چمن ( نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ترجمان سابق سینیٹر مولانا حافظ حمداللہ کے بھتیجے اور مدرسہ تعلیم القرآن چمن کے نائب مہتمم و امام خطیب مولانا حافظ حمیداللہ کے نوجوان عالم دین بیٹے مولوی حسین احمد کے مبینہ اغوا کی خبر پر سماجی و سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ممبر یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان اور رکن مجلس شوریٰ جمعیت علماء اسلام صدر چمن حافظ محمد صدیق مدنی نے اپنے ایک مذمتی بیان میں اس واقعے پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مولوی حسین احمد کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے یا ان پر کسی قسم کا ذہنی و جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے تو یہ ایک نہایت سنگین، غیر انسانی اور آئین و قانون کے منافی اقدام ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مولوی حسین احمد کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، ان کے اہل خانہ کو حقائق سے فوری آگاہ کیا جائے اور اگر اس واقعے میں کوئی فرد یا ادارہ قانون شکنی کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے تمام سیاسی، مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں، علماء کرام، وکلاء، صحافی برادری اور باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر مؤثر آواز بلند کریں تاکہ مولوی حسین احمد کی جان و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان کے اہل خانہ کی بے چینی کا جلد از جلد خاتمہ ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولوی حسین احمد کو اپنی حفاظت میں رکھے، انہیں جلد از جلد خیریت کے ساتھ ان کے اہل خانہ سے ملا دے اور ملک میں امن، انصاف اور قانون کی بالادستی قائم فرمائے۔
مولوی حسین احمد کے مبینہ اغوا پر حافظ محمد صدیق مدنی کی شدید مذمت اور فوری بازیابی کا مطالبہ