گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ سماجی اصلاحات اور نیٹ ورکنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ سماجی اصلاحات نے تعلیم، صحت، بنیادی حقوق، اختیارات، صنفی مساوات اور سماجی انصاف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم اصلاحات کو اکثر دانشوروں، کمیونٹی لیڈروں، سول سوسائٹی، میڈیا مراکز اور عام شہریوں پر مشتمل سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے متحرک اور برقرار رکھے جاتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک خیالات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرتے ہیں، رائے عامہ کو متحرک کرتے ہیں، تنقیدی شعور پیدا کرتے ہیں اور تبدیلی کیلئے اجتماعی کاوشوں کو تیز کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت چیئرمین بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک سید سلیم رضا ایڈووکیٹ نے کی۔ اس موقع پر بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹورک کے ممبران حاجی اسحاق مینگل، ڈاکٹر فرحت حسین، فائزہ سکندر، ڈاکٹر آمنہ سومرو، فاریہ بتول، شاکرہ علی، سحرش کاشف، ڈاکٹر ہما ??ظفر، فاطمہ خان، فردوس، ناہید کریم، ملیحہ حسین، ثریا جان، حمیدہ نورانی، عمران خان، نورانی، ہما، رضوانہ، انور علی خمیسانی اور سرمد علی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ شرکائ سے گفتگو میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ مو¿ثر سماجی اصلاحات کے نیٹ ورک دراصل اکیڈمک ڈائیلاگ اور عام شہریوں کی شرکت کو فروغ دیتے ہیں، جو معاشروں کو دیرینہ چیلنجوں سے نمٹنے اور بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کامیاب اصلاحات کیلئے مضبوط اداروں، عوامی اعتماد اور مشترکہ بھلائی کیلئے مشترکہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو سماجی اصلاحات اور سماجی بہتری کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرہں۔ اس ضمن میں بلوچستان ریفارمز سوشل نیٹ ورک کی سماجی اور فلاحی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کا بنیادی ستون ہوتی ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی کا خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو بلوچستان ریفارمز کی مختلف سماجی، فلاحی، تعلیمی اور خواتین کی ترقی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور ایکسپو کے افتتاح کرنے کیلئے دعوت دی۔
سماجی اصلاحات اور نیٹ ورکنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے‘جعفرمندوخیل
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل