ابا اور خاموش محبت

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ایک فرشتہ ابا کے روپ میں
ابا وہ ہستی ہے جس کا کوئی بدل نہیں ، وہ شخصیت جس کی محبت خاموش ہوتی ہے لیکن اس کی گہرائی سمندروں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ماں کی ممتا کا ذکر تو ہر لب پر ہوتا ہے مگر ابا کی قربانی اکثر ان کہی رہ جاتی ہے ، ابا وہ درخت ہے جو خود ساری زندگی دھوپ میں کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کی اولاد کو چھاؤں ملتی رہے۔ قرآن مجید نے ابا کے مقام کو بہت بلند کیا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ۔ اللہ کی عبادت کے بعد سب سے پہلا حق تمہارے والدین کا ہے ، اور والدین میں ابا کا نام سر فہرست ہے۔
ایک اور جگہ اللہ نے حضرت لقمان کے ذریعے ابا کی تربیت کا بہترین نمونہ پیش کیا کہ اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یہ ایک ابا کی اپنی اولاد کو سب سے قیمتی نصیحت تھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابا کی شان میں فرمایا کہ ابا جنت کا درمیانی دروازہ ہے ، اب تم جانو اس دروازے کی حفاظت کرتے ہو یا اسے ضائع کرتے ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی رضا ابا کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ابا کی ناراضگی میں ہے۔ ابا کی دعا کے بارے میں فرمایا کہ تین دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں ، ایک مظلوم کی دعا، ایک مسافر کی دعا اور ایک ابا کی دعا اپنی اولاد کے لیے۔ سوچیں جس ابا کی دعا عرش تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاتی ہو اس ابا کا کتنا بڑا مقام ہوگا۔
ابا کا پیار بڑا نرالا ہوتا ہے ، وہ ماں کی طرح بار بار جتاتا نہیں ، وہ دل میں رکھ کر محبت کرتا ہے۔
ابا کی موجودگی سورج جیسی ہوتی ہے
سورج گرم ضرور ہے مگر نہ ہو تو اندھیرا ہوتا ہے
ابا خود پرانا جوتا پہن لیتا ہے مگر بیٹے کے لیے نیا جوتا لاتا ہے ، خود پھٹا ہوا کرتا پہن لیتا ہے مگر بیٹے کو عید کے نئے کپڑے ضرور دلواتا ہے۔ وہ صبح منہ اندھیرے رزق کی تلاش میں نکلتا ہے تاکہ اس کے بچے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں ۔
ابا کی دولت سے نہیں ، سائے سے گھر چلتے ہیں
ابا کے ہونے سے ہی تو سارے غم ٹلتے ہیں
ابا کی اصل ذمہ داری صرف کما کر لانا نہیں بلکہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا ہے ، اسے حلال حرام سمجھانا، سچ بولنا سکھانا، نماز کا عادی بنانا اور اچھا انسان بنانا۔ جو ابا اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم دے دیتا ہے وہ اس کے لیے دونوں جہانوں کا خزانہ چھوڑ جاتا ہے۔
بیٹے پر ابا کے بے شمار حقوق ہیں ، ابا کا ادب کرنا، اس کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کرنا، اس کے حکم کو بجالانا جب تک وہ گناہ کا نہ ہو، بڑھاپے میں اس کا سہارا بننا، اس پر خرچ کرنا اور اس کے لیے دعا کرنا۔ ابا زندہ ہو تو اس کی خدمت اور اگر دنیا سے چلا گیا ہو تو اس کے لیے مغفرت کی دعا اور اس کے دوستوں کا احترام کرنا بھی اولاد پر فرض ہے۔
باپ کے سائے سے بڑھ کر کوئی سایہ نہیں
ابا کے بعد کوئی اپنا، کوئی پرایا نہیں
یاد رکھو جس گھر میں ابا مسکراتا ہے اس گھر میں برکت اترتی ہے ، جس نے ابا کو راضی کر لیا اس نے اللہ کو راضی کر لیا۔ آج وقت ہے اپنے ابا کے پاس بیٹھو، اس کے ہاتھ کو چومو اور کہو ابا جان آپ کا سایہ سلامت رہے ، کیونکہ
ابا گھر کا وہ ستون ہے جو ہلنے نہیں دیتا
گر بھی جائے خود، اولاد کو گرنے نہیں دیتا
الحمدللہ میرا ابا بہت ہی شریف النفس، محنتی اور سادہ مزاج انسان ہے۔ وہ کم بولنے والا اور کم بات کرنے والا انسان ہے ، فضول گوئی سے اسے نفرت ہے ، جب بولتا ہے تو مطلب کی بات کرتا ہے ، ایسی بات جو دل میں اتر جائے۔ اس کی ساری زندگی محنت اور مشقت میں گزری ہے ، اس نے اپنی جوانی ہماری خوشیوں کے لیے قربان کر دی۔ ماشائاللہ میرا ابا باہر سے بھی نرم مزاج اور اندر سے بھی نرم دل اور اولاد پر بے حد مہربان اور شفیق ہے ، ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا بھی اسے خیال رہتا ہے۔
میرے ابا نے کبھی ہمیں اپنے دکھ کا احساس نہیں ہونے دیا، خود تکلیف سہہ لی لیکن ہمارے چہروں پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اللہ پاک میرے والد محترم کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے ، ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے ، اور اللہ ہمیں ان کی خدمت کرنے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
ابا کی دولت نہیں ، سایہ ہی کافی ہے
میرے حصے کی دھوپ، وہ خود پر سہتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں