عوام دشمن مسترد کرتے ہیں‘مظلوم عوامی تحریک

کوئٹہ (پ ر)مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے صوبائی صدر اسلم اچکزئی. روف آزاد. آغاجان ہمدرد. محمد دین خلجی. اسلم زرکون.سمیت دیگر رہنماو¿ں نے بلوچستان حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کردہ بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں عام عوام، سرکاری ملازمین، مزدوروں، بے روزگار نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں رکھا گیا، جو شدید مایوسی کا باعث ہے انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبے کے عوام اور ملازمین اس امید کے ساتھ بجٹ کے منتظر تھے کہ مہنگائی کےموجودہ طوفان اور معاشی مشکلات کے پیش نظر انہیں خصوصی ریلیف دیا جائے گا، مگر حکومت نے صرف سات فیصد تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرکے لاکھوں ملازمین کے ساتھ مذاق کیا ہے، جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی اور ناقابل قبول ہے۔اسلم اچکزئی نے کہا کہ حکومت ایک جانب بجٹ کو سرپلس اور ٹیکس فری قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے جبری ریٹائرمنٹ اور ملازمین کے خلاف اختیار کیے گئے اقدامات کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ایسے تمام فیصلوں پر فوری نظرثانی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں بے روزگاری، غربت اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، لہٰذا حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کرتی، بے روزگار نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے جامع پالیسی مرتب کرتی۔صوبائی صدر مظلوم عوامی تحریک پاکستان اسلم اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے عوامی امنگوں کے مطابق بجٹ میں ضروری ترامیم نہ کیں اور ملازمین و عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو مظلوم عوامی تحریک پاکستان عوام اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر آواز بلند کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں