سونمیانی وندر(رپورٹ۔زبیر بلوچ)وندر ڈیم منصوبہ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم مزدوروں کے صبر کا پیمانہ لبریز مزدور سراپا احتجاج کام بند کر کے وندر ڈیم کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دے دیا ۔ چار ماہ سے اجرتیں نہ ملنے پر گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ ہم کسی خیرات یا امداد کے طلبگار نہیں بلکہ اپنی محنت اور خون پسینے کی وہ اجرت مانگ رہے ہیں جو ہمارا بنیادی حق ہے۔ چار ماہ تک تنخواہیں روک کر غریب محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی راشن اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ بقایا تنخواہیں فوری ادا کی جائیں۔ مزدوروں کا وندر ڈیم انتظامیہ سے مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق وندر ڈیم منصوبے پر یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے محنت کش گزشتہ چار ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ۔تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی سے تنگ آکر انہوں نے منصوبے پر کام بند کر کے بڑی تعداد میں ڈیم کے مرکزی گیٹ کے سامنے جمع ہوکر احتجاجی دھرنا دے دیا ۔ اس حوالے سے احتجاجی مزدوروں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور مشکل حالات کے باوجود روزانہ محنت و مشقت کرکے منصوبے پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں مگر چار ماہ کی اجرت نہ ملنے کے باعث غریب محنت کش شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر محنت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے غریب مزدوروں کے لیے مسلسل چار ماہ تک تنخواہوں کی بندش ناقابلِ برداشت ہے۔ گھریلو اخراجات، راشن، بچوں کی ضروریات اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ جبکہ کئی محنت کش ادھار لے کر گھروں کا نظام چلانے پر مجبور ہیں۔ احتجاجی مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چار ماہ کی تمام بقایا تنخواہیں بلا تاخیر ادا کی جائیں اور آئندہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ غریب محنت کش اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں اور ان کے گھروں کے چولہے دوبارہ جل سکیں۔
وندر ڈیم منصوبہ،4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم مزدور سراپا احتجاج کام بند
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل