جام کمال کی سعودی عرب، مصر اور تیونس کے اعلی حکام کیساتھ دوطرفہ ملاقاتیں

استنبول (این این آئی)وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے سعودی عرب، مصر اور تیونس کے اعلی حکام کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں ، زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات اور صنعتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے، باہمی تجارتی روابط مضبوط بنانے اور دستیاب اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔وزارت تجارت کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر تجارت نے ترکیہ کے شہر استنبول میں اقتصادی و تجارتی تعاون کی تنظیم(کومسیک)کے 42ویں اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے ڈپٹی گورنر فرید ایس العسالی، مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت محمد فرید صالح اور تیونس کے وزیر تجارت و برآمدات کے فروغ سمیر عابد سے ملاقاتیں کیں ۔سعودی عرب کے نمائندے فرید ایس العسالی سے ملاقات میں دونوں فریقوں نے زراعت اور صنعتی ترقی، انسانی وسائل کی استعداد کار بڑھانے، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر جام کمال خان نے پاکستان اور سعودی عرب کی کمپنیوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے نئے امکانات تلاش کرنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے نمایاں کاروباری ادارے افریقی منڈیوں میں دستیاب تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے شراکت داری قائم کریں ۔انہوں نے اقتصادی امکانات کو عملی کاروباری شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی روابط اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا اور سعودی نمائندے کو آئندہ فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ زراعت، لائیو سٹاک اور غذائی صنعتوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت محمد فرید صالح سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون، بالخصوص کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات زیر بحث آئے۔مصری وزیر نے مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستانی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ مصر کے ترجیحی تجارتی انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار مصر میں پیداواری یونٹس قائم کرکے متعلقہ تجارتی شرائط و ضوابط کے تحت امریکی منڈی تک رسائی کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں ۔انہوں نے آئندہ کاروباری فورم میں شرکت کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کی تفصیلات بھی طلب کیں تاکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط قائم کرکے ممکنہ سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کی نشاندہی کی جا سکے۔مصر کے وزیر نے پاکستانی طلبہ کے لیے مصر میں سائنس، ٹیکنالوجی، طب، صحت اور انجینئرنگ کے شعبوں میں دستیاب تعلیمی مواقع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں نسبتا کم اخراجات پر تعلیمی سہولیات موجود ہیں ۔جام کمال خان نے پاکستان اور مصر کے نجی شعبوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے قیام اور ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری سطح پر براہ راست روابط اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے سے دونوں ممالک اپنی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں