لاہور۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کی ایک دوسرے پر سخت الزامات اور لفظی گولہ باری جاری ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سخت الزامات اور لفظی گولہ باری کی گئی۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک چلانے کی باتوں کے دوران بے بنیاد الزامات کیوں لگ رہے ہیں، اب سمجھ آجانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے سہیل آفریدی وزیراعلی بنے ہیں، اسی دن سے ان کے اور سہیل آفریدی کے خلاف منظم سازش کی جارہی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے بھی مشعال یوسفزئی کو فارغ کرنے کا کہا تھا، پارٹی میں ایک چھوٹا سا انتشاری گروپ موجود ہے جس سے ڈیل کرنا پڑے گا۔دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجہ کو جواب دیتے ہوئے سوال کیا کہ وہ انتشاری ٹولہ کسے کہتے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ کی پارٹی میں کسی سے بھی نہیں بنتی۔مشعال یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ ان کی شکایت پر بانی پی ٹی آئی نے سلمان اکرم راجہ کو ڈانٹا اور معافی بھی منگوائی جبکہ بشری بی بی نے بھی انہیں کہا تھا کہ سلمان اکرم راجہ ان سے بڑے ہیں اور انہیں اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے بھی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے سخت سوالات کیے۔انہوں نے پوچھا کہ امریکہ سے سیاسی قیدیوں کیلئے آنے والے 50کروڑ روپے کہاں گئے؟ جبکہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے دیئے گئے 40کروڑ روپے سے متعلق بھی سوال اٹھایا کہ وہ رقم کون لے گیا؟۔ کرپشن کے الزامات پر سلمان اکرم راجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غلاظت کو ہر طرف غلاظت ہی نظر آتی ہے
سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کی ایک دوسرے پر سخت الزامات اور لفظی گولہ باری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل