اینگلو مغل جنگ 1690ء ہماری تاریخ سے غائب کیوں؟

یہ 8 فروری 1690ء کا دن ہے۔ مغل دربار سجا ہوا ہے۔ شہنشاہ ہندوستان اورنگزیب عالمگیر پورے طمطراق سے رونق تخت افروز ہے؛ سامنے تمام درباری حاضر ہیں۔ دربار میں انگریز وفد کے آمد کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اورنگزیب عالمگیر کی اجازت سے انگریز وفد دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ وفد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے جارج ویلڈن اور ابراہام نیوار شامل ہیں۔ وفد مغل آداب کے مطابق سجدہ ریز ہو کر عام معافی کی کمپنی کی طرف سے التجا پیش کرتا ہے۔ اورنگزیب اصولی طور پر ان کی معافی قبول کرنے کا اشارہ دیتا ہے، لیکن حتمی شرائط پر مزید کارروائی کا حکم جاری کرتا ہے۔
اس سے پہلے 1686ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر سر جوسیا چائلڈ نے بنگال اور مغل بندرگاہوں پر غلبہ پانے اور اپنے تجارتی مفادات اور ٹیکسوں میں چھوٹ کے لیے مغل سلطنت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایک انتہائی امیر تاجر اور سیاست دان تھا۔ جس نے برطانیہ سے بیٹھ کر مغلوں کے خلاف اس جنگ کا حکم دیا تھا۔
حکم ملتے ہی 1686ء میں انگریزوں نے برطانوی بحریہ اور سپاہیوں کو چٹاگانگ اور ہگلی پر قبضے کے لیے بھیج دیا۔ مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے انگریزوں کی اس جسارت کا بھرپور فوجی جواب دیا۔ مغل افواج نے انگریزوں کو سمندر اور خشکی دونوں محاذوں پر عبرتناک شکست دی۔ اس جنگ میں جو چار سال جاری رہی انگریزوں کو ہر محاذ پر شکست ہوئی، ان کی تجارتی فیکٹریاں (بمبئی، مصولی پٹم وغیرہ) مغلوں نے اپنے قبضے میں لے لیں۔ آخرکار 1690ء میں انگریزوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور ان کے سفیروں کو اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں آ کر معافی مانگنی پڑی۔
اینگلو مغل جنگ میں مغل فوج کے سب سے اہم اور مرکزی سپہ سالار سیدی یعقوب خان تھے، جنہیں اورنگزیب عالمگیر نے انگریزوں کو کچلنے کے لیے بحری اور خشکی کا کمانڈر مقرر کیا تھا۔ چونکہ یہ جنگ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لڑی گئی، اس لیے اس میں تین بڑے مغل کمانڈرز نے حصہ لیا،
سیدی یعقوب خان جو مغل سلطنت کے امیر البحر اور جنجیرہ کے حکمران تھے، انہوں نے 1689ء میں اپنے طاقتور بحری بیڑے کے ساتھ بمبئی پر حملہ کیا، انگریزوں کو عبرتناک شکست دی اور بمبئی کا تاریخی محاصرہ کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ جنگ کے آغاز میں بنگال کے مغل گورنر نواب شائستہ خان نے ہگلی اور چٹاگانگ کے علاقوں میں انگریزوں کے حملوں کو ناکام بنایا اور انہیں بنگال سے مار بھگایا۔ مطبر خان نے بمبئی کے ارد گرد کے مغل علاقوں کا دفاع کیا اور انگریزوں کی سپلائی لائنیں کاٹ دیں۔ ان تمام سپہ سالاروں میں سب سے فیصلہ کن کردار سیدی یعقوب خان کا تھا، جن کی عسکری حکمت عملی کی وجہ سے انگریزوں کو اورنگزیب سے معافی مانگنی پڑی۔
اورنگزیب نے صلح کی شرائط میں ایک شرط ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں سربراہ سر جان چائلڈ کی ہندوستان برطرفی بھی رکھی تھی، لیکن صلح کے معاملات طے پا ہی رہے تھے، کہ 4 فروری 1690ء میں سر جان چائلڈ بمبئی میں بیماری کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ یوں اسے مغلوں کے نکالنے سے پہلے ہی موت نے آ لیا۔ دوسری طرف، لندن میں بیٹھے سر جوسیا چائلڈ کو اس شکست سے شدید مالی اور سیاسی دھچکا لگا۔
8 فروری 1690ء وہ دن تھا جب انگریز وفد نے مغل وزراء کے ساتھ بیٹھ کر تاوانِ جنگ (ڈیڑھ لاکھ روپے) کی ادائیگی کے طریقہ کار اور دیگر قانونی کاغذات کو حتمی شکل دی تھی۔ مغل وزیرِ اعظم اسد خان نے مغل پروٹوکول کے مطابق انگریزوں کو شرائط پر سختی سے عمل کرنے کی تنبیہ کی۔ چونکہ بمبئی کا گورنر جان چائلڈ مغلوں کی سزا سے پہلے ہی مر چکا تھا، اس لیے انگریز وفد 8 فروری کو دربار میں پیش ہوا اور 10 فروری تک تمام قانونی و سفارتی مراحل طے کئے، جس کے بعد 27 فروری کو شہنشاہ نے تحریری معافی نامہ شاہی فرمان کی صورت جاری کر دیا۔
معافی قبول کرنے اور تمام شرائط (ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ اور ضبط شدہ سامان کی واپسی) تسلیم کروانے کے بعد، شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دوبارہ تجارت شروع کرنے کا باضابطہ شاہی فرمان 27 فروری 1690ء کو جاری کیا۔ اس فرمان کے بعد ہی بمبئی کا مغل محاصرہ ختم کیا گیا۔
یہ ایک ایسی فتح ہے جو نصاب کی کتابوں سے اور عام لوگوں کے ذہنوں سے محو کر دی گئی، جبکہ ضرورت یہ ہے کہ نئی نسل ان کارناموں کو یاد رکھے اور مزید کامیابیوں کے در کھولنے کی پرکھوں کی روایات دہرانے پر کمر کس سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں