حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کے درمیان مذاکرات اور مکا لات دونوں فی الحال یوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، جیسے ریلوے لائن کی پٹریاں۔ وہ پٹریاں جو دور تک ساتھ ساتھ تو چلتی ضرور ہیں، مگر ان کے آپس میں ملنے کی امید کبھی کی نہیں جا سکتی۔
پی ٹی آئی کی طرف سے 27 اگست کو ہی 4 اکتوبر سے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ جس کو سن کر حکومت سن ہی رہی؛ کوئی پیش رفت یا مذاکرات کرنے کی کوشش حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے نظر نہیں آئی، لیکن اکتوبر کا آغاز ہوتے ہی حکومت وقت نے مذاکراتی ریل گاڑی یوں امید کی پٹری پر اتاری کہ بچارے سادہ لوح عوام یہ سوچ کر ہی خوش ہوتے رہے کہ شاید اس بار مذاکرات کی میز پر بیٹھے ان عوامی نمائندوں کو عوامی فلاح کے کچھ پہلو بھی نظر آ جائیں۔ جو فی الحال دونوں کی نگاہوں اور نکتہ مذاکرات کی فہرست سے کافی دور ہیں۔ مذاکرات کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود اسپیکر چیمبر کو ریلوے پلیٹ فارم سمجھ کر دونوں اس طرح بیٹھے، جیسے یہاں سے اگلی گزرنے والی خوشحالی ایکسپریس میں سارے عوامی نمائندے بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک ساتھ ہی روانہ ہوں گے۔ اسپیکر ایاز صادق صاحب اسٹیشن ماسٹر کے فرائض انجام دیتے ہوئے یقین دلاتے رہے، کہ بس کامیاب مذاکرات ہوتے ہی خوشحالی ایکسپریس کے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔
پلیٹ فارم پر موجود حکومتی مذاکراتی مسافروں میں شامل تھے، محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ)، رانا ثناء اللہ (وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور)، امیر مقام (وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و سیفران)، شیری رحمان (سینیٹر، پیپلز پارٹی)، سید نوید قمر (مرکزی رہنما، پیپلز پارٹی)، طلال چوہدری (وزیر مملکت برائے داخلہ)، طارق فضل چوہدری (وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور) اور اعجاز جاکھرانی (رہنما، پیپلز پارٹی)۔ جبکہ دوسری طرف پلیٹ فارم پر موجود عوامی اپوزیشن مسافروں میں شامل تھے، اسد قیصر (سابق اسپیکر قومی اسمبلی)، سلمان اکرم راجہ (سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی)، علامہ راجہ ناصر عباس (سربراہ ایم ڈبلیو ایم و سینیٹر، اتحادی)، عامر ڈوگر (مرکزی رہنما پی ٹی آئی) اور حلیم عادل شیخ (رہنما پی ٹی آئی)۔ 2 اکتوبر کو مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوا، تو میڈیا کے ذریعے پل پل کی خبریں ملنے کا بھی آغاز ہو گیا۔ یوں لگتا تھا جیسے پلیٹ فارم کا اسپیکر میڈیا کے ہاتھ لگ گیا ہے جس پر ہر خبر پر نظر نشر ہو رہا ہے، یہ اطلاع بھی دی گئی کہ ماحول خوشگوار ہے، ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی ہے، سموسے اور پکوڑے بھی چل رہے ہیں، گپ شپ ہو رہی ہے، اور مذاکرات امید کی پٹری پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اتنی خوش کن خبریں سن کر عوام بھی اطمینان سے سو گئی، کہ چلو خوشحالی ایکسپریس آنے تک ذرا آرام ہی کر لیں۔ صبح جب عوام کی آنکھ کھلی تو نصف اطمینان رخصت ہو چکا تھا۔ عوام کو بتایا گیا پاکستان ریلوے کی تاریخ دہراتے ہوئے خوشحالی ایکسپریس ابھی تاخیر سے آئے گی۔ اس لئے 3 اکتوبر کو یاروں کی محفل پلیٹ فارم پر دوبارہ سجائی جائے گی۔ آج عوام کے پیسے بچانے کے لئے سموسے نہیں صرف بسکٹ سے ہی کام چلا کر خوشحالی ایکسپریس پر ضرور بالضرور سفر کا آغاز کر دیا جائے گا۔ عوام نے بھی سوچا، جہاں یہ ایکسپریس اتنے سالوں سے تاخیر کا شکار ہے، تو ایک دن کا انتظار اور سہی۔ سو 3 اکتوبر کی رات تک بھی امید کی شمع روشن کئے عوام دوبارہ خواب خرگوش کی نیند اسی طرح سو گئی جیسے پچھلے 79 سالوں سے سو رہی ہے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ خوشحالی ایکسپریس تو چھوٹ گئی ہے، اور دونوں طرف کے مسافر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ اب قصور وار کا تو پتہ نہیں، لیکن 4 اکتوبر سے ایک طرف پی ٹی آئی ریل چھوڑ کر ٹرک پر سوار ہو گئی ہے اور حکومتی مسافر پلیٹ فارم پر بیٹھے ان کو واپسی کی دعوت ایسے دیتے نظر آ رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں: ” تم آؤ نہ آؤ ہمیں غم نہیں ہے۔”
اب پلیٹ فارم سے ایک بیان آتا ہے تو ٹرک سے اس کا جواب آ جاتا ہے۔ دونوں طرف سے عوام کو گرمایا جا رہا ہے؛ جبکہ عوام تو پہلے ہی پٹرول کی آگ سے تپ کر گرم ہو چکی ہے، مگر دونوں طرف سے کوئی بھی عوامی نکتہ نہ دیکھ کر حیران ہے کہ پلیٹ فارم کا رخ کرے یا ٹرک اڈے کا۔
4 اکتوبر لکی مروت سے ٹرک روانہ ہو چکا ہے۔ جس کے آغاز کے لئے وزیراعلٰی سہیل آفریدی پورے جوش سے آگے بڑھو کے ترانے گا رہے ہیں۔ ان کے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات، عمران خان تک ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی رسائی، ان کی صحت کی وضاحت اور گرفتار کارکنوں کی رہائی شامل ہیں۔ لکی مروت سے کرک اور کوہاٹ کی زمین کو گرماتا ہوا یہ قافلہ پشاور کی حدود میں پہنچ چکا ہے۔ اب یہاں سے آگے سخت مرحلے کا سفر جاری ہے۔ جہاں ٹرک کے پہیے پنکچر کرنے کے لئے جگہ جگہ پر کیلیں بچھائی جانے کی اطلاعات ہیں۔ دونوں طرف سے بیانات سخت سے سخت ہوتے جا رہے ہیں، درمیان میں ہلکی سی آواز مذاکرات کی بھی آ جاتی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی کبھی پلیٹ فارم کا رخ کرتی ہیں، کبھی ٹرک اڈے کا، تاکہ دونوں اطراف کو سمجھایا جا سکے۔ دیکھیں مستقبل کے پردے سے کون سی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ فی الحال ان دونوں کی باہمی کشمکش میں پٹرولیم مصنوعات بے لگام ہو چکی ہیں، چار سو روپے لیٹر کا ہندسہ پٹرول پمپ کی اسکرینوں پر جگمگانے لگا ہے۔ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور خوشحالی ایکسپریس روانہ ہو، یا یونہی احتجاجی ٹرک آگے بڑھتے رہیں، ایک بات طے ہو چکی ہے، اور وہ بات ہے: “ریل گاڑی چلے یا ٹرک دونوں اطراف کی پٹرولیم مصنوعات کے اخراجات کا بوجھ عوام کی جیب پر ہی پڑے گا۔”
خوشحالی ایکسپریس یا احتجاجی ٹرک