کوئٹہ /اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے متحدہ اپوزیشن اجلاس کے بعد قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بنیادی طور پر تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور ان تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا نصب العین اس ملک کو ایک ایسی مضبوط فیڈریشن بنانا ہے جہاں آئین کی بالادستی قائم ہو، طاقت کا اصل سرچشمہ پارلیمان ہو اور ملکی سیاست کا محور پاکستان کی پارلیمنٹ ہو، جہاں سے ریاست کی تمام داخلی و خارجی پالیسیاں تشکیل پائیں ۔ ہم سب نے یہاں اکٹھے ہو کر مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جس انداز میں مولانا صاحب کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان پر حملہ آور ہوئے ہیں ، ہم اس صریح زیادتی کی پرزور مذمت کرتے ہیں ۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ہتھکنڈے اب مزید نہیں چلیں گے۔ اگر کوئی حق اور سچ کی بات کرے گا اور غلطیوں کی نشاندہی کرے گا، تو اس کے جواب میں یہ مخالفانہ رویہ نہ صرف ملکی سیاسی فضا کو مکدر کر دے گا بلکہ حالات کو ایک خطرناک نہج تک پہنچا دے گا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور ان شاء اللہ اسی ماہ نومبر میں اس کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین شکوک و شبہات کے ازالے کیلئے بھی ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔ ان شاء اللہ، پاکستان میں ایک ایسا مضبوط اور مستحکم اتحاد تشکیل پائے گا جو ملک میں موجود ہر قسم کی غیر جمہوری قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا، اور ہم اس غیر جمہوری حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ ہم سب متفقہ طور پر خیبر پختونخوا کے چار کروڑ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کی توہین کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ صوبے میں جس غیر آئینی انداز سے گورنر راج مسلط کیا گیا ہے، وہ ہمیں قیامِ پاکستان کے اس ابتدائی دور کی یاد دلاتا ہے جب قیوم خان کو بے پناہ اختیارات تفویض کر کے عوام پر جبر کیا گیا اور جیلیں بھر دی گئیں ۔ واضح رہے کہ ہم ان تمام جابرانہ ہتھکنڈوں کا پہلے بھی سامنا کر چکے ہیں ۔ ہم پر بے جا چڑھائی کرنے اور ہمیں چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔ خدانخواستہ، اس تصادم کے نتیجے میں کوئی ایسا حادثہ پیش نہ آئے جسے سنبھالنا کسی کیلئے بھی ممکن نہ رہے۔
غیر جمہوری حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے، محمود اچکزئی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل