پاکستان اس وقت جس سیاسی، معاشی اور سماجی صورتِ حال سے گزر رہا ہے، وہ محض حکومت اور اپوزیشن کے اختلافات تک محدود نہیں رہی، بلکہ ملک کے مجموعی نظامِ حکمرانی، اداروں کی کارکردگی، جمہوری نظام اور عوام کے مستقبل سے جڑا ایک سنگین بحران بن چکی ہے۔ سیاسی عدم استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ جب سیاسی قیادت کا زیادہ تر وقت اقتدار کی جنگ، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں صرف ہونے لگے تو عوام کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی کشمکش کا شکار ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت، انتظامی نظام، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر نمایاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ملک کو اس صورتِ حال سے نکالنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کو کبھی بھی مکمل طور پر مستحکم ہونے کا موقع نہیں ملا۔ جمہوری حکومتوں کی تبدیلی، غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت، سیاسی اتحاد، حکومتوں کی برطرفی اور اقتدار کی رسہ کشی کے باعث سیاسی نظام میں تسلسل پیدا نہیں ہو سکا۔ 2022ء میں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سیاسی محاذ آرائی میں مزید شدت آئی۔ 2024ء کے عام انتخابات کے بعد بھی سیاسی اختلافات ختم نہیں ہو سکے۔ حکمران اتحاد اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان عدم اعتماد، احتجاج، قانونی تنازعات اور پارلیمانی کشیدگی نے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یورپی یونین کی اکتوبر 2026ء کی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں بھی سیاسی کشیدگی، اپوزیشن کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں اور اداروں کے درمیان تنازعات کو ملک کے اہم مسائل قرار دیا گیا ہے۔
ملکی سیاسی بحران کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں پر عمل درآمد کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ حالانکہ اپوزیشن کا کام حکومت کے ہر فیصلے کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ حکومتی غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور بہتر متبادل حکمتِ عملی پیش کرنا ہے۔ اسی طرح حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھے۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پورے ملکی نظام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سیاسی عدم استحکام کے سب سے بڑے اثرات ملکی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بھاری بوجھ، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکس نظام کی کمزوریوں اور صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ جب ملک میں پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہیں رہتا تو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے اکتوبر 2026ء میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی شرحِ سود بڑھا کر 12 فیصد کر دی، جبکہ مرکزی بینک نے موجودہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا۔ اس صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کا سفر اب بھی کئی چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی کشیدگی معاشی بحالی کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
ملک کا ایک اور اہم مسئلہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جس سے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ یورپی یونین کے اکتوبر 2026ء کے سکیورٹی جائزے کے مطابق نومبر 2024ء سے جولائی 2026ء تک پاکستان میں مسلح تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ایسی صورتِ حال میں صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات، سرحدی انتظام، مقامی آبادی کی شکایات، تعلیم، روزگار اور سیاسی محرومیوں کو بھی سنجیدگی سے حل کرنا ضروری ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور متاثرہ علاقوں میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اس کے علاوہ پاکستان کو تعلیم کی کمی، صحت کی ناقص سہولیات، بے روزگاری، غربت، بدعنوانی، پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مہنگے نرخوں اور انتظامی نااہلی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ملک کی نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ روزگار کے بہتر مواقع اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ عام شہریوں کے لیے انصاف کا حصول بھی اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ مزید برآں دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کو واضح کرتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی رسہ کشی کے دوران عوامی مسائل کو مستقل ترجیح نہیں دی جاتی، حالانکہ عام شہری کے لیے سیاست کا اصل مطلب روزگار، تعلیم، علاج، تحفظ اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع ہیں۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ ملکی اداروں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کا توازن کس طرح قائم کیا جائے؟ پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندوں کا سب سے اہم ادارہ ہوتی ہے، جہاں قومی مسائل پر بحث، قانون سازی اور حکومت کا احتساب کیا جاتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ کا کردار کمزور ہو جائے یا ریاستی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی میں مصروف رہیں تو نظامِ حکمرانی متاثر ہوتا ہے۔ سیاسی مسائل کا حل آئینی اصولوں، قانون کی بالادستی، شفافیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ دباؤ، انتقامی کارروائیوں یا طاقت کے استعمال سے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔ انتخابات اور سیاسی تنازعات سے متعلق شکایات کو آئینی اور قانونی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے اور عدالتی نظام میں ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جن سے عام شہریوں کو بروقت انصاف مل سکے۔ معاشی پالیسیوں میں تسلسل، ٹیکس نظام کی منصفانہ تشکیل، صنعتوں کی ترقی، زراعت کی جدید کاری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا قومی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بحران کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا ادارے تک محدود نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں کی ناقص پالیسیوں، سیاسی عدم برداشت، کمزور حکمرانی اور ادارہ جاتی تصادم کا نتیجہ ہے۔ ملک کو مزید سیاسی تجربات، انتقامی سیاست اور اقتدار کی جنگوں کے بجائے ایسی قومی سوچ کی ضرورت ہے جو جمہوریت، قانون کی بالادستی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہو۔ اگر سیاسی قیادت نے آج بھی اپنے اختلافات ختم کر کے قومی مسائل پر مل بیٹھنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو بھی انہی بحرانوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان کو اب صرف حکومت کی تبدیلی کی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی، سیاسی رویوں اور قومی ترجیحات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آخرکار کسی بھی ملک کی کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ اقتدار کی کرسی پر کون بیٹھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی کتنی محفوظ، خوشحال اور باوقار بنی ہے۔
سیاسی عدم استحکام: پاکستان آخر کس سمت جا رہا ہے؟