پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے بحران اور عارضی استحکام کے چکر سے گزر رہی ہے۔ ہر بار معیشت کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں ، عالمی مالیاتی اداروں سے مدد لی جاتی ہے اور کچھ عرصے کے لیے مالی صورتحال بہتر ہوجاتی ہے ، لیکن بنیادی معاشی کمزوریوں پر مستقل کام نہ ہونے کے باعث مسائل دوبارہ سامنے آجاتے ہیں ۔ 2026ء میں معیشت کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے ضرور موجود ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بہتری پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل ہوسکے گی؟ موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کو اب عارضی انتظامات کے بجائے بنیادی اور طویل مدتی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ستمبر 2026ء کی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی نمو FY2026 میں 3.7 فیصد رہی، جو FY2025 کے 3.2 فیصد کے مقابلے میں بہتر ہے۔ خدمات، مینوفیکچرنگ کی بحالی اور زراعت میں کچھ بہتری اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں ۔ تاہم FY2027 کے لیے بھی شرح نمو کا اندازہ تقریباً 3.7 فیصد لگایا گیا ہے ، جو حکومت کے 4 فیصد ہدف سے کم ہے۔ مہنگائی FY2026 میں اوسطاً 7.1 فیصد رہی ہے جبکہ FY2027 میں اس کے 8.3 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ توانائی کی عالمی قیمتوں ، علاقائی تنازعات اور بیرونی معاشی دباؤ کے باعث پاکستان کو درپیش خطرات اب بھی برقرار ہیں ۔
ملکی معیشت کا مجموعی حجم 452.1 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، لیکن غربت کی شرح تقریباً 28.9 فیصد ہے ، جبکہ 2018-19ء میں یہ 21.9 فیصد تھی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے۔ جی ڈی پی میں اضافہ اس وقت زیادہ بامعنی بنتا ہے جب اس کے ساتھ روزگار، آمدنی اور بنیادی سہولیات میں بھی بہتری آئے۔ عام آدمی کے لیے معاشی استحکام کا مطلب صرف حکومتی اعداد و شمار نہیں بلکہ مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع اور خاندان کے اخراجات پورے کرنے کی بہتر صلاحیت ہے۔
قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ مارچ 2026ء کے اختتام تک ملکی مجموعی قرض 83.285 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ مالی خسارہ تقریباً 3 فیصد اور پرائمری سرپلس تقریباً 2.5 فیصد تک پہنچنا معاشی استحکام کے حوالے سے مثبت اشارے ہیں ، لیکن قرضوں کے مجموعی حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل معاشی استحکام ضروری ہے۔ اگر ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوگا تو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے لیے درکار وسائل محدود رہیں گے۔ اس لیے قرض کم کرنے کے ساتھ آمدنی بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔
ٹیکس نظام پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ موجودہ نظام میں ٹیکس کا بوجھ محدود شعبوں اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں پر زیادہ پڑتا ہے ، جبکہ زرعی آمدنی، ریٹیل، جائیداد اور دیگر شعبوں میں ٹیکس کا دائرہ اب بھی محدود ہے۔ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف نئے ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر ضروری چھوٹ ختم کرنا، ٹیکس چوری روکنا اور انتظامی نظام کو شفاف بنانا ہے۔ اگر ٹیکس آمدنی میں جی ڈی پی کے 3 فیصد کے برابر اضافہ لایا جاسکے تو اس کا ایک حصہ تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ پر خرچ کرکے عوامی بہبود کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
توانائی کا شعبہ بھی معیشت پر مسلسل بوجھ ڈال رہا ہے۔ بجلی اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں میں چوری، لائن لاسز، کم وصولیاں اور انتظامی کمزوریوں کے باعث سرکاری خزانے کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توانائی مہنگی ہونے سے صنعت، زراعت اور کاروبار کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے ، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے توانائی کے شعبے میں انتظامی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور بہتر وصولیوں کے ساتھ ساتھ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے جیسے قابل تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ توانائی کے درآمدی اخراجات کم ہونے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
برآمدات میں اضافہ کیے بغیر پاکستان کے لیے طویل مدتی معاشی استحکام مشکل ہے۔ ملک کی برآمدات اب بھی ٹیکسٹائل سمیت محدود روایتی مصنوعات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں ۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات میں نئے مواقع موجود ہیں ، لیکن ان کے لیے بہتر انفراسٹرکچر، ہنرمند نوجوان اور کاروبار دوست ریگولیٹری ماحول ضروری ہے۔ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-2030ء کے تحت ٹیرف میں کمی اور سرمایہ کاری کیلئے مراعات کے ذریعے صنعت کاری کو زیادہ مسابقتی بنایا جاسکتا ہے۔ FY2026 میں نجی سرمایہ کاری میں 8.6 فیصد اضافہ بھی ایک مثبت معاشی اشارہ ہے ، لیکن اسے برقرار رکھنے کے لیے کاروبار کرنے کی لاگت، غیر ضروری ضوابط اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا ہوگا۔
معاشی ترقی کی سب سے اہم بنیاد انسانی سرمایہ ہے۔ پاکستان کا ہیومن کیپیٹل انڈیکس 0.41 اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم، صحت اور مہارتوں کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ملک میں نوجوان آبادی کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، لیکن اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور فنی تربیت فراہم نہ کی گئی تو آبادی کا یہ بڑا حصہ معاشی طاقت میں تبدیل نہیں ہوسکے گا۔ خواتین کی افرادی قوت میں کم شرکت بھی ملکی پیداوار کو محدود کرتی ہے۔ تعلیم، صحت، فنی تربیت اور خاندانی منصوبہ بندی پر اخراجات کو محض خرچ نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی پیداوار میں سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔
زراعت، جو معیشت کا تقریباً 23 فیصد حصہ ہے ، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی کی کمی اور روایتی طریقہ ہائے کاشت کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کی بچت، بہتر بیج، تحقیق، ذخیرہ کاری اور منڈیوں تک بہتر رسائی کے ذریعے پیداوار اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ زرعی آمدنی کو مناسب طریقے سے ٹیکس نظام میں شامل کرنے سے صوبائی آمدنی بڑھانے کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں ، تاہم چھوٹے کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ان معاشی مسائل کے پس پردہ حکمرانی اور اداروں کی کارکردگی کا سوال بھی اہم ہے۔ غیر شفاف خریداری، بدعنوانی، سیاسی مداخلت، پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور کمزور ادارہ جاتی کارکردگی کاروباری طبقے کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کیلئے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، مناسب شعبوں میں نجی شراکت داری لانا، ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنانا اور وفاق و صوبوں کے درمیان ذمہ داریوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔ 18ویں ترمیم کی روح کے مطابق مالی اور انتظامی ہم آہنگی معاشی منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فسیلٹی کے تحت جاری اصلاحات پاکستان کی معاشی اصلاحات کے لیے ایک اہم موقع ہیں ۔ ان کا مقصد صرف قرض کی قسطیں حاصل کرنا نہیں بلکہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں مستقل تبدیلی لانا بھی ہے۔ ٹیکس، توانائی، برآمدات، تعلیم، صحت، زراعت اور حکمرانی کے شعبوں میں مسلسل اصلاحات ہی ملک کو بار بار آنے والے معاشی بحرانوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں ۔
پاکستان کے معاشی اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ عارضی اقدامات سے پائیدار ترقی ممکن نہیں ۔ اس کے ساتھ ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا، قرضوں میں کمی، توانائی کے نقصانات کو کم کرنا، برآمدات اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور اداروں کو مضبوط بنانا معاشی استحکام کے بنیادی راستے ہیں ۔ حقیقی معاشی کامیابی اس وقت ہوگی جب جی ڈی پی میں اضافے کے ساتھ عام آدمی کی آمدنی، روزگار، تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی میں بھی بہتری نظر آئے۔ پاکستان کو اب بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پالیسیوں کے بجائے مسلسل اور طویل مدتی معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے ، جس کے ذریعے ملک پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
٭٭٭٭
پاکستان کے معاشی اعداد و شمار اور اصلاحات کی ضرورت