پاک افغان سرحدی کشیدگی اور ٹی ٹی پی کے حملے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اب محض دونوں حکومتوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک مسلسل سکیورٹی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جس کے اثرات دونوں ممالک کے امن، معیشت اور عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں ۔ خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دہشت گرد حملوں ، دراندازی، سرحدی فائرنگ اور جوابی کارروائیوں کے باعث شدید متاثر ہو رہے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں ، سرحد پار موجودگی اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کے خدشات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں ۔ حالیہ واقعات، جن میں کوہاٹ پولیس لائنز پر حملہ اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی شامل ہے ، اس تناظر میں اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے اس سلسلے کو کیسے روکا جائے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مستقل امن کیسے فراہم کیا جائے۔
اس مسئلے کی شدت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار بھی اہم ہیں ۔ 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2021ء میں دہشت گردی میں تقریباً 38 فیصد، 2022ء میں 15 فیصد، 2023ء میں 56 فیصد، 2024ء میں تقریباً 67 فیصد اور 2025ء میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے مطابق 2025ء میں ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ہوئے ، جن میں کم از کم 1,034 افراد جاں بحق اور 1,366 زخمی ہوئے ، جن میں سکیورٹی اہلکار، عام شہری اور دہشت گرد شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے اسی سال 1,066 حملوں میں مجموعی طور پر 3,413 اموات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق 2,115 دہشت گرد یا شدت پسند مارے گئے ، جبکہ 664 سے 677 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے اور 580 عام شہری بھی مارے گئے۔ دونوں اداروں کی رپورٹس میں اعداد و شمار کے فرق کے باوجود یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کیلئے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
2026ء کے ابتدائی مہینوں کے دوران بھی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے مطابق سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران دہشت گردی اور تشدد سے متعلق 813 اموات اور 518 زخمی ریکارڈ ہوئے ، جبکہ دوسری سہ ماہی میں 774 اموات اور 336 زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ سب سے زیادہ رہا اور دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 93 سے 96 فیصد اموات ریکارڈ ہوئیں ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ دیگر مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہیں ۔ ڈرون ٹیکنالوجی جیسے جدید طریقوں کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں لا رہے ہیں ، جس کے باعث پاکستانی سکیورٹی اداروں کیلئے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں ۔ اس لیے مسئلہ صرف سرحدی نگرانی تک محدود نہیں رہا بلکہ داخلی سلامتی، انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی سے نمٹنا بھی اس کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کی قیادت، پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں اور کابل انتظامیہ سے ان کے خلاف کارروائی کے لیے بارہا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لیکن ان سفارتی کوششوں اور مطالبات کے باوجود اگر پاکستان کے اندر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو ریاست کو اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کرنا پڑتے ہیں ۔ ستمبر 2026ء میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مختلف سکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں 100 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ان کارروائیوں کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے تربیتی مراکز کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں میں ہونے والی ایسی کارروائیوں کے سرکاری اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی ایک پاکستانی گروہ ہے اور اس سے متعلق مسئلہ پاکستان کا داخلی سکیورٹی معاملہ ہے۔ افغان حکومت پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں اور فضائی حملوں پر بھی اعتراض کرتی رہی ہے ، جبکہ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (UNAMA) نے بھی عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 2025ء اور 2026ء کے دوران سرحدی تنازعات میں افغان شہریوں کے متاثر ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں ایک طرف پاکستان اپنی سلامتی اور دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائیوں کو ضروری قرار دیتا ہے ، جبکہ دوسری طرف افغانستان ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری اور شہریوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ نتیجتاً سرحدی فائرنگ، ڈرون حملوں ، جوابی کارروائیوں اور احتجاج کا سلسلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اس بحران کا سب سے بڑا اثر سرحدی علاقوں کے عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ جب سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا کشیدگی کے باعث تجارت متاثر ہوتی ہے تو مزدوروں ، تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے کاروباروں کا روزگار براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کی آمدنی سرحد پار تجارت اور آمدورفت سے وابستہ ہوتی ہے۔ مسلسل ایسی کارروائیوں کے باعث مقامی منڈیوں ، روزگار اور معاشی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور خوف و غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اس دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کو دہشت گرد حملوں کی روک تھام، سرحدی نگرانی اور مقامی امن و امان کی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں ۔ اس لیے یہ بحران صرف فوجی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے انسانی اور معاشی اثرات بھی اہم ہیں ۔
دیکھا جائے تو اس بحران کا مستقل حل صرف فوجی طاقت سے ممکن نہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون، سیاسی مذاکرات اور سرحدی انتظام کو ایک مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ پاک افغان تعلقات تاریخی، ثقافتی، قبائلی اور معاشی روابط سے جڑے ہوئے ہیں اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں لوگوں کے خاندان، روزگار اور تجارت ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو ہوگا۔ چین اور دیگر علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کو بھی مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر نئے حملے کے بعد صرف جوابی کارروائی کرنے کے بجائے ان بنیادی عوامل کو ختم کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے جو ایسے حملوں کو جنم دیتے ہیں ۔ پاکستان کو اپنے عوام اور سرحدوں کے تحفظ کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، جبکہ افغانستان کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر دہشت گرد سرگرمی کے حوالے سے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سکیورٹی اور سفارت کاری ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ اس پیچیدہ بحران کے حل کے دو اہم حصے ہیں ۔ امید ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہوگا تاکہ عام لوگ اپنی زندگی امن و سکون کے ساتھ گزار سکیں ۔
٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں