تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے،‘ ڈاکٹر مالک بلوچ

تربت( نامہ نگار)سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت، طلبہ کو تعلیم، ثقافت اور تحقیق سے وابستہ رہنے کی تلقین عطا شاد ڈگری کالج تربت میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں ایک پروقار اور بامقصد استقبالیہ تقریب پروفیسر غلام رسول خالد آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ، معزز شخصیات، سینئر طلبہ اور نئے داخل ہونے والے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کی نظامت سال دوئم کے طلبہ میراج نصیر اور عبدالقدوس نے کی، جبکہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تقریب کے مختلف حصوں میں نئے طلبہ کا خیرمقدم، تعلیمی و فکری رہنمائی، ثقافتی اظہار اور کالج کی علمی و ہم نصابی سرگرمیوں کا تعارف شامل تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم حیدر حمزہ نے نئے طلبہ کو خوش آمدید کہا اور کالج میں اپنے تعلیمی تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں نئے تعلیمی ماحول سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ ریحان عزیز نے تقریب کے اختتام پر اظہارِ تشکر پیش کیا۔تقریب کا ایک نمایاں حصہ روایتی بلوچی ثقافتی پیشکش تھی۔ عبدالوہاب اور ان کی ٹیم نے روایتی بلوچی دوچاپی پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ اس ثقافتی پیشکش نے تقریب کو مقامی تہذیب و ثقافت کے رنگ سے مزید خوب صورت بنا دیا۔پرنسپل عطا شاد ڈگری کالج تربت پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، دیگر معزز مہمانوں، اساتذہ اور نئے طلبہ کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے نئے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول سے کالج میں داخلہ تعلیمی زندگی کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہے۔ اس مرحلے میں طلبہ کو نظم و ضبط، ذمہ داری، نئے ماحول سے ہم آہنگی اور اعلیٰ سطح کی تعلیم کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ پرنسپل نے کالج کی تعلیمی اقدار، اصول و ضوابط اور سازگار تعلیمی ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو سال بھر جاری رہنے والی ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور تقریبات کے سالانہ پروگرام سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو کالج کو درپیش بعض اہم مسائل اور ضروریات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے ادارے کے لیے ٹرانسپورٹ، پینے کے صاف پانی، کھیلوں کے لیے مناسب فنڈز اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بہتر سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب کا آغاز معروف بلوچی شاعر عطا شاد کے اشعار سے کیا۔ انہوں نے عطا شاد کی ادبی شخصیت اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی جس کے تحت اس عظیم ادیب و شاعر کے نام سے کالج کو موسوم کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تعلیم کی بنیادی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تہذیب نے زرعی انقلاب سے صنعتی انقلاب اور پھر جدید تکنیکی انقلاب تک ایک طویل سفر طے کیا ہے، اور ہر دور میں علم اور تعلیم نے انسانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اس لیے نوجوانوں کو اپنی تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے شخصیت، فکر اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان، ثقافت، ادب اور روایات سے مضبوط تعلق برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے صرف کتابی علم کے مراکز نہیں بلکہ تہذیبی اور ثقافتی شعور کے فروغ کے بھی اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے دوچاپی اور اتن جیسی روایتی ثقافتی سرگرمیوں کو تعلیمی اداروں میں مزید فروغ دینے اور انہیں مناسب پذیرائی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستقل مزاجی اور محنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے معروف فلسفی اور دانشور برٹرینڈ رسل کی مثال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ رسل نے تحریر و مطالعے کے لیے ایک منظم معمول اپنایا اور اپنی مسلسل محنت اور نظم و ضبط کے ذریعے ایک ممتاز مصنف اور دانشور کی حیثیت حاصل کی۔ انہوں نے پرنسپل کی جانب سے پیش کیے گئے کالج کے مسائل پر یقین دہانی کرائی کہ وہ ان معاملات کو متعلقہ سطح پر اٹھائیں گے اور ادارے کی ضروریات کے حل کے لیے ممکنہ تعاون کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کا شعبہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈویڑنل مانیٹرنگ آفیسر پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے اپنے علمی خطاب میں طلبہ کی فکری اور شخصی تربیت کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تنقیدی سوچ، مو¿ثر ابلاغ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کو موجودہ دور کے طلبہ کے لیے بنیادی مہارتیں قرار دیا۔انہوں نے معروف مصنف یووال نوح ہراری کی کتاب “21 Lessons for the 21st Century” کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کو محدود سوچ اور ذہنی رکاوٹوں سے نکلنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے سب سے قیمتی ذاتی وسائل، یعنی وقت، توجہ، توانائی اور جستجو کو بامقصد انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے معروف ماہرِ نفسیات میہالی چکسنٹ میہالی کے تصور “Flow” کا بھی ذکر کیا اور طلبہ کو توجہ اور ارتکاز پیدا کرنے، مفید تعلیمی عادات اپنانے اور خود سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔ تقریب کے دوران پروفیسر باقر علی شاکر نے کالج کے سالانہ علمی و ادبی جریدے “کیچ میگزین” کے حوالے سے طلبہ کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ایڈیشن میں طلبہ کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کے لیے 70 فیصد طلبہ اور 30 فیصد اساتذہ کی شمولیت کا اصول اپنایا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، ثقافت اور دیگر علمی و سماجی موضوعات پر مستند، معیاری اور تحقیقی مضامین تحریر کرکے میگزین کے لیے ارسال کریں، تاکہ کالج کے طلبہ کی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو وسیع تر سطح پر اجاگر کیا جاسکے۔تقریب میں ڈگری کالج تربت کے اساتذہ کے علاوہ، شہید ایوب ب±لیدئی ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر الٰہی بخش، عطا شاد ڈگری کالج کے سابق پرنسپل حاجی اکبر علی، گورنمنٹ انٹر کالج مند کے پرنسپل پروفیسر نجیب گل؛ اور اے ڈی ایم او شریف شمبے زئی سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ معزز مہمانوں نے نئے طلبہ کو کالج میں خوش آمدید کہا اور انہیں اپنی تعلیمی زندگی میں محنت، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنانے کی تلقین کی۔تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ڈویڑنل مانیٹرنگ آفیسر، معزز مہمانوں، فیکلٹی ممبران اور پروگرام کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والے سینئر طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔تقریب مجموعی طور پر تعلیمی رہنمائی، فکری تربیت، ادارہ جاتی تعارف، ثقافتی اظہار اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کا جامع امتزاج ثابت ہوئی۔ استقبالیہ پروگرام نے نئے طلبہ کو نہ صرف عطا شاد ڈگری کالج کے تعلیمی ماحول اور اقدار سے متعارف کرایا بلکہ انہیں کالج کی علمی، ادبی، ثقافتی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھی حوصلہ فراہم کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں