نشستند، گفتند، برخاستند

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 22 تا 28 ستمبر 2026 کے دوران جاری رہنے والا 81واں اجلاس اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ اجلاس میں دنیا بھر سے 194 ممالک کے سربراہان یا نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی کاروائی کے دوران ان ممالک نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیا؛ دنیا کو درپیش ہر مسئلہ پر ان ممالک کے وفود نے بھرپور روشنی ڈالی۔ ہر ملک کو فرداً فرداً یہ موقع ملا، کہ وہ اپنے مسائل سے دنیا کو آگاہ کر سکے۔ اپنی کامیابیوں پر خراج تحسین وصول کرے ، اور مشکلات کا ذکر کر کے دنیا کی توجہ حاصل کر سکے۔ مختلف ممالک نے اپنے خطاب میں مختلف مسائل کے حل کے لئے اپنی تجاویز دیں ، اور دنیا کو امن کا خطہ بنانے میں اپنے کردار کو اجاگر کیا۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر خلیل الرحمان کی صدارت میں جاری رہنے والے اس اجلاس سے پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں دنیا کے مسائل کے حل کے لئے کی گئی پاکستان کی کوششوں کا کھل کا اظہار کیا۔ امن کے لئے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا، اور عالمی تنازعات پر پاکستان کے موقف سے دنیا کو آگاہ کیا۔ پاکستانی وزیراعظم جناب شہباز شریف کی تقریر میں درج ذیل نکات شامل تھے۔
سعودی عرب اور حوثی قبائل میں جاری موجودہ تنازعہ کے فوری حل پر توجہ دینے کہ ضرورت پر زور دیا گیا۔ مزید پاکستان نے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو بہت مضبوط قرار دیا۔ اس تنازعہ میں سعودی عرب کی حمایت کرتے ہوئے مکہ معاہدہ کی پیش رفت سے بھی دنیا کو آگاہ کیا۔
مشرق وسطٰی کے امن کے لئے پاکستان کی کوششوں سے دنیا کو آگاہ کیا گیا، اور ہمہ وقت اپنا کردار ادا کرنے کا یقین دلایا گیا۔
فلسطین اور غزہ کے لئے پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا ایک مرتبہ پھر ذکر کرتے ہوئے اسرائیل کے غیر اخلاقی کردار کی بھرپور مذمت کی گئی۔
چین اور پاکستان کی مضبوط دوستی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے شاہراہ ریشم کو دنیا کی ترقی کے لئے ایک اہم شاہراہ سے تشبیہ دی۔
بھارت کی طرف سے کشمیر پر جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ دہائیوں سے جاری اس تصفیہ کے حل کے لئے اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
بھارت کے پاکستان پر بزدلانہ حملے اور اس کے بعد کی صورتحال کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو دنیا کے امن کے لئے خطرہ قرار دیا، اور اقوام عالم کی طرف سے اس کی بھرپور مذمت پر زور دیا۔
سندھ طاس معاہدہ سے یک طرفہ انحراف کو بھی بھارت کی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ، عالمی عدالت کے حالیہ فیصلے پر عملدرآمد کروانے پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے تمام مسائل پر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے دنیا کو یہ باور کروایا کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کے پیچھے کارفرما عوامل کون سے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے اس اجلاس سے کیا کوئی نتیجہ خیز اقدامات کی نوید مل سکی ہے ؟ تو جواب ہے کہ ممالک کے دوران جاری کشمکش کے حل پر تو ایسا کچھ ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہ تمام مسائل سب کو معلوم ہیں ، اور ان مسائل کے حل میں حائل موجود رکاوٹیں ہٹانے کی طاقت فی الحال اقوام متحدہ کے پاس نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اینتونیو گوتریش نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے کردار اور عالمی مسائل کے حل میں پیش رفت سے دنیا کو آگاہ کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اختتام پر اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان نے رکن ممالک کے مشترکہ بیانات اور اتفاقِ رائے کا جو خلاصہ اور اعلامیہ پیش کیا اس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں :
عالمی امن اور تنازعات کے حل کے لئے کاوشوں کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ۔ غزہ، یوکرین اور دیگر تنازعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور سفارت کاری کے فروغ پر زور دیا گیا
پائیدار ترقی کے حصول میں ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کی ہدایت۔ پائیدار ترقی کے اہداف کی سست روی کا اعتراف کیا گیا، اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی اپیل کی گئی۔
مصنوعی ذہانت پر موقف۔ کثیر تعداد میں وفود نے مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بحث کی اور اس کی جوابدہی و مساوی رسائی کے لیے عالمی ضابطہ اخلاق کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
انسانی حقوق اور کثیر الفریقی نظام، ڈیجیٹل دنیا میں غلط معلومات کے روک تھام، مساوات کے فروغ اور موجودہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانے کا اعادہ کیا گیا۔
ایک اور اجلاس کا اختتام پذیر ہوا، لیکن کوئی بہت امید افزاء پیش رفت کی نہ یقین دہانی کرائی جا سکی؛ لیکن مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ حالات پر توجہ دلا کر اس اجلاس کی اہمیت واضح ہو گئی ہے۔ یہ ایک بھرپور قدم ہے اگر اس پر نیک نیتی سے توجہ دی جا سکے۔
دعا ہے کہ اقوام متحدہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے جس خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہی ہے ؛ وہ جلد ہی دنیا میں حقیقی معنوں میں نظر آنے لگے۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں