اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ امور کو سیاسی تنازعات اور سکیورٹی معاملات سے الگ رکھنے پر زور دیتے ہوئے دونوں جانب کی واضح ذمہ داریوں کے تعین کے ساتھ قابلِ تصدیق سکیورٹی نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اتوار کو پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر ضیاءالحق سرحدی (ستارہ امتیاز) اور بورڈ ڈائریکٹر (افغان چیپٹر) احمد شاہ یارزادہ نے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ طویل عرصے سے جاری سرحدی بندش کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی اختلافات اور سکیورٹی مسائل سے الگ کرنا زیادہ مو¿ثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا قابلِ تصدیق سکیورٹی میکنزم ہونا چاہیے جس میں ذمہ داریاں واضح، نگرانی کا موثر نظام موجود اور خلاف ورزیوں کی صورت میں کارروائی کا طریقہ کار متعین ہو۔تاجروں نے کہا کہ مقصد محض سرحدیں بند کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس سے سکیورٹی مضبوط ہو، دہشت گردی کا مو¿ثر تدارک کیا جائے، جائز تجارت جاری رہے، کاروبار اور روزگار محفوظ رہیں اور پاکستان افغانستان، عالمی و وسطی ایشیائی منڈیوں کیلئے مو¿ثر ترین تجارتی گیٹ وے کی حیثیت برقرار رکھے۔انہوں نے 10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ اور سرحدی گزرگاہوں کی یکطرفہ بندش سے آیا خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی بہتری آئی ہے یا دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی ہے؟انہوںنے کہاکہ تجارت اور ٹرانزٹ کی بندش پر حد سے زیادہ انحصار کے فیصلے کے معاشی اور تزویراتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا۔ اس پالیسی سے سکیورٹی مسئلے کا فیصلہ کن حل تو سامنے نہیں آیا، تاہم تاجروں، برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں، کسٹمز ایجنٹس، مزدوروں اور سرحد پار تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو بھاری اور بعض صورتوں میں ناقابلِ تلافی معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔تاجروں کے مطابق اس صورتحال سے صرف افغانستان ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ پاکستان کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان ایک اہم برآمدی منڈی، ٹرانزٹ آمدن اور افغانستان و وسطی ایشیا کیلئے قدرتی تجارتی راہداری کی حیثیت سے محروم ہو رہا ہے، جبکہ دوطرفہ تجارت میں نمایاں کمی اور پاکستان کے ذریعے افغان ٹرانزٹ تجارت تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان سے جڑے سرحدی عسکریت پسند حملوں کے حوالے سے جائز اور سنگین سکیورٹی خدشات لاحق ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم تجارتی راستوں کی بندش بنیادی سکیورٹی مسئلے کے حل کا متبادل نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بتدریج ایران اور وسطی ایشیا کے راستے اپنی تجارت منتقل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں طویل سرحدی بندش افغانستان کو تنہا کرنے کے بجائے پاکستان کے اپنے معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کو کم کر سکتی ہے۔تاجروں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے نتائج واضح ہیں؛ کاروبار تباہ، سرمایہ کاری کا اعتماد متاثر، سپلائی چینز منقطع اور روزگار کے مواقع محدود ہوئے ہیں، جبکہ سرحد کے دونوں جانب ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی پالیسی کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو، کاروبار اور روزگار تباہ ہوں، افغانستان متبادل تجارتی راستوں کی طرف منتقل ہو، پاکستان کی علاقائی ٹرانزٹ حب کی حیثیت کمزور ہو اور اس کے باوجود دہشت گردی میں واضح اور پائیدار کمی نہ آئے تو کیا ایسی پالیسی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھا جانا چاہیے؟انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاہم تجارت، ٹرانزٹ اور معاشی تعلقات کو مو¿ثر انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے زور دیا کہ تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے کیونکہ دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت خطے کے لاکھوں غریب خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور دوطرفہ و ٹرانزٹ تجارت کی بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے
پاک افغان تاجروں کا دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ امور کو سیاسی تنازعات اور سکیورٹی معاملات سے الگ رکھنے پر زور
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل