کا نام ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ میں ہر ایک کو جانتا اور سمجھ سکتا ہوں مگر میں اس نوعیت پر آ سکتا ہوں کہ جب میں کالج میں لیکچر دے رہا ہوں تو طلباء یا طالبات کیا سمجھ رہے ہیں۔ اکثر ہمارے اداروں میں استاد ایک عام سی غلطی کر لیتے ہیں کہ وہ طلباء کی نفسیات کو ایک ہی طرح سے سمجھ لیتے ہیں۔ مگر بحیثیت استاد اگر ہمیں ہر پہلو کو دیکھنا چاہیے تو میں خود ایک طالب علم کی زندگی میں ان چیزوں پر غور و فکر کر چکا ہوں۔ اکثر میں کلاس میں داخل ہو کر طلباء کے رویے اور ان کے تاثرات کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ حتیٰ کہ میں نے کچھ ایسے طالب علم بھی دیکھے ہیں جو ذہنی اور گھریلو پریشانی میں ہوتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت استاد صرف استاد بن کر نہیں بلکہ ایک ماہرِ نفسیات کی طرح بھی کلاس میں حاضر ہونا چاہیے۔ اس بارے میں علمِ تدریس یہ کہتا ہے کہ ایک استاد کا کام صرف نصاب مکمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک رہنما بن کر طالب علم کو سمجھے اور اس طرح استاد بن جائے کہ طلباء کو آپ سے اپنائیت ہو جائے تاکہ وہ آزادیِ اظہار کے ساتھ آپ سے ہر موضوع پر گفتگو کر سکیں۔ میری بحیثیت استاد زیادہ تر پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ طلباء کے ساتھ ایک طالب علم بن کر اور ایک اچھا دوست بن کر اپنائیت پیدا کروں۔ میرے خیال میں جب استاد اور طالب علم کے درمیان صرف استاد اور طالب علم کا فاصلہ رہ جائے تو بہت سی باتیں وہیں رک جاتی ہیں جو ایک طالب علم اپنے استاد سے کہنا چاہتا ہے۔جب میں بحیثیت استاد نفسیاتی طور پر طلباء کو سمجھنے کی کوشش نہیں کروں گا تو میرا خیال ہے کہ میں ایک رہنما تیار نہیں کر رہا ہوں گا بلکہ ایک ایسا گروہ تیار کر رہا ہوں گا جو صرف تدریسی نظام میں بندھا ہوگا۔ ہماری تعلیم پر برطانوی راج کے دور کے تعلیمی نظام کے اثرات آج بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ برطانوی ہندوستان میں 1830ء کی دہائی میں میکالے کی تعلیمی یادداشتوں اور اس کے بعد کی سرکاری تعلیمی پالیسیوں نے تعلیم کے ڈھانچے پر گہرا اثر ڈالا۔ برٹش لائبریری کے ریکارڈ میں 1835ء سے متعلق میکالے کی تعلیمی یادداشتیں اور اسی دور کی ہندوستانی تعلیمی رپورٹس موجود ہیں۔ لیکن آج کا دور اس زمانے سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں تعلیم کو صرف پرانے طریقہ تدریس تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ہر کالج کے لیکچرر کو ایک ماہرِ نفسیات ہو کر طلباء کو سمجھنا چاہیے ان کے انسانی رویے کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اپنی کلاس میں ایک رہنما بن کر رہنمائی کرنا چاہیے۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ وہی چیز جو کتابوں میں ہے وہی پڑھا دیں بلکہ ایک طالب علم کو معاشرے کے لیے نفسیاتی طور پر تیار کرنا ہوگا خاص طور پر طالبات کی تعلیم میں۔ کیونکہ طالبات کے لیے تعلیم صرف کتاب اور نصاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں اپنے فیصلے کرنے، اپنی بات کہنے اور معاشرے کے مختلف حالات کا سامنا کرنے کے قابل بھی بنانا ہوگا۔ میں نے بہت سی چیزوں کا گہرائی سے مشاہدہ کیا ہے۔ ہر ایک طالب علم میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ پر کام کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کے ذریعے معاشرے کو تشکیل دے سکے اور معاشرے کے مسائل کا سامنا بھی کر سکے۔میرے نزدیک ایک اچھا استاد وہ نہیں جو صرف اپنا نصاب مکمل کر دے، بلکہ وہ ہے جو اپنے طالب علم کو سمجھ سکے۔ جو یہ محسوس کر سکے کہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا طالب علم صرف ایک نام یا ایک حاضری نمبر نہیں بلکہ اپنی ایک الگ سوچ، الگ گھر، الگ مسئلہ، الگ خواب اور الگ نفسیات رکھنے والا انسان ہے۔۔اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ کالج کے لیکچرر کو صرف مضمون کا استاد نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے طالب علم کا رہنما بھی ہونا چاہیے۔ اسے طالب علم کے رویے کو سمجھنا ہوگا اس کی سوچ کو جگہ دینی ہوگی اسے سوال کرنے کی آزادی دینی ہوگی اور اس کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ پیدا کرنی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں