کوہلو (نذر بلوچ قلندرانی) بلوچستان کے ضلع کوہلو میں محکمہ تعلیم کے کلسٹر بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر منصفانہ تقسیم کے باعث درجنوں اسکول بنیادی سہولیات اور کلسٹر بجٹ سے محروم ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کے بعض افسران اور متعلقہ ہیڈماسٹرز کی مبینہ ملی بھگت کے باعث متعدد اسکولوں کو تاحال کلسٹر بجٹ کے تحت فراہم کیے جانے والا ضروری سامان نہیں مل سکا، جس کے نتیجے میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں تعلیمی سال کا بڑا حصہ گزرنے کے باوجود ضلع کے متعدد اسکول ایسے ہیں جہاں کلسٹر بجٹ کے تحت فراہم کیا جانے والا سامان تاحال دستیاب نہیں، جبکہ بعض اسکول بنیادی تعلیمی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ کلسٹر بجٹ کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم کے باعث اساتذہ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے،

عوامی حلقوں کے مطابق ایک جانب حکومت بلوچستان تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور معیارِ تعلیم بہتر بنانے کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کوہلو کے متعدد اسکول چار دیواری، مناسب فرنیچر، واٹر کولر، واش رومز، کتابوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جو ضلع میں تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال پر سوالیہ نشان ہے، عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کوہلو سے رکن صوبائی اسمبلی نواب چنگیز خان مری، ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دمڑ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کلسٹر بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائے، تمام اسکولوں کو ان کا جائز بجٹ اور ضروری سامان فراہم کیا جائے اور بے ضابطگی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے
کوہلو: درجنوں اسکول بنیادی سامان سے محروم