فلسطین کی پکار اور مسلم دنیا کی ذمہ داری

مولانا محمد اسامہ پسروری
فلسطین کا مسئلہ اتنا پرانا ضرور ہے کہ دنیا اس کی عادی ہو جائے، مگر اتنا معمولی نہیں کہ اسے معمول کا مسئلہ سمجھ لیا جائے۔ غزہ کی تباہی نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے رکھا ہے کہ جب ایک پوری آبادی مسلسل خوف، بے گھری، بھوک اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کرے تو دنیا کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟ یہ سوال صرف فلسطین سے متعلق نہیں، بلکہ انسانی ضمیر سے متعلق ہے۔
غزہ میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، اسے صرف سیاسی کشمکش کے عنوان سے دیکھنا کافی نہیں۔ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ وہ شخص جس نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، مگر اس کا گھر تباہ ہو جاتا ہے؛ وہ بچہ جسے سیاست کا مطلب معلوم نہیں، مگر اس کا اسکول چھن جاتا ہے وہ مریض جس کے لیے علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر ہسپتال ہی متاثر ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو فلسطین کے مسئلے کو انسانی مسئلہ بناتی ہے۔
مسلم دنیا کے لیے فلسطین کی اہمیت مذہبی وابستگی سے بڑھ کر ایک تاریخی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے مقدس مقامات میں شامل ہے، لیکن فلسطین کے ساتھ تعلق صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ فلسطینی عوام کے جان و مال، عزت، بنیادی حقوق اور مستقبل کے بارے میں مسلم دنیا کا عملی کردار کیا ہے؟ کسی مسئلے کو اپنا مسئلہ کہنا آسان ہے، اسے مستقل ذمہ داری سمجھ کر کردار ادا کرنا مشکل ہے۔
فلسطین کے معاملے میں سب سے زیادہ ضرورت مستقل مزاجی کی ہے۔ کسی بڑے سانحے کے بعد چند دن احتجاج، بیانات اور سوشل میڈیا مہم کے بعد خاموش ہو جانا مسئلے کا حل نہیں۔ فلسطین کو مسلسل سفارتی توجہ، انسانی امداد، طبی و تعلیمی تعاون اور عالمی اداروں میں مؤثر آواز کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کے پاس اپنے اپنے سیاسی اور سفارتی ذرائع ہیں ان ذرائع کو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے استعمال کرنا ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ فلسطین کی حمایت صرف جذبات سے نہیں، درست معلومات اور ذمہ دارانہ طرزِ اظہار سے بھی ہونی چاہیے۔ آج ایک تصویر چند سیکنڈ میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے، لیکن اسی رفتار سے غلط خبر بھی پھیل سکتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات، جعلی تصاویر اور مبالغہ آمیز دعوے وقتی جذبات تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر فلسطین کے حقیقی مقدمے کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ سچی بات کو مضبوط دلیل کے ساتھ پیش کرنا کسی بھی سنجیدہ جدوجہد کا بنیادی تقاضا ہے۔
مسلم دنیا کے باہمی سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن ہر اختلاف کو فلسطین کے معاملے میں بے عملی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ مختلف حکومتوں کی خارجہ پالیسیاں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر انسانی جان کے تحفظ، امداد کی فراہمی اور بنیادی حقوق کی حمایت ایسے معاملات ہیں جہاں مشترکہ کوشش کی گنجائش موجود ہے۔ فلسطین کے لیے مشترکہ کردار کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلم ممالک ہر سیاسی مسئلے پر ایک رائے رکھتے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی المیے کے سامنے کم از کم بنیادی ذمہ داریوں پر اتفاق پیدا کیا جائے۔
فلسطین کا مسئلہ صرف غزہ تک محدود نہیں۔ مغربی کنارے کی صورتِ حال، آبادکاری، بے دخلی، نقل و حرکت کی پابندیاں اور فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد بھی اسی بڑے مسئلے کا حصہ ہیں۔ اس لیے اگر کسی مرحلے پر جنگ کی شدت کم بھی ہو جائے تو فلسطین کا سوال ختم نہیں ہو جاتا۔ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، مگر پائیدار امن کے لیے حقوق، تحفظ، سیاسی مستقبل اور انصاف کے بنیادی سوالات کا حل بھی ضروری ہے۔
اس معاملے میں مسلم عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ عوامی شعور، امدادی سرگرمیوں میں تعاون، درست معلومات کی ترسیل اور فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن عوامی جذبات کو ذمہ دارانہ اور تعمیری عمل سے جوڑنا ضروری ہے۔ کسی قوم کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خبر کو بغیر تحقیق کے قبول کر لیا جائے یا اختلاف رکھنے والے ہر شخص کو دشمن سمجھ لیا جائے۔ فلسطین کے لیے مضبوط آواز وہی ہوگی جو جذبات کے ساتھ عقل، دلیل اور اخلاق کو بھی ساتھ لے کر چلے۔
فلسطین نے مسلم دنیا کے سامنے ایک بنیادی سوال بھی رکھا ہے کیا ہم کسی مسئلے کو صرف اس وقت اہم سمجھتے ہیں جب وہ ہماری توجہ کا مرکز بنا ہوا ہو، یا ہماری وابستگی اس وقت بھی قائم رہتی ہے جب دنیا کی نظریں کسی اور طرف چلی جائیں؟ اگر فلسطین ہماری ترجیح ہے تو اس ترجیح کا اظہار صرف تقریروں میں نہیں بلکہ مسلسل سفارتی، انسانی اور فکری کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔
فلسطین کی پکار دراصل کسی ایک دن کا مطالبہ نہیں۔ یہ مسلسل توجہ، مستقل آواز اور ذمہ دارانہ کردار کا تقاضا ہے۔ مسلم دنیا کے لیے یہ وقت جذبات کو عمل، احتجاج کو پالیسی اور ہمدردی کو مستقل ذمہ داری میں تبدیل کرنے کا ہے۔ فلسطینی عوام کو صرف یہ سننے کی ضرورت نہیں کہ دنیا ان کے ساتھ ہے انہیں یہ بھی محسوس ہونا چاہیے کہ دنیا ان کے حقِ زندگی، عزت اور مستقبل کے لیے سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔
فلسطین کو ہماری وقتی ہمدردی نہیں، مستقل توجہ اور عملی حمایت درکار ہے۔ مسلم دنیا کی ذمہ داری صرف یہ کہنا نہیں کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، بلکہ اپنے وسائل، سفارت کاری اور اجتماعی آواز کے ذریعے ان کے حقِ زندگی، عزت اور مستقبل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں