اور ایمرجنسی لگ گئی

کافی دن سے جاری وفاقی حکومت پاکستان، صوبائی حکومت خیبر پختونخوا اور اپوزیشن کی لفظی جنگ آخر کار ایک بند گلی میں داخل ہو گئی۔ دونوں اطراف مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہے، اور آخر کار مفاہمت کی کوئی صورت نظر نہ آنے پر 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ کی مشاورت کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم جناب شہباز شریف نے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے خط لکھ ہی ڈالا۔ جس پر سرکاری و آئینی تصدیقی مہر ثبت کرتے ہوئے صدر مملکت نے فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ایجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے تمام صوبائی اختیارات گورنر جناب فیصل کریم کنڈی کے سپرد کر دئیے گئے۔ صوبائی وزیراعلٰی جناب سہیل آفریدی کو کابینہ سمیت برطرف کر دیا گیا، اور صوبائی اسمبلی کو معطل کر دیا گیا ہے۔
گو پاکستان میں ایمرجنسی کا نفاذ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 79 سال میں متعدد بار عوام اس کا تجربہ کر چکی ہیں۔ پاکستان میں وفاقی آئین معطلی سمیت 9 بار وفاقی سطح پر ایمرجنسی جیسی صورتحال کا سامنا رہا ہے، جبکہ 15 بار مختلف صوبوں میں صوبائی سطح پر ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری یوں زیادہ نمایاں ہیں، کہ وہ واحد صدر ہیں جنہوں نے تین مختلف صوبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ پر دستخط کئے ہیں۔ جن میں 2009 میں پنجاب، 2013 میں بلوچستان اور اب 2026 میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان پر دستخط ثبت کر چکے ہیں۔
فی الحال جو وجوہات اس موجودہ ایمرجنسی کی بابت عوام کو بتائی جا رہی ہیں، ان میں سے سب سے بڑی وجہ صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید اس کی روک تھام میں صوبائی حکومت کی نا اہلی کو پہلا بڑا نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2024 سے 2026 کے دوران یہ دہشت گردانہ کاروائیاں تقریباً 8600 واقعات تک پہنچ چکی ہیں۔ وفاقی حکومت کا الزام ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے میں وفاق کی سنجیدہ کوششوں پر بھرپور طریقے سے عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ایمرجنسی لگانے کے فیصلے میں آئین کے تین آرٹیکلز کا سہارا لیا گیا ہے جن میں آرٹیکلز 232، 234 اور 245 شامل ہیں۔ آرٹیکل 232 کے تحت شدید بد امنی کی صورت میں صدر پاکستان نے وفاقی حکومت کے کہنے پر ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں اضافی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ ابھی اس آرٹیکل کی مدت دو ماہ ہے؛ جو پارلیمنٹ کی منظوری سے بڑھائی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی کارکردگی میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس لئے تمام اختیارات گورنر کو حاصل ہو گئے ہیں، اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کو مل گئے ہیں۔
آرٹیکل 245 کے تحت انتظامی امور کے لئے فوج کو طلب کیا گیا ہے، تاکہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں صوبائی انتظامیہ کی مدد کر سکے۔
وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق بھی کروا لی ہے
ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی جمہوری ملک میں جمہوریت کی روح کے منافی قدم ہے۔ اس لئے حکومت بھی یہ کہہ کر اس نفاذ کا دفاع کر رہی ہے، کہ بحالت مجبوری یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں بشمول پی ٹی آئی، جمعیت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، مجلس وحدت المسلمین نے اس ایمرجنسی کے مخالفت کرتے ہوئے اس کو صوبائی حکومت پر شب خون کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام پر بھرپور مزاحمت کا عندیہ ضرور دیا ہے، لیکن فی الحال کوئی بہت مضبوط ردعمل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایمرجنسی کے خلاف بھرپور تحریک نظر آنے کے باوجود سڑکوں پر عوامی احتجاج میں بھرپور افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو اپنے اس قدم پر تاحال کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نظر نہیں آ رہا ہے۔ وزیراعلٰی جناب سہیل آفریدی گرفتار ہو چکے ہیں۔ مزید کوئی ہائی لیول صوبائی قیادت احتجاج کے لئے آگے منظر عام پر نظر نہیں آ رہی ہے؛ جبکہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سڑکوں سے زیادہ پارلیمنٹ میں احتجاج ریکارڈ کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔
اپوزیشن لیڈر جناب محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ عندیہ ضرور دیا جا رہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ سب منتظر ہیں کہ اپوزیشن اس لائحہ عمل کے بعد کتنا بھرپور عوامی مظاہرہ کر پاتی ہے۔
فی الحال انتظار ہی کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ہی اس حکومتی فیصلے کے نتائج سامنے آئیں گے۔ اس فیصلے کے اقدامات سے سیاسی منظر نامہ کتنا تبدیل ہو سکتا ہے، اس کی بھی تصویر جلد سامنے آ جائے گی۔ ایمرجنسی جمہوری معاشروں میں ایک جز وقتی حل تو ہو سکتی ہے، لیکن ایک کل وقتی حل کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایک جامع لائحہ عمل ضرور مرتب کرنا چاہیے؛ تاکہ جمہوریت یوں بار بار پٹری سے ڈی ریل نہ ہو سکے۔ دیکھتے ہیں وفاقی حکومت کے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی صورتحال کے دعوے کتنے پورے ہوتے ہیں۔ کیا ایمرجنسی سے وابستہ تمام توقعات پوری ہو سکیں گی؟ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی؟ صوبائی امن و امان میں اضافہ ہو سکے گا؟ سیاسی مسائل کا سیاسی طریقے سے حل نکالا جا سکے گا؟
دعا ہے کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو سکیں، اور عوامی راج کا سورج خیبر پختونخوا پر دوبارہ جلد طلوع ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں