بلوچستان کا سمندر لٹ رہا ہے


تحریر: زبیر بلوچ
بلوچستان کا وسیع ساحل صرف نیلے پانیوں کا ایک پھیلا ہوا سلسلہ نہیں بلکہ ہزاروں غریب ساحلی خاندانوں کی زندگی ان کے بچوں کی تعلیم گھروں کے چولہے اور نسلوں سے چلے آنے والے روزگار کا واحد سہارا ہے مگر آج یہی سمندر غیر قانونی ٹرالنگ، ممنوعہ وائر نیٹ، گجہ، باریک جال، سمندری آلودگی اور سمندری وسائل کے بے دریغ استحصال کے باعث تباہی کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں رہنے والا چھوٹا ماہی گیر صبح سویرے اپنی معمولی کشتی اور جال لے کر سمندر میں اترتا ہے کئی کئی گھنٹے لہروں سے لڑتا ہے اور اس امید پر گھر سے نکلتا ہے کہ آج اتنی مچھلی ضرور مل جائے گی جس سے بچوں کے لیے راشن گھر کا خرچ اور ان کی تعلیم کا بندوبست ہوسکے مگر افسوس کہ آج یہی غریب ماہی گیر مچھلی کی کمی کے ساتھ ساتھ بڑے ٹرالرز ممنوعہ جال اور طاقتور کشتیوں کے باعث اپنے روزگار اور جان دونوں کے خطرے سے دوچار ہے۔ ایک طرف بڑے ٹرالر سمندر کی تہہ تک جال گھسیٹ کر مچھلی کے قدرتی ذخائر کو تباہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف وائر نیٹ گجہ اور باریک جال چھوٹی اور کم عمر مچھلی سمیت سمندری حیات کی بڑی مقدار کو ختم کر رہے ہیں جبکہ سمندری آلودگی ، کچرے ، گندے پانی اور دیگر انسانی سرگرمیوں نے ساحلی ماحول کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ لیکن اس پورے بحران کا سب سے زیادہ بوجھ اسی چھوٹے ماہی گیر پر پڑ رہا ہے جس کے پاس نہ متبادل روزگار ہے نہ بڑے کاروبار کے وسائل اور نہ ہی اتنی مالی طاقت کہ وہ بار بار اپنا جال اور کشتی مرمت کروا سکے۔

ماہی گیروں کی ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ بعض بڑی بیرونی کشتیاں اور ٹرالرز چھوٹی مقامی کشتیوں کے قریب آکر ان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بعض مواقع پر مبینہ طور پر پتھراو¿ کیا جاتا ہے دھمکایا جاتا ہے ان کے جال کاٹ دیے جاتے ہیں یا جال کاٹ کر ساتھ لے جائے جاتے ہیں جس سے غریب ماہی گیر کو ہزاروں روپے بلکہ بعض اوقات لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس جال کو ایک غریب ماہی گیر اپنی جمع پونجی خرچ کرکے خریدتا ہے وہ اس کے لیے صرف جال نہیں ہوتا بلکہ اس کے بچوں کی فیس ، گھر کا راشن ، بجلی کا بل ، کشتی کا ایندھن اور پورے خاندان کی امید ہوتا ہے۔ اگر کوئی بڑی کشتی اس جال کو کاٹ کر لے جائے تو ماہی گیر کے لیے نیا جال خریدنا آسان نہیں ہوتا اور وہ قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایک جال کے نقصان سے صرف ایک دن کی آمدن ختم نہیں ہوتی بلکہ کئی دنوں اور بعض اوقات کئی ہفتوں کا روزگار متاثر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹی کشتی کا ماہی گیر سمندر میں اپنی روزی تلاش کرنے کے لیے نکلتا ہے تو اسے اپنی جان اور جال کے تحفظ کی فکر کیوں ہونی چاہیے؟ کیا سمندر میں طاقتور کشتی کے سامنے چھوٹی کشتی بے بس رہے گی؟ کیا قانون صرف غریب ماہی گیر کے لیے ہے؟ اگر کسی بڑی کشتی کی جانب سے چھوٹی کشتی کے ماہی گیروں کو مبینہ طور پر پتھراو ، دھمکی ، جال کاٹنے یا نقصان پہنچانے کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔

بلوچستان کے ساحلی ماہی گیر پہلے ہی کئی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں مناسب جیٹیوں کی کمی برف اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات کا فقدان مچھلی کی مناسب مارکیٹ نہ ہونا کم قیمت پر مچھلی فروخت کرنے کی مجبوری کشتیوں کی مرمت کے مسائل مہنگا ایندھن مہنگے جال صاف پانی کی عدم دستیابی صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کی کمی اور متبادل روزگار نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی ماہی گیر اپنی کشتی یا جال کے لیے قرض لیتے ہیں اور