کوئٹہ(پ ر) 30 جون 2026
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان نے گرینڈ الائنس کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے اور گرفتار ملازم رہنماو¿ں کی بلا تاخیر رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں اور تحریری معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔فیڈریشن کے صوبائی صدر علی بخش جمالی، صوبائی جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات عزیز اللہ کاکڑ اور دیگر عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے سرکاریملازمین اپنے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔مگر حکومت کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات اور مسائل کے حل کے بجائے گرفتاریاں اور دباو¿ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی طور مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا ملازمین کے ساتھ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے۔ ایک طرف ملازمین سے مذاکرات اور مسائل کے حل کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، جبکہ دوسری جانب طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس سے ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرے گی تو ملازمین کا اعتماد مجروح ہوگا اور احتجاجی فضا مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار تمام ملازم رہنماو¿ں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں، گرینڈ الائنس کے جائز مطالبات کو بلا تاخیر منظور کیا جائے اور ملازمین کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ریاستی اداروں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ عزت، احترام اور انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان ملازمین کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے گرینڈ الائنس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اگر حکومت نے اپنے رویے میں مثبت تبدیلی نہ لائی تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کابلوچستان گرینڈ الائنس کے مطالبات تسلیم اور اسیران کی رہائی کا مطالبہ