تحریر: عباس مہد
انسانوں کی تاریخ، قومی معیشتوں کے ارتقاء اور ریاستوں کے عروج و زوال کے صحائف کا اگر ایک عمیق، سائنسی اور تحلیلی نظر سے مطالعہ کیا جائے ، تو یہ تلخ حقیقت کھلی کتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ قحط محض بارشوں کا رک جانا یا زمین کا بنجر ہو جانا نہیں ہوتا۔ قحط دراصل کسی قوم کی فکر، اس کی پالیسی سازی، اس کے معاشی عدل اور اس کے طرزِ حکمرانی کی اخلاقی و انتظامی تنزلی کا حتمی، منطقی اور بھیانک نتیجہ ہوتا ہے۔ جب کوئی ریاست اپنے قدرتی وسائل، آبی ذخائر اور معاشی انصاف کے بنیادی اصولوں سے مجرمانہ غفلت برتنے لگتی ہے ، تو قدرت کا قانونِ مکافاتِ عمل حرکت میں آتا ہے اور غلہ اگانے والی زرخیز دھرتی بنجر صحراؤں میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ آج اگر ہم پاکستان کے موجودہ سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی منظرنامے کا ایک غیر جانبدارانہ اور تزویراتی جائزہ لیں ، تو یہ انتباہ کسی مفروضے کی حد تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک خونخوار حقیقت بن کر سامنے کھڑا نظر آتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے معاشی رویوں اور ریاستی ترجیحات کو فوری نہ بدلا، تو اس مملکتِ خداداد میں ایک ہمہ گیر، تباہ کن اور ناقابلِ تلافی قحط کا بستر بچھنے والا ہے۔اس ابھرتے ہوئے معاشی اور انسانی بحران کا سب سے پہلا اور بنیادی ساخت جاتی ستون ہمارے “آبی وسائل کا تیزی سے خستہ حال ہونا اور زراعت کا ساخت جاتی انہدام” ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار، صنعتی خام مال، روزگار اور غذائی خودانحصاری کی تمام تر عمارت زرعی شعبے کی پائیداری پر استوار ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنے دریاؤں ، ندی نالوں اور زیرِ زمین پانی کے نایاب ذخائر کا جس بے دردی اور غیر سائنسی انداز سے استحصال کیا ہے ، اس کی مثال تیار پذیر معیشتوں میں کم ہی ملتی ہے۔ ہم نے نہ تو وقت پر معتبر آبی ذخائر اور ڈیم تعمیر کیے اور نہ ہی پانی کی منصفانہ تقسیم، تحفظ اور بچت کے لیے جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں فی کس پانی کی دستیابی ایک خطرناک اور بحرانی حد تک گر چکی ہے۔ ہمارے ندی نالے اور نہریں سوکھ رہی ہیں ، اور زیرِ زمین پانی کی سطح اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ ٹیوب ویل بھی ناکارہ ہوتے جا رہے ہیں ۔ جب کسان کو اپنی فصلوں کے لیے وقت پر پانی میسر نہیں ہوگا، جب کپاس، گندم، چاول اور گنے کی کاشت کے لیے سیراب زمینیں میسر نہیں ہوں گی، تو قومی سطح پر غلہ اور بنیادی خوراک کی شدید قلت کا پیدا ہونا ایک قدرتی اور حتمی نتیجہ ہے۔اس تزویراتی المیے کا دوسرا اور انتہائی معنوی پہلو “موسمیاتی تبدیلی کا بے رحم تازیانہ اور ماحولیاتی غفلت” ہے۔ ہم اکیسویں صدی کے اس نازک موڑ پر دنیا کے ان چند حساس ترین اور غیر محفوظ ممالک میں شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بھیانک اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں ۔ کبھی ہمارے ہاں سیلابوں کی صورت میں وہ تباہی مچتی ہے جو تیار فصلوں ، مویشیوں اور دیہاتی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بہا کر لے جاتی ہے ، تو کبھی طویل اور بے رحم خشکسالی ہمارے کھیتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ ہم اپنے جنگلات کو کلہاڑیوں کی نذر کر رہے ہیں ، زرخیز زرعی زمینوں کو بلڈوز کر کے وہاں کنکریٹ کی غیر پیداواری ہاؤسنگ سکیمیں اور تجارتی مراکزی ہب قائم کر رہے ہیں ، اور قدرت کے متوازن ماحولیاتی نظام کو زہر آلود کر رہے ہیں ۔ جب زرخیز زرعی رقبہ روز بروز سکڑتا چلا جائے گا اور آبادی میں بے ہنگم و غیر متوازن اضافہ ہوتا رہے گا، تو آنے والے کل میں قوم کے نونہالوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہیں ہوگا۔ یہ وہ غذائی و ماحولیاتی قحط ہوگا جس کے سامنے دنیا کی تمام مادی پیش رفت اور کاغذی دعوے دم توڑ دیں گے۔تزویراتی اور معاشی افق پر ابھرتا ہوا ایک اور انتہائی سنگین اور پیچیدہ خطرہ ہماری “مالیاتی بدحالی، ناہمواری اور درآمد شدہ خوراک پر اندھا انحصار” ہے۔ ایک دور تھا جب پاکستان دنیا بھر میں زرعی اجناس برآمد کرنے کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن آج ہماری معاشی بدحالی اور ناقص پالیسیوں کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنی بنیادی ضروریات یعنی گندم، دالیں ، چینی، اور چائے جیسی اشیاء بھی دوسرے ممالک سے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ خرچ کر کے منگوانے پر مجبور ہیں ۔ جب ملک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہوں ، جب روپئے کی قدر مسلسل گر رہی ہو اور ہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سودی قرضوں کی دلدل میں گردن تک دھنس چکے ہوں ، تو ایسے میں عالمی منڈی سے مہنگی خوراک خریدنا ہماری مالیاتی صلاحیت سے باہر ہوتا چلا جائے گا۔ یہ محض ایک زرعی قحط نہیں ہوگا بلکہ ایک ہولناک “مالیاتی و تجارتی قحط” ہوگا جہاں منڈیوں میں سامان تو موجود ہوگا مگر عام شہری کی جیب میں اسے خریدنے کی قوت بالکلیہ ختم ہو چکی ہوگی۔اس تمام تر المیے کا سب سے خوفناک، معنوانی اور زہریلا روپ “اخلاقی، آئینی و حاکمیت کا قحط” ہے۔ کسی بھی ملک میں واقعی قحط اس وقت آتا ہے جب اس کے حکمرانوں ، پالیسی سازوں اور مقتدر اشرافیہ کے دلوں سے احساسِ ذمہ داری، عدل اور قوم کی دردمندی کا جذبہ رخصت ہو جائے۔ ہماری حکمران اشرافیہ سیاسی کھینچ تان، اینٹ پتھر کی غیر پیداواری تعمیرات اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ میں اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ انہیں آئندہ چند سالوں میں جنم لینے والے اس غذائی اور آبی طوفان کی کوئی پرواہ نہیں ۔ ہماری معاشی شریانوں میں ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، اور ناجائز منافع خوری کا ایک ایسا بے لگام نظام سراسر سرائیت کر چکا ہے جو غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے کو اپنی معاشی کامیابی سمجھتا ہے۔ جب انصاف، رحم دلی، اور اجتماعی بیداری کا قحط پڑ جائے تو پھر غذا، پانی اور سکون کا قحط خود بخود قوموں کا مقدر بن جاتا ہے۔”قحط پڑنے والا ہے ” کا یہ تجزیاتی انتباہ محض ایک لفظی ڈراوا نہیں بلکہ ہمارے سامنے موجود حقائق کا آفاقی آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی بیداری کا ثبوت نہ دیا، اگر ہم نے ایمرجنسی بنیادوں پر نئے آبی ذخائر نہ بنائے ، زرعی زمینوں کی کاروباری مقاصد کے لیے تباہی کو نہ روکا، کسان کو اس کی محنت کا پورا حق نہ دیا، اور اپنے اخلاقی و معاشی نظام میں عدل کو قائم نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وقت کا حتمی تقاضا ہے کہ ریاست کے ایوانوں سے لے کر عوام کی گلیوں تک، تمام طبقات مل کر ایک انقلابی، سائنسی اور مساوی معاشی و زرعی روڈ میپ تیار کریں ۔ اس سے پہلے کہ ہماری خشک سالی اور پالیسی سازوں کی نادانی سے ہماری اگلی نسلیں بھوک اور پیاس سے بلبلا اٹھیں ، ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا اور اس دھرتی کی بقا کے لیے عمل کا میدان سنبھالنا ہوگا!
سوکھتے دریا، بنجر کھیت اور غذائی قحط کی آہٹ