تربت ‘بالی اسکلز ہب کے پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس اور 15 میں لیپ ٹاپ تقسیم

تربت (یلان زامرانی)بالی اسکلز ہب کے پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس اور 15 میں لیپ ٹاپ تقسیم جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو دنیا سے جوڑا جاسکتا ہے، تقریب سے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کا خطاب بالی اسکلز ہب تربت کے زیر اہتمام تربت پریس کلب کے آڈیٹوریم میں فارغ التحصیل طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی اور میزبانی شاہ دوست دشتی تھے۔ تقریب میں بالی اسکلز ہب کے پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس جبکہ 15 طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا عمل جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے ممکن ہے جب کہ موجودہ دور میں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم انتہائی ضروری ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہنرمند شخص دنیا کے کسی بھی حصے میں جائے اس کی مہارت روزگار کے حصول کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے اور اسے دنیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی حاصل کردہ مہارتوں کو سماجی بہتری، ثقافت کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پلاسٹک بیگز کے متبادل کے طور پر ماحول دوست اور ثقافتی مصنوعات موجود ہیں، جنہیں کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے عالمی سطح پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ یاسر اقبال دشتی نے بالی اسکلز ہب کے قیام اور شاہ دوست دشتی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے کے مثبت پہلوو¿ں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسنگ کے ذریعے نوجوان اپنی تجارت اور معیشت کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ معاشرے کو جدید علوم سے فائدہ پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بالی اسکلز ہب کے اونر شاہ دوست دشتی نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے بہرہ مند کرنے کے مقصد سے بالی اسکلز ہب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بیچ کے 120 طلبہ و طالبات نے کورس مکمل کیا ہے۔ دنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطیر آمدنی حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے جب کہ دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید علوم اور مہارتیں حاصل کررہے ہیں، اس لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی اس میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ تربت پریس کلب کے سینئر صحافی طارق مسعود نے کہا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، ہمارے پاس مواقع موجود ہیں تاہم نوجوانوں کو مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شاہ دوست دشتی کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ جماعت اسلامی کیچ کے امیر غلام اعظم دشتی نے کہا کہ بلوچ خواتین کے ملبوسات اور کشیدہ کاری ایک بڑا ثقافتی و معاشی سرمایہ ہے، جسے سوشل میڈیا اور جدید مارکیٹنگ کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ تقریب سے کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات نے بھی اظہار خیال کیا اور بالی اسکلز ہب کے زیر اہتمام کورس کے انعقاد کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے شاہ دوست دشتی کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیاگیا۔ تقریب میں انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، اعجاز علی محمد جوسکی، پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریحان دشتی، انجمن تاجران مکران کے صدر اسحاق روشن دشتی، کیچ تھیلیسمیا کیئر سینٹر کے سربراہ ارشاد عارف، میران حیات، محراب بلوچ، اسپورٹس آفیسر کیچ غفار دشتی، جمیل عمر، سماجی رہنما احد الٰہی میروزئی سمیت طلبہ و طالبات اور ان کے والدین و سرپرستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفکیٹس جبکہ نمایاں طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں