تربت(نامہ نگار)بلوچستان کے معروف سیاسی رہبر و بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطااللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شہدائے شاہوانی اسٹیڈیم کی یاد میں ایک تعزیتی پروگرام تربت پریس کلب کے ہال میں منعقد کیا گیا۔بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کیچ کے زیر اہتمام بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاءاللہ خان مینگل کی پانچویں برسی اور شہدائے شاہوانی اسٹیڈیم کی مناسبت سے ایک تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و سماجی شخصیات، دانشوروں، وکلا، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلے حصے میں مقررین نے سردار عطا اللہ خان مینگل کی سیاسی زندگی، جدوجہد اور قومی سیاست میں ان کے کردار کے مختلف پہلوو¿ں پر اظہار خیال کیا جبکہ دوسرے حصے میں پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کی مرکزی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹر غفور بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں چار فوجی آپریشن کیے گئے، تاہم طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوئے۔ بلوچستان کو ماتھے کا جھومر قرار دینے کے بجائے عملی طور پر بھی اس کے ساتھ اسی قدر احترام کا رویہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور طاقت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں، اس لیے ایسے طریقوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ باغات جلانے اور تشدد کے ذریعے مسائل کے حل یا بہتری کی کوئی گنجائش نہیں۔پینل ڈسکشن میں بی ایس او کے سابق چیئرمین ڈاکٹر تاج بلوچ، بی این ایم کے سابق چیئرمین عیسیٰ ظفر، ایڈووکیٹ محراب خان گچکی اور نوجوان دانشور و تجزیہ نگار مقبول ناصر نے شرکت کی۔ڈاکٹر تاج بلوچ نے کہا کہ آج بلوچ قوم کے رہنما بلوچ نوجوان ہیں، اس لیے نوجوانوں پر قومی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔بی این ایم کے سابق چیئرمین عیسیٰ ظفر نے کہا کہ سردار عطاء اللہ خان مینگل کا سیاسی ایجنڈا واضح تھا، جس میں بلوچوں کی سیاسی وحدت اور بلوچ سرزمین کے حقوق کا تصور نمایاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان اور سیاسی کارکن اپنے اسلاف کے راستے سے ہٹ کر مفاد پرستی کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول اس صورتحال کی ذمہ داری صرف سیاسی رہنماو¿ں پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ سیاسی کارکنوں نے بھی اپنے اصل اہداف سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرہ آج بھی انتشار کا شکار ہے، تاہم نوجوانوں کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنے سیاسی اکابرین کے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے آگے بڑھیں۔ایڈووکیٹ محراب خان گچکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 1973 کا آئین، جس پر بلوچ سیاسی اکابرین نے بھی دستخط کیے تھے اور جسے ایک متفقہ آئین سمجھا جاتا تھا، اب اپنی اصل روح کے مطابق برقرار نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سردار عطائ اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی محور صوبائی خودمختاری تھا۔ ان کے مطابق میر غوث بخش بزنجو کی جانب سے پیش کردہ ایک تصور میں کرنسی، مواصلات اور خارجہ امور سمیت بعض اختیارات مرکز کے پاس رکھنے کی بات کی گئی تھی۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان مکران ریجن کے کوآرڈینیٹر پروفیسر غنی پرواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی مختلف اقوام میں مختلف ادوار میں ایسے قومی رہنما پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی قوموں کی رہنمائی کی، جن میں مصر کے جمال عبدالناصر، جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا اور بھارت کے جواہر لال نہرو سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطاءاللہ مینگل جیسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔پروفیسر غنی پرواز نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے جلاوطنی، قید و بند کی صعوبتیں اور دیگر مشکلات قوم کی خاطر برداشت کیں، تاہم اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل کے ساتھ دیگر 52 افراد کو بھی جیل میں قید کیا گیا، جبکہ ان کے صاحبزادے اسد اللہ مینگل کو کراچی سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ ان کے مطابق جب اس حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جنرل ٹکا خان سے دریافت کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ اسد اللہ مینگل جنگ میں مارے گئے اور ان کی لاش کوئٹہ کے راستے میں دفن کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سردار عطائ اللہ مینگل نے پشتون اور سندھی قوم پرست رہنماو¿ں کے ساتھ مل کر بھی سیاسی جدوجہد کی۔ ان کی جدوجہد کا محور صوبائی خودمختاری تھا۔ انہوں نے پہلے بلوچستان کو صوبے کا درجہ دلانے کے لیے جدوجہد کی اور صوبہ بننے کے بعد صوبائی خودمختاری کے لیے آواز بلند کی۔ وہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے پلیٹ فارم سے بھی سیاسی جدوجہد میں شریک رہے اور اسی سیاسی کردار کے باعث ان پر حیدرآباد سازش کیس قائم کرکے انہیں جیل میں قید کیا گیا۔ معروف بلوچ ادیب، محقق اور دانشور یوسف عزیز گچکی نے کہا کہ سردار عطاءاللہ خان مینگل ایک عظیم سیاسی رہنما اور قوم دوست شخصیت تھے۔ بلوچستان میں سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور گل خان نصیر جیسی سیاسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سردار عطائ اللہ مینگل نے بلوچ قوم کی سیاسی رہنمائی کی اور بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں وہ ایک منفرد قبائلی رہنما تھے جو انتخاب کے ذریعے قبائل کے سربراہ منتخب ہوئے۔ ان کے بقول سردار عطاء اللہ مینگل طویل عرصے تک زندانوں میں قید رہے، تاہم انہوں نے کبھی معافی نہیں مانگی۔نصیر احمد گچکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قومی تاریخ میں نواب خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی انمول کردار ہیں، جن کی سیاسی جدوجہد اور کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔تقریب کے دوران سردار عطائ اللہ خان مینگل کی حالاتِ زندگی اور سیاسی جدوجہد پر مبنی ایک ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی۔ تقریب میں بی این پی کے کارکنان کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی، جن میں پی این پی عوامی کے آرگنائزر میران حیات، داد جان سبزل، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا عاقل برکت زامرانی اور نیشنل پارٹی کے کہدہ حاصل زامرانی سمیت دیگر شامل تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مولانا عاقل برکت زامرانی نے حاصل کی، جبکہ نظامت کے فرائض بی این پی کے سیکریٹری جنرل شے ریاض احمد نے انجام دیے۔
تربت‘ سردار عطااللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شہدائے شاہوانی اسٹیڈیم کی یاد میں تعزیتی پروگرام
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل