
تحریر: عبدالفتاح عباسی
پاکستان کے صوبہ سندھ کی زرخیز اور خوبصورت سرزمین سے ایک سے بڑھ کر ایک انمول ھیروز دلیر بہادر نڈر قسم کے عظیم ھستیون نے جنم لیا ہے ، سندھ کی زرخیز سرزمین میں وہ خوشبوء سمائی ہوئی ہے. جس کی شاندار تاریخ میں غیرت مند جذبے کی عکاسی کرنے والے اپنے سرزمین اپنے وطن پاکستان اپنی سرزمین سندھ کے ساتھ وعدہ نبھاتے ہوئے آگے کی جانب رواں دواں رہے ہیں . سندھ کی خوبصورت مٹھی ہواؤں کی سرحدیں اپنے اور دوسروں کیلئے یکسان پیار و محبت کا جذبہ رکھنے والی دھرتی سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی نمایاں خصوصیات رکھنے والی عظیم سیاسی مدبر شخصیت شہید ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں 18 ستمبر 1954ع میں میر غلام المرتضیٰ بھٹو کی پیدائش ہوئی. شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت مدبرانہ انداز بیان، عوامی جذبہ، اپنی دھرتی ماں سے لگاء، عوام ملک و قوم کیلئے سچا مخلصانہ کھرا انمول اور بے مثال جوش جذبہ اور اپنے ملک پاکستان کو دنیا کے نقشے میں سب سے نمایاں اور اہمیت افادیت میں بلند و بالا دیکھنے کیلئے کسی بھی جابر غاصب ڈکٹیٹر، آمر کے سامنے جھکنے کے بجائے ہمیشہ سر اٹھا کر جینے کا سبق دوسروں کو دینے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ ہمیشہ سنہری الفاظ میں بیان کی جائے گی کیونکہ انہوں ملک و قوم کیلئے رسمی فارملٹی والی سیاست نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے سندھ کے ایک غیرت مند ماں کے دودھ کو نبھاتے ہوئے کبھی بھی کسی موڑ پر بھی پیچھے دیکھنے کے بجائے بزدل کائنر ڈر پوک لوگوں کو ہر موڑ پر دلی طرح چئلینج کرتے کہا کہ بھٹو ایک نہیں ہے دو ہیں ایک میں جسمانی طور پر دوسرا آپ عوام ہیں . اسی دلیر بہادر نڈر قسم کی عظیم سیاسی شخصیت کا بیٹا میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے برابر سیم ٹو سیم کاپی کے طور پر جس طرح دلیرانہ بہادرانہ مخلصانہ بے خوف نیک نیت سیاسی باب کا بنیاد رکھا جس کیلئے پورا پاکستان مگر پاکستان کا صوبہ سندھ کا ضلع لاڑکانہ شہر کا بچہ بچہ، ضعیف العمر، خواتین، مرد، نوجوان بلکہ ہر ایک شہید ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو سے سب سے زیادہ پیار و محبت کرتا ہے. کیونکہ جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملک پاکستان سندھ اور اپنے آبائی شہر لاڑکانہ کے عوام کی ہر مرتبہ ہر موقع پر دل جوئی کرنے کے ساتھ ساتھ شہید ذوالفقار علی بھٹو اپنے لوگوں میں آکر خود کو وزیر اعظم نہیں بلکہ لاڑکانہ کا سندھ کا پاکستان کا ایک شہری ایک اپنا ہوکر میل ملاقاتیں کرتا تھا اسی ہی طرح سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے المرتضٰی ھاؤس کے دروازے ہمیشہ سب کیلئے عملی طرح کھلے رہتے تھے. شہید میر مرتضیٰ بھٹو اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ہر ایک سے میل ملاقات کرنے کے علاوہ عوامی مسائل لوگوں کے بڑی توجہ سے سنتے اور انہیں مسائل کے حل کیلئے فردن فردن ان کا سدباب شکایت مسائل دور کرنے کیلئے عملی کوششیں کرتا تھا. شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی عوام دوستی کی لاڑکانہ سندھ کے لوگ مثالیں دیتے رہتے ہیں . وہ اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کے کچھ دنوں کے بعد وہ آمریتی دور میں جلاوطنی میں وقت گذارتا رہا. انہوں نے ملک شام، دمشق، لبنان، افغانستان، فرانس، فلسطین و دیگر ممالک میں جلاوطنی کے دن بڑی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کیسے گذارے وہ ایک تلخ حقیقت ہے. آخر کار انہوں نے اپنی جلاوطنی کے بعد ملک پاکستان واپسی پر اپنے آبائی المرتضٰی ھاؤس جو کہ میر صاحب کے پڑ دادا غلام مرتضیٰ خان بھٹو کے نام سے میر صاحب کے دادا شاہنواز علی خان بھٹو نے بنایا تھا جس میں ملک کا پہلا منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو اکثر رہائش اختیار کرتا رہا، اسی طرح میر صاحب اپنے گھر میں پہنچ کر نہ صرف اپنے آبائی گھر المرتضی ھاؤس کی بلکہ لاڑکانہ شہر کی رونقیں بحال کردیں . اسی طرح میر مرتضیٰ بھٹو کے سندھ لاڑکانہ پہنچنے پر پورے ملک خصوصاً سندھ کے شہر شہر، گاون گاؤں ، قریہ قریہ، نگر نگر، وستی وستی ہر جگہ سے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے گھر المرتضی ھاؤس کی دوبارہ لوگوں کے قافلوں وفود میں آنے سے رونقیں بحال ہوگئیں . پاکستان کا باشعور طبقہ بہت بڑی خوشی محسوس کرنے لگا اور لاڑکانہ کے لوگوں کی انتھا درجے کی خوشی سے جھوم اٹھے اور پھر لاڑکانہ کے عوام نے اپنا قیمتی ووٹ دیکر ایک مرتبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ملک کیلئے عظیم قربانی نبھاتے ہوئے بیگم نصرت بھٹو، میڈم غنوی بھٹو اور فاطمہ بھٹو اور جونیئر ذوالفقار علی بھٹو جو کہ پوری بھٹو فیملی کا اکیلا وارث ہے. جو کہ اپنے دادا شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنے والد میر مرتضیٰ بھٹو کے عوامی خدمت میں ٹو کاپی کی طور پر سامنے آرہا ہے ، میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی جلاوطنی کے دوران کافی مشکلات مصائب، درد و آلام کا سامنا کیا آسی دوران انہی کو بڑے تجربات بھری زندگی سے گذرنا پڑا اسی طرح ہی اسی کے بیٹے جونیئر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی طرح طرح کی مشکلات مصائب مسائل کا سامنا کرنے پڑے ہیں مگر یہ بات ایک کھلی حقیقت ہے کہ ملک پاکستان اور صوبہ سندھ کی سرزمین لاڑکانہ میں ایسی مقناطیسی کشش ہے کہ لاڑکانہ سندھ کا بھٹو جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے گھر کا خاندان کا وارث وہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو ہو یا پھر جونیئر ذوالفقار علی بھٹو ہو وہ کمال مٹی سے جنم لینے والے شخصیات ہیں ان کے بلڈ خون میں سچی مخلصانہ عوامی خدمات کا جذبہ اٹوٹ سمندر کی طرح سماں ہوا ہے. ان کی فطرت میں عوام کی خدمت کرنا لکھا ہوا ہے. میر مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ شہر الیکشن کے دوران 1993ع میں کامیاب ہوئے اور سندھ اسمبلی کے ممبر بنے. انہوں نے 1995 میں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو پارٹی تنظیم کا بنیاد رکھا، جس کے بعد انہوں سندھ اسمبلی میں عوامی خدمات کیلئے اپنے بہادر جرئتمند والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سندھ کے منتخب ایوان میں مسخرا پن، مذاق کے سلسلے کو ختم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کیں ، شاید ملک پاکستان کا یہ واحد اسمبلی میمبر تھا جس کے دروازے ہر وقت ھمیشہ عملی طور پر کھلی ہوئے دکھائی دیئے ، لاڑکانہ کے لوگ اگر انکروچمنٹ کے نام پر مظالم کا شکار ہوتے یا لاڑکانہ شہر میں غریب عوام کا سرکاری اسپتال میں علاج نہیں ہوتا یا پھر شہر لاڑکانہ میں صفائی ستھرائی کا کام بہتر نہیں ہوتے دکھائی دیتا تو پھر شہید ابن شہید میر مرتضیٰ بھٹو صاحب دن ہو رات اپنی گاڑی میں نکل پڑتا تھا جس پر کئی بار اتفاق یہ بھی ہوا کہ وقت کے کرپٹ افسران دفاتر سے بھاگ کر چلے جاتے تھے. میر مرتضیٰ بھٹو عوامی لیڈر تھا ان کی دوستی محبت پیار الفت صرف اور صرف انہیں مزدور طبقہ مساکین سے تھی وہ اپنے والد کی ملک پر بادشاہی بھی دیکھ چکا تھا اور انہوں نے مصائب و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جلاوطنی بھی برداشت کی تھی انہی کو عوامی احساس درد شدت سے تھا. وہ ملکاں ملک دربدری کے مسائل سے بہت کچھ سیکھ چکا تھا ان کی ہمدردی صرف اپنے لوگوں ملک کے عوام کے ساتھ تھیں . وہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، وڈیروں ، چوہدریوں اور اس طرح کے کلچر سے شدید ترین نفرت کرتا تھا کیونکہ اسی کلچر میں ملک کے حقیقی مسائل کا حل نا ممکن ہے اور یہ طبقہ ھمیشہ اپنے کلاس کے کیلئے جیتا اور مرتا ہے ، اسی طرح ملک انہی کلچر سے تباھ و برباد ہوجاتا ہے ، اسی وڈیرا، نواب، رئیس، خان، چوہدری، بھوتار کلچر نے ملک پاکستان کے سسٹم کو پیچھے کیا ہوا ہے. میر مرتضیٰ بھٹو پاکستان کے تمام صوبوں پنجاب، کے پی کے ، بلوچستان ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر جگہ جگہ گئے اور ملک پاکستان کے عوام کو اعلی اعلان بتایا کہ ملک پاکستان کو بچانا ہے تو اسی جاگیردار، سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دے کر ملک کے اصل قوت طاقت عوام کی زبان آواز کو سمجھنے کی کوشش کریں . ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں سب سے پہلے بے نظیر بھٹو نے جنم لیا اس کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو بعد میں صنم بھٹو پیدا ہوئی. اسی طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی بیوی بیگم نصرت بھٹو سے چار دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ، ذوالفقار علی بھٹو سنی اھلسنت سے تعلق رکھتا تھا، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی اپنے والد شہید کی طرح سنی اھلسنت سے تعلق رکھنے والی خاتون تھی. اسی طرح شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور اس کا بھائی شاھنواز بھٹو بھی سنی اھلسنت سے تعلق رکھنے والے تھے ، جبکہ بیگم نصرت بھٹو ایران کی تھی وہ شیعہ تھیں . میر مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ میں اھلسنت جماعت بریلوی مسلک کی جامع مسجد قاسمیہ عید گاھ میں نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے. میر مرتضیٰ بھٹو سندھی، بلوچ، پختون، پنجابی، سرائیکی، براہوئی، کشمیریوں سمیت دیگر زبانیں بولنے والوں کے ایک ایسا ھیرو مرد مجاھد تھا جس کی نہ صرف پورے ملک پاکستان کے گلی کوچوں میں چرچا سالھا سال سے بہادری جرئتمندانہ اقدامات کی وجہ سے چل رہا ہے. اس کو ملک کا ہر فرد عوام کا سمندر دل سے چاہتا رہا مگر ملک کی مافیاؤں سازشی عناصر ایک ملک کا ایسا طبقہ جو کہ کسی صورت میں بھی نہیں چاہتا ہے کہ عوام خوشحال بنے ، وہ نہیں چاہتا ہے کہ ملک پاکستان ترقی کرے ، وہ طبقہ کبھی نہیں چاہتا ہے کہ عوام کو پذیرائی دی جائے کہ وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر اپنے حقوق کی بات کرے ، وہ سازشی عناصر طبقہ ملک کی ترقی خوشحالی کے بجائے ملک کو مسائل میں گھیرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ، وہ لٹیرا قابض مافیاؤں سے بھرا ہوا طبقہ کسی آور کی ایجنڈا پر کام کرتے ہوئے ہمارے ملک پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے اسی لئے وہ سامراج دلال ایجنٹ طبقہ ہر دور میں سازشیں کرکے ہماری صفوں میں گھس کر ہمیں ہی بیوقوف کرکے طرح طرح کی لالچیں دیکر ہمارے دلیر بہادر جرئتمندانہ حوصلہ رکھنے والے عظیم لیڈروں سربراہوں ، رہنماؤں سے محروم کرتا رہا ہے ، وہ سازشی عناصر کا لوٹمار کرنے والا طبقہ ملک میں ایسے کٹ پتلی تماش بین لوگوں کی بھرتی کی جاتی ہے جو کہ زبان ہوتے ہوئے بھی بول نہیں سکتے ؟ آنکھیں ہونے کے باوجود دیکھ نہیں سکتے ؟، کان سماعت ہونے کے باوجود وہ کٹ پتلی تماش بین سن نہیں سکتے ھین؟، ہمارے ملک میں ایسے نوجوان وطن دوست، جرئتمند، بہادر، پڑھے لکھے مخلصانہ جذبہ رکھنے والوں کی قیادت کی اشد ضرورت ہے جو کہ کسی سازشی عناصر کا حصہ نہ ہوں بلکہ وہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو جیسا ملک دوستی کا مثال کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہوں . ابھی بھی شدت سے پوری دنیا و پاکستان کے تمام تر صوبوں کا کروڑھا عوام یہ بات بڑے فخر سے اور خواہش کے طور پر کرتا ہے کہ اگر اس ملک میں شہید ذوالفقار علی بھٹو ہوتا یا اس کا صاحبزادہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو زندھ ہوتے تو ملک پاکستان کا یہ حال موجودہ مسائل نہیں ہوتے!، کیوں کہ انہیں میں مدبرانہ ویزن سوچ تھی
وہ حقیقی عوامی نمائندگان تھے وہ عوام عام آدمی کے درد مشکلات کا درمان سمجھتے تھے ، ان کو کرپشن، مافیاؤں کو پالنے کی عادت نہیں تھی، وہ نیک نیت، مخلص عوامی ورکرز کی طرح سربراہان بنے تھے. ان کا اقوام متحدہ یو این او کے بین الاقوامی ایوانوں میں گونج کر اٹھنا کوئی معمولی بات نہیں تھی ایسے لوگ صدیون میں پیدا ہوتے ہیں . پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے ، یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں ہے کیونکہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کو 30 برس گذر گئے ہیں اور اگر ابھی میر صاحب کے کیس مقدمہ کو ری اوپن کیا جاتا ہے تو پھر نہ صرف میڈم غنوی بھٹو، فاطمہ بھٹو اور جونیئر ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف ملے گا بلکہ کروڑھا پاکستانیوں اور دنیا کے حق و صداقت کی پرچار تبلیغ کرنے والوں کو ایک انصاف عدالت سچائی کی امید ملنے لگی گی. میر مرتضیٰ بھٹو کے کیس کے ری اوپن کھلنے پر سب سے زیادہ خوشی اس ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے روح اور اس کے کروڑوں چاہنے والوں کو ملے گی، یاد رہے کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے قریبی پرانے ملازم نور محمد نے سال 2010ع میں شہید میر صاحب کے قتل میں ملوث ملزمان کے بری کرنے کے خلاف اپیل داخل کرائی تھی. جس کو منظور کردیا گیا ہے ، جس کو سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس کو دوبارہ چلنے کا حکم دیا ہے اور یہ کیس تین ہفتوں کے اندر سماعت سننے کیلئے کہا گیا ہے. ملک پاکستان کا عوام خاص طور پر سندھ کا عوام ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ انصاف دیکھنا چاہتے ہیں .
بنے ہیں اھل حوس، مدعی بھی، منصف بھی،
کسی وکیل کرین، کسی سے منصفی چاہیں .
یہ بات واضح ہے کہ بھٹو خاندان سے انصاف ہونا ہے وہ کب ہونا ہے وہ وقت و حالات پر منحصر ہے ، برحال یہ بات اٹل ہے کہ:
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق،
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق.
میر مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996ع میں سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مشہور شاہراھ 70 کلفٹن اپنی رہائش گاہ کے سامنے ایک مکروھ سوچ نے گولیاں لگا کر خون میں لت پت کردیا اور ایک جوان جرئتمند بہادر نڈر وقت کا عوامی منتخب نمائندہ میمبر سندھ اسمبلی شہادت نوش کیا. جس ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کو کھلی عام دیدہ دلیری کے ساتھ خون آلود کرکے شہید کیا گیا وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا بلکہ ایک ہی وقت میں ملک کی اس وقت کی موجودہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا بھائی تھا، اس وقت کی قومی اسمبلی کے رکن بیگم نصرت بھٹو کا بیٹا تھا اور وہ خود سندھ اسمبلی کا ممبر (ایم پی اے) تھا مگر بے یارو مددگار کی طرح مارایا گیا. جس پر بھٹو خاندان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں جانثاران شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے. عوام کی آواز ہے کہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادہ شہید میر مرتضی بھٹو کے ساتھ ابھی تو انصاف کیا جائے. کیونکہ بھٹو خاندان کے ساتھ ملک کا عوام شہید بھٹو کی ملک کیلئے بے مثال قربانیوں کے سبب محبت کرتا ہے اور وہ اسی شہیدوں کے خون کے ساتھ انصاف کا تقاضا بھی کرتا ہے. اللہ کے ہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں ہے. مکافات عمل ہے عروج کو زوال انا ہے. نمرود ، فرعون ، یزید ان ظالموں کا عبرتناک انجام تو ہوا ہی ہوا مگر ان کا نام نشان تک نہیں ہے. جو بھی ظلم کرے گا، اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھیانک عبرتناک انجام کرے گا، یہ اللہ پاک کے انصاف کا ترازو ہے. خواب غفلت سے بیدار ہوکر شہیدوں کے گھرانے سے انصاف کرنا وقت کے حکمرانوں کی اہم ذمہ داری ہے.
شہید میر مرتضی بھٹو ایک عوامی لیڈر تھے