پھر پورا سال سمندر میں محنت کرکے قرض اتارتے ہیں ایسے میں اگر غیر قانونی ٹرالنگ یا کسی بڑی کشتی کی وجہ سے ان کا جال تباہ ہوجائے تو پورا خاندان معاشی بحران کا شکار ہوجاتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں مچھلی کی مناسب قیمت نہ ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماہی گیر سمندر سے مچھلی پکڑ کر لاتا ہے لیکن اسے فوری طور پر فروخت کرنا پڑتی ہے کیونکہ اس کے پاس مچھلی محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج یا مناسب برف کی سہولت نہیں ہوتی نتیجتاً بعض اوقات اسے اپنی محنت کی مچھلی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ دوسری جانب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ چھوٹے ماہی گیر کے لیے سمندر میں جانا مزید مشکل بنا دیتا ہے کیونکہ کشتی کا ایندھن جال کی مرمت کشتی کی دیکھ بھال اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد اس کے ہاتھ میں بہت کم رقم بچتی ہے۔ ڈام ، سونمیانی ، میانی ہور ، کنڈ ملیر ، گڈانی ، اورماڑہ ، پسنی ، گوادر اور جیوانی تک ساحلی آبادیوں کی ایک بڑی تعداد کا معاشی انحصار سمندر سے وابستہ ہے مگر ترقیاتی منصوبوں ساحلی سرمایہ کاری اور سرکاری اعلانات کے باوجود مقامی ماہی گیر آج بھی اپنے بنیادی مسائل کے حل کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں محفوظ فشنگ زونز ، جدید جیٹیاں ، کشتیوں کے لیے محفوظ مقامات ، برف اور کولڈ اسٹوریج ، مچھلی کی مناسب مارکیٹ ، جال اور کشتیوں کی مرمت کی سہولیات ، صحت ، تعلیم اور پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی ساحلی معیشت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے مقامی ماہی گیر کو تحفظ اور سہولت دینا ہوگی۔ وائر نیٹ گجہ اور باریک جال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان میں صرف بڑی مچھلی ہی نہیں بلکہ چھوٹی اور کم عمر مچھلی بھی بڑی تعداد میں پھنس جاتی ہے جس سے مچھلی کی آئندہ نسل متاثر ہوتی ہے۔ آج ایک چھوٹی مچھلی کو پکڑنا معمولی بات محسوس ہوسکتی ہے لیکن یہی مچھلی کل بڑی ہوکر ماہی گیر کے روزگار کا ذریعہ بننی تھی۔ اگر افزائش سے پہلے ہی بڑی تعداد میں مچھلیاں جالوں کی نذر ہوتی رہیں تو آنے والے دنوں میں سمندر مزید خالی اور ماہی گیر مزید غریب ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سمندری آلودگی بھی ایک خاموش خطرہ ہے۔ کچرا ، پلاسٹک ، گندا پانی اور دیگر آلودہ مواد سمندر میں جانے سے نہ صرف سمندری حیات متاثر ہوتی ہے بلکہ ماہی گیروں کے جال بھی خراب ہوتے ہیں اور مچھلی کے قدرتی مسکن تباہ ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے ساحل پر ایک طرف سمندری وسائل کا بے دریغ استعمال جاری ہے تو دوسری طرف وہی وسائل جن پر ہزاروں خاندانوں کا انحصار ہے تیزی سے کم ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سندھ سے آنے والے بعض ٹرالرز اور دیگر بیرونی کشتیوں کی جانب سے غیر قانونی شکار کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں تاہم سندھ سے تعلق رکھنے والے ہر ماہی گیر کو غیر قانونی قرار دینا درست نہیں۔ اصل مسئلہ غیر قانونی سرگرمی ہے۔ جو بھی کشتی بلوچستان کے پانیوں میں قانون کی خلاف ورزی کرے ممنوعہ جال استعمال کرے غیر قانونی ٹرالنگ کرے یا مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور املاک کو نقصان پہنچائے اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے چاہے اس کا تعلق بلوچستان سے ہو سندھ سے یا کسی بھی دوسرے علاقے سے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ ماہی گیر یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک چھوٹا ماہی گیر معمولی خلاف ورزی پر قانون کی گرفت میں آسکتا ہے تو بڑے ٹرالرز کے خلاف وہی قانون پوری طاقت سے کیوں حرکت میں نہیں آتا؟ اگر ممنوعہ جال پر پابندی ہے تو یہ جال سمندر میں کیسے پہنچتے ہیں؟ اگر ٹرالنگ ممنوع ہے تو ساحلی علاقوں میں بڑے ٹرالرز کی موجودگی کیسے ممکن ہوتی ہے؟ اگر نگرانی کا نظام موجود ہے تو چھوٹی کشتیوں کے جال کاٹے جانے اور ماہی گیروں کو نقصان پہنچانے کی شکایات بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟ محکمہ فشریز کی ذمہ داری صرف لائسنس جاری کرنے کاغذات چیک کرنے یا کارروائی کی پریس ریلیز جاری کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ سمندر میں عملی نگرانی ٹرالرز کی سخت چیکنگ ممنوعہ جال کے خلاف مستقل کریک ڈاو¿ن فشنگ زونز کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی ضروری ہے۔ ماہی گیروں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایسا موثر نظام ہونا چاہیے جہاں جال کاٹنے کشتی کو نقصان پہنچانے یا دھمکانے جیسے واقعات کی فوری رپورٹ درج ہو تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ ماہی گیر کو انصاف مل سکے۔ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ ساحلی علاقوں میں مستقل مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کرے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹرالرز کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے ممنوعہ جال کے استعمال کو روکے چھوٹی کشتیوں کے لیے محفوظ فشنگ زونز مختص کرے افزائشِ نسل کے علاقوں کو محفوظ بنائے سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے اور مقامی ماہی گیروں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ ماہی گیروں کو سستی یا آسان شرائط پر جال، کشتیوں کی مرمت، برف، کولڈ اسٹوریج اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرسکیں۔ ساتھ ہی سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کے لیے حفاظتی تربیت ہنگامی رابطے اور ریسکیو سہولیات بھی بہتر بنائی جائیں تاکہ کسی حادثے یا بڑے ٹرالر کے ساتھ تصادم کی صورت میں فوری مدد پہنچ سکے۔

بلوچستان کا ساحل صرف بڑے منصوبوں بندرگاہوں اور سرمایہ کاری کا نام نہیں اس ساحل کی اصل روح وہ غریب ماہی گیر ہے جو نسلوں سے سمندر کی لہروں میں اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ اگر اسی ماہی گیر کا جال محفوظ نہیں اس کی کشتی محفوظ نہیں اس کی جان محفوظ نہیں اور اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں تو ساحلی ترقی کے دعوے ادھورے رہیں گے۔ سمندر کو بچانے کا مطلب صرف مچھلی کو بچانا نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے اس کے روزگار ثقافت اور مستقبل کو بچانا ہے۔ اگر آج غیر قانونی ٹرالنگ ، وائر نیٹ ، گجہ ، باریک جال ، سمندری آلودگی اور چھوٹی کشتیوں کے ماہی گیروں کو درپیش مسائل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو کل مچھلی کے ذخائر مزید کم ہوسکتے ہیں اور ہزاروں ساحلی خاندان معاشی مشکلات کی دلدل میں دھنس سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کاغذی دعووں کے بجائے سمندر میں عملی کارروائی نظر آئے بڑے اور چھوٹے سب کے لیے قانون برابر ہو غیر قانونی ٹرالنگ کا خاتمہ کیا جائے ممنوعہ جال ختم کیے جائیں چھوٹی کشتیوں کے جال اور ماہی گیروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے سمندری آلودگی پر قابو پایا جائے اور ساحلی آبادیوں کو وہ بنیادی سہولیات دی جائیں جن کی وہ دہائیوں سے منتظر ہیں۔ کیونکہ جس سمندر نے نسلوں سے بلوچستان کے ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے جلائے ہیں اگر وہ چند طاقتور عناصر کے ہاتھوں لٹتا رہا تو ایک دن نقصان صرف سمندر اور مچھلی کا نہیں ہوگا بلکہ بلوچستان کے ہزاروں ساحلی خاندانوں کے مستقبل کا ہوگا۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں