لاہور (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو مہنگائی ، دہشت گردی، بلوچستان میں بدامنی اور آزاد کشمیر کی بگڑتی صورتحال جیسے سنگین داخلی مسائل درپیش ، بہتری کے لیے سنجیدہ قومی حکمت عملی اپنانا ہوگی ، جماعت اسلامی ساری صورتحال میں خاموش نہیں رہے گی، بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، عوامی رابطے بڑھائے جائیں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو منصورہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دو روزہ اجلاس میں ملک بھر سے مرد و خواتین اراکین شوریٰ شریک ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی بے مثال قربانیوں اور استقامت نے امریکہ اور اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم کر دیا ہے۔ دنیا پر غلبے کا دعویٰ کرنے والی طاقتوں کو فلسطینی عوام نے شکست دی اور اس کا اصل کریڈٹ اہلِ فلسطین کو جاتا ہے۔ انہوں نے ایران پر حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے بھی بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور یہ تاثر غلط ثابت کر دیا کہ ایران اندرونی طور پر تقسیم ہے۔ ایرانی عوام نے اتحاد کا ثبوت دیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار نے نہ صرف انہیں بلکہ امریکہ کو بھی عالمی سطح پر مذاق بنا کر رکھ دیا۔ مجلس شوریٰ عوامی مسائل کے حل، سیاسی کردار کے فروغ اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے اور اعلانات کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال مسلسل تشویشناک ہے، جماعت اسلامی نے صوبے میں حالات کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان کے چار مختلف مقامات پر بنوقابل کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کیے جائیں۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے مسئلے پر خاموش اور غیر متعلق نہیں رہ سکتی۔ آزاد کشمیر کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خطہ میں سیاسی عمل کو کمزور کیا گیا، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے ابتدائی مطالبات تو تسلیم کیے گئے، تاہم بعد میں اسمبلی میں راتوں رات تبدیلیاں کرکے ایسے شخص کو وزیر اعظم بنایا گیا جس کے ساتھ کوئی سیاسی قوت موجود نہیں تھی، اکثریت کو وزارتوں اور مشاورت کے ذریعے تقسیم کر دیا گیا
ملک مہنگائی ، سیاسی افراتفری، بدامنی کے سنگین مسائل کے نرغے میں ہے‘حافظ نعیم الرحمن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل