پاکستان کے قیام میں سندھ کا کردار اور جشنِ آزادی

14 اگست ہماری قومی تاریخ کا وہ اہم دن ہے، جس کے ساتھ آزادی، قربانی، سیاسی جدوجہد اور ایک نئے ملک کے قیام کی یادیں وابستہ ہیں۔ 1947ء میں پاکستان کا قیام کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی طویل سیاسی جدوجہد، قربانیوں اور تاریخی فیصلوں کے بعد ایک نئی ریاست وجود میں آئی۔ اس جدوجہد میں سندھ کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سندھ محض پاکستان کے نقشے پر ایک صوبہ نہیں بلکہ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھنے والا خطہ رہا ہے۔ موئن جو دڑو سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی عظمت کا ثبوت ہے، جبکہ جدید دور میں بھی سندھ علم، ادب، تجارت اور سیاسی شعور کے حوالے سے اپنا منفرد مقام برقرار رکھتا ہے۔ سندھ کے لوگوں نے اپنی سیاسی شناخت اور حقوق کےلئے جدوجہد کی اور 1936ءمیں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبائی حیثیت حاصل ہوئی۔ اس تبدیلی نے سندھ کی سیاسی قیادت کے لیے ایک نیا موقع پیدا کیا، جس کے تحت وہ اپنے صوبے اور برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں زیادہ آزادی سے فیصلے کرسکے۔
پاکستان کی قیام کی تحریک میں سندھ کا ایک تاریخی فیصلہ 3 مارچ 1943ءکو سامنے آیا، جب سندھ اسمبلی میں جی۔ ایم۔ سید نے پاکستان کے قیام کی حمایت میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد منظور ہونے کے بعد سندھ برصغیر کی پہلی صوبائی اسمبلی بن گئی، جس نے پاکستان کے مطالبے کی کھلی سیاسی حمایت کی۔ یہ واقعہ سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دور میں سندھ کے کئی سیاسی رہنماو¿ں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے اور اپنی سیاسی سوچ کے مطابق کردار ادا کیا۔ سر عبداللہ ہارون نے مسلم لیگ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ جی۔ ایم۔ سید نے سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد پیش کرکے تاریخ میں اپنا نام درج کرایا۔ اللہ بخش سومرو سمیت دیگر رہنماو¿ں کے سیاسی مو¿قف مختلف رہے، لیکن اس پورے دور میں سندھ سیاسی بحث اور فیصلہ سازی کا ایک اہم مرکز بنا رہا۔ اسی لیے پاکستان کے قیام کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سندھ کے سیاسی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کے ساتھ سندھ کا تعلق قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کی وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قائداعظم 25 دسمبر 1876ءکو کراچی میں پیدا ہوئے، جو اس وقت سندھ کا ایک اہم تجارتی اور ساحلی شہر تھا۔ ان کی زندگی آئینی جدوجہد، سیاسی بصیرت اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے مسلسل کوششوں سے وابستہ رہی۔ انہوں نے مسلم لیگ کو ایک منظم سیاسی قوت بنانے اور مسلمانوں کےلئے ایک علیحدہ سیاسی مستقبل کے مطالبے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1940ءکی قراردادِ لاہور کے بعد پاکستان کے مطالبے کو مزید منظم سیاسی قوت ملی اور بالآخر 14 اگست 1947ءکو پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ آزادی کے بعد کراچی کو ملک کا دارالحکومت بنایا گیا۔ ابتدائی دور میں کراچی سیاسی، انتظامی اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا۔ نئے ملک کو اداروں، انتظامی ڈھانچے اور معاشی نظام کی تعمیر کے لیے جن وسائل اور شہروں کی ضرورت تھی، ان میں کراچی کی حیثیت نمایاں تھی۔ اس طرح پاکستان کے قیام سے پہلے بھی سندھ کا کردار اہم رہا اور آزادی کے بعد نئی ریاست کی بنیادیں مضبوط کرنے میں بھی سندھ پیش پیش رہا۔
1947ءکے بعد پاکستان کو جن حالات سے گزرنا پڑا، وہ کسی بھی نئے ملک کےلئے انتہائی مشکل تھے۔ ایک طرف لاکھوں لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے، تو دوسری طرف نئی ریاست کے پاس محدود مالی اور انتظامی وسائل تھے۔ سرکاری ادارے قائم کرنا، ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کی آبادکاری، معاشی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور دفاعی ضروریات پوری کرنا بڑے چیلنجز تھے۔ ایسی صورتحال میں کراچی نئے ملک کی انتظامی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ بندرگاہ کے ذریعے تجارت میں اضافہ ہوا، صنعتوں کو فروغ ملا، بینکاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ اسی طرح سندھ کی زراعت نے ملک کی غذائی اور صنعتی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ گندم، چاول، کپاس، گنے اور دیگر فصلوں کی پیداوار قومی معیشت کا اہم حصہ بنی۔ سندھ کی زرعی زمین، بندرگاہیں، صنعت، تجارت اور انسانی وسائل نے نئی ریاست کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔
لیکن پاکستان کے قیام کا مقصد صرف ایک نئی سرحد قائم کرنا نہیں تھا۔ آزادی کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا خواب بھی وابستہ تھا، جہاں انسان کو عزت، انصاف اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔ قائداعظم نے اپنے خطابات میں اتحاد، نظم و ضبط، قانون کی حکمرانی اور شہری برابری پر زور دیا۔ اسلیے 14 اگست کو صرف جشن، جھنڈوں اور روشنیوں تک محدود کرنے کے بجائے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آزادی کے اصل مقاصد میں سے ہم نے کتنا حاصل کیا ہے۔ کیا ہر بچے کو معیاری تعلیم مل رہی ہے؟ کیا نوجوانوں کےلئے روزگار کے مناسب مواقع موجود ہیں؟ کیا عام آدمی کو صحت، صاف پانی اور بنیادی سہولیات آسانی سے دستیاب ہیں؟ کیا قانون سب کےلئے برابر ہے؟ یہ سوالات ہمارے قومی سفر کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہیں۔ آزادی کا مفہوم اس وقت مکمل ہوگا جب ملک کا ہر شہری اپنی جان، مال، عزت اور مستقبل کے بارے میں خود کو محفوظ سمجھے اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کےلئے مساوی مواقع حاصل کرے۔
1947ءسے 2026ءتک پاکستان نے 79 سال کا سفر مکمل کیا ہے۔ اس طویل سفر میں ملک نے کئی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن بہت سی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ سیاسی عدم استحکام، مارشل لاو¿ں، جنگوں، آئینی بحرانوں، معاشی مشکلات، دہشت گردی اور قدرتی آفات نے ملک کے سفر کو مشکل بنایا۔ اس کے باوجود پاکستان نے دفاع، ایٹمی ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، صنعت، زراعت، کھیلوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آج بھی ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، توانائی، پانی، تعلیم، صحت اور معاشی استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا حل ایک دوسرے کو الزام دینے میں نہیں بلکہ مستقل پالیسیوں، مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی میں ہے۔
ملک اسی وقت آگے بڑھے گا جب سیاسی اختلافات کو دشمنیوں کے بجائے جمہوری مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے گا اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرے گا۔
اقتصادی استحکام کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی پائیدار نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، پانی کی بچت اور منڈیوں سے جوڑنا ضروری ہے۔ صنعت کو توانائی، جدید مشینری، تربیت یافتہ افرادی قوت اور برآمدی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت نوجوانوں کے لیے روزگار اور عالمی منڈی تک رسائی کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔ تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے تحقیق، تخلیق، فنی تربیت اور عملی مہارتوں سے جوڑنا ہوگا۔ ملک کی اصل دولت قدرتی وسائل کے ساتھ اس کے انسان بھی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، صحت مند، باصلاحیت اور معاشی طور پر مضبوط نسل ہی پاکستان کو ترقی کے پائیدار راستے پر لے جاسکتی ہے۔
پاکستان کے مضبوط مستقبل کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، روایات اور تاریخوں کا مجموعہ ہے۔ قومی یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے تمام قوموں اور علاقوں کی شناخت ختم کرکے یکسانیت پیدا کی جائے؛ حقیقی یکجہتی تو مختلف شناختوں کو احترام دینے سے پیدا ہوتی ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت تمام صوبوں کو آئینی حقوق، مناسب نمائندگی اور ترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خودمختاری، آئینی اداروں کا احترام اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ مضبوط وفاق اور صوبائی خودمختاری ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں؛ حقیقت میں آئین کے دائرے میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہی وفاق کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہوگا کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور قومی وسائل میں انہیں انصاف ملے گا، تو ریاست، عوام اور صوبوں کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
آج جشنِ آزادی کے موقع پر ہماری سب سے بڑی ذمہ داری نئی نسل کو اپنی تاریخ کے بارے میں درست، متوازن اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرنا ہے۔ نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ پاکستان ایک دن میں وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے طویل سیاسی جدوجہد، قربانیاں اور تاریخی فیصلے شامل تھے۔ سندھ اس سفر کا اہم حصہ رہا ہے اور آج بھی پاکستان کی معاشی، زرعی، صنعتی اور ثقافتی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ اس لیے 14 اگست صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ مستقبل کے لیے اپنے عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ وطن سے محبت کا حقیقی مطلب صرف جھنڈا لہرانا، نعرے لگانا یا تقریبات منعقد کرنا نہیں؛ اصل محبت ایمانداری سے اپنا کام کرنے، قانون کی پاسداری، علم حاصل کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام، کرپشن سے اجتناب اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں ہے۔ ہمیں ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہوگا جہاں انصاف طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہو، قانون سب پر یکساں لاگو ہو، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں، خواتین اور بچوں کو محفوظ ماحول حاصل ہو، صوبوں کو ان کے آئینی حقوق ملیں اور ہر شہری اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید ہوسکے۔ 14 اگست کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ آزادی کو صرف جشن نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے انصاف، برابری، اتحاد اور قانون کی حکمرانی پر مبنی پاکستان کی تعمیر کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں