پاکستان میں مہنگائی اور بقا کی جنگ

مہنگائی کسی بھی ملک کی معیشت کا محض اعداد و شمار میں ظاہر ہونے والا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عام شہری کی روزمرہ زندگی، گھریلو بجٹ، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور مستقبل کی امیدوں سے جڑا ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کے اثرات اب صرف غریب اور محنت کش طبقے تک محدود نہیں رہے بلکہ متوسط طبقہ بھی اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باعث عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب پاکستان کا عام شہری معاشی پریشانیوں کے بغیر اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے گا؟

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے 30 اکتوبر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں سالانہ بنیادوں پر 11.32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر اس اشاریے میں 0.35 فیصد کمی ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام شہری کو مہنگائی سے کوئی نمایاں ریلیف ملا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں 106.86 فیصد، بجلی سے متعلقہ چارجز میں 52.38 فیصد، ڈیزل میں 45.13 فیصد، پیٹرول میں 43.61 فیصد اور گندم کے آٹے میں 34.87 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی اب صرف چند اشیاء تک محدود نہیں رہی بلکہ زندگی کی تقریباً ہر بنیادی ضرورت کو متاثر کر رہی ہے۔

خصوصاً گیس اور ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام گھریلو صارفین کے لیے ایک نیا مسئلہ بن چکی ہیں۔ یکم نومبر 2026 سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 73 پیسے اضافہ کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 294 روپے 7 پیسے مقرر کی، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 3 ہزار 470 روپے 9 پیسے ہو گئی۔ کئی علاقوں میں ایل پی جی سرکاری قیمت سے بھی زیادہ نرخوں پر فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ان خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ محدود روزانہ آمدنی رکھنے والا ایک مزدور کھانے پینے، بچوں کی تعلیم، بجلی کے بلوں اور ایندھن کے اخراجات کیسے برداشت کرے؟

مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، کیونکہ پاکستان میں اشیاء کی ترسیل کا بڑا حصہ سڑکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے اضافے کے بعد اسے 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں اور زرعی مشینری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا اثر بالآخر ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی پیداوار اور بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ یوں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صرف گاڑیاں چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مہنگائی کی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ملکی معاشی پالیسیوں کی کمزوریاں اور درآمدی توانائی پر حد سے زیادہ انحصار بھی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، علاقائی جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات پاکستان جیسی درآمدی معیشت پر فوری طور پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کو قرضوں کی ادائیگی، بجٹ خسارے پر قابو پانے اور محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اکتوبر کے آخر میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کر دیا، جبکہ اس فیصلے کی اہم وجوہات میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات کو بھی شامل کیا گیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف شرح سود بڑھانے سے ملکی پیداوار، روزگار اور عوام کی قوتِ خرید میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟

دوسری جانب حکومت کی ٹیکس پالیسی پر بھی سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ جب پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور دیگر بنیادی اشیاء پر ٹیکس اور لیویز کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عام صارفین پر پڑتے ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف امدادی پیکجز کا اعلان کافی نہیں، کیونکہ عارضی سبسڈی سے کچھ عرصے کے لیے ریلیف تو مل سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی ساخت میں موجود کمزوریاں برقرار رہتی ہیں۔ حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے، توانائی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے اور زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات سے ان کی مالی استطاعت کے مطابق ٹیکس وصول کرنے کی ضرورت ہے۔ غریب اور متوسط طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے معاشی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم وقت کا اہم تقاضا ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہنگائی کو محض ماہانہ رپورٹس اور اعداد و شمار کی بنیاد پر نہ دیکھے بلکہ عام شہری کی حقیقی زندگی کے حالات کو بھی اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائے۔ پہلی ترجیح بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو منڈیوں میں قیمتوں کی مؤثر نگرانی، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد اور زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے کے اخراجات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے، زرعی شعبے کو جدید بنانے اور توانائی کے متبادل ذرائع بڑھانے کے لیے طویل المدتی پالیسیاں اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ امدادی پروگراموں کو اس انداز میں ترتیب دینا چاہیے کہ ان کا فائدہ حقیقی مستحق خاندانوں تک پہنچے، نہ کہ وہ صرف اعلانات اور کاغذی کارروائی تک محدود رہ جائیں۔

پاکستان کا معاشی مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ حکمران مہنگائی کے مسئلے کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ملک کو محض قرضوں، ٹیکسوں اور عارضی مالی انتظامات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا بلکہ ایسی جامع معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ملکی پیداوار میں اضافہ کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور عام شہری کی آمدنی میں حقیقی بہتری لائے۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ معاشی ترقی کا اصل معیار اسٹاک مارکیٹ کے اعداد و شمار یا سرکاری خزانے میں اضافے سے نہیں بلکہ عام شہری کے معیارِ زندگی میں بہتری سے طے ہوتا ہے۔ اگر محنت کش طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان، متوسط طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے محروم اور نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہوں تو معاشی استحکام کے دعوے عوام کے لیے بے معنی رہیں گے۔ آج عام شہری کا ایک ہی سوال ہے: ہماری زندگی کب بہتر ہوگی اور ہم مہنگائی کے اس عذاب سے کب نجات حاصل کر سکیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں