وندر‘ لڑکی اغواءمتاثرہ خاندان کا وندر پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنا

سونمیانی وندر(نمائندہ بلوچستان آبزرور) 30 جون 2026
وندر کے زرعی علاقے باندیکہ سے دوشیزہ اغواءمتاثرہ خاندان کے ہمراہ سینکڑوں کی تعداد میں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے وندر پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے بصورتِ دیگر روڈ بلاک اور سخت احتجاج کیا جائے گا مظاہرین کی میڈیا سے گفتگو۔ قبائلی عمائدین میر فتح خان جاموٹ ، وڈیرہ محمد سلیمان انگاریہ ، محمد آچار برہ ، سابق وائس چیئرمین عبدالقادر دودا ، وڈیرہ محمد امین دودا ، فتح محمد دودا ، عظیم اللّٰہ دودا ، مہر علی دودا ، اللّٰہ ڈنہ دودا ، وڈیرہ الطاف برہ ، چیئرمین امام بخش برہ ، وائس چیئرمین عبدالحمید رونجہ ، مصطفیٰ برہ ، عیسیٰ برہ ، اصغر موندرہ ، عبدالعزیز انگاریہ ، ٹھیکدار حاجی ایوب انگاریہ و دیگر نے متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بلوچ قبائلی روایات کے سراسر خلاف ہے ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے ورنہ ایسی حرکت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس موقع پر ایس ایچ او وندر عبدالحق موسیانی نے مظاہرین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ملزمان کہیں بھی ہوں بچ نہیں سکتے درخواست کنندہ کے فراہم کردہ معلومات کے تحت ڈیٹا اکھٹا کر لیا ہے جلد ملزمان ٹریس ہونگے۔ احتجاجی مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں باندیکہ سے دوشیزہ کو اغواء کیا گیا جس کی اطلاعی رپورٹ تھانے میں دی گئی اپنے طریقے سے بہت تلاش کیا گیا تاہم سراغ ملا ہے کہ اسے سندھ لے جایا گیا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ اسے ڈرا دھمکا کر کورٹ نکاح یا کسی اور طرح سے نقصان پہنچایا جائے گا۔ پولیس فوری ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے۔ مظاہرین کی جانب سے گل حسن اور خلیل نامی افراد بتائے گئے جو اغواء کاری عمل میں ملوث بتائے جارہے ہیں پولیس کی جانب سے یقین دہانی پر علاقہ معززین نے مظاہرین کو فی الوقت احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی جس پر عارضی طور پر احتجاج موخر کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں