کراچی 27 جون 2026
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دبا ﺅکے باعث عوام کو متوقع ریلیف فراہم نہیں کیا، جبکہ بعض نے فیصلے کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی آرا میں بعض صارفین نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول کی قیمت کم نہ کیے جانے پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے مقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں پیٹرولیم لیوی، مختلف ٹیکسز، درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ، فریٹ چارجز اور دیگر مالی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی حکومت کو قیمتوں کے تعین سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)کی جانب سے حکومت کو ارسال کیے گئے ایک ہنگامی خط میں موقف اختیار کیا گیا کہ بامعنی مشاورت کے بغیر قیمتوں میں ردوبدل کے فیصلوں سے پیٹرولیم سیکٹر شدید مالی دباﺅ کا شکار ہو رہا ہے۔
پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ، سوشل میڈیا پر بحث، آئل کمپنیوں کے دبا سے متعلق سوالات اٹھنے لگے