ایک سنہری دور وہ بھی تھا، جب پاکستان میں صرف پی ٹی وی کا ہی راج ہوا کرتا تھا۔ تب پاکستانی ڈراموں کی دھوم پورے برصغیر پاک و ہند میں گونجا کرتی تھی۔ ہر کوئی ان کا شیدائی تھا۔ پی ٹی وی کی پندرہ یا سولہ گھنٹوں پر مشتمل نشریات ایک مخصوص ترتیب کے مطابق چلا کرتی تھیں ۔ بچوں ، جوانوں اور بزرگوں کے پروگرامز اپنے وقت پر نشر ہوا کرتے تھے۔ سب کو یہ آگاہی ہوا کرتی تھی کہ کب کون سا پروگرام نشر ہو گا۔ ڈراموں کے لئے 8 بجے کا وقت مقرر تھا۔ ڈرامے کی قسط ہفتے میں ایک بار ہی آیا کرتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب مشہور ڈراموں کو دیکھنے کے لئے گلیاں اور بازار سنسان ہو جایا کرتے تھے۔ اس وقت کے ڈراموں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان میں عوامی مسائل کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ اخلاقیات کا بھرپور خیال رکھا جاتا تھا۔غرض ان ڈراموں میں تفریح کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے حقائق اور آداب بھی سکھائے جاتے تھے۔ ڈراموں کو غیر ضروری طوالت دینے کا رواج نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ تیرہ اقساط کا ڈرامہ ایک سہ ماہی کے بعد ختم ہو جائے گا۔ یوں وہ ڈرامے اختتام پذیر ہو جانے کے بعد بھی سالوں یاد رکھے جاتے تھے۔ لوگ ان سے سیکھا سبق زندگی کے تجربات کے طور پر اپنے اوپر لاگو کیا کرتے تھے۔ یوں خاندانوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی طرف توجہ زیادہ مرکوز کی جاتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وقت نے اپنا رنگ ڈھنگ بھی بدل ڈالا۔ پی ٹی وی کی اجارہ داری ختم ہو گئی۔ ملک میں طرح طرح کے نجی نشریاتی اداروں کی بھرمار ہو گئی۔ ان کی نشریات چوبیس گھنٹے چلنے لگیں ۔ رات بھر دن کی نشریات دوبارہ نشر ہوتیں ، تاکہ کوئی بھی ان نشریات کو دیکھنے سے محروم نہ رہ جائے۔ اب ان نشریاتی اداروں نے مزید پھیلاؤ کی دوڑ میں نیوز کے لئے الگ چینل، کھیلوں کے لئے الگ چینل، تفریحی نشریات کے لئے الگ چینل، کھانا پکانے کے لئے الگ چینل بنا ڈالے۔ غرض اتنے حصوں میں سب کو بانٹ لیا کہ ان تمام چینلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ایک ان دیکھی دوڑ شروع ہو گئی۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ جب زیادہ مواد کی ضرورت ہو، اور کم مواد موجود ہو تو پھر معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس وقت ضرورت صرف مواد کے حصول کی رہ جاتی ہے۔ جیسا ہو بس مواد ہو اور آسانی سے مل رہا ہو۔ سو وہی ہوا کہ معیار آہستہ آہستہ کہیں غائب ہونے لگا اور غیر معیاری مواد ضرورت سے زیادہ نشر ہونے لگا۔
اب یہ حال ہے کہ غیر ضروری طور پر اقساط کی تعداد تیرہ کے بجائے چالیس، چالیس اور کہیں اس سے بھی زیادہ بنائی جانے لگی ہیں ۔ ڈرامے ہفتے میں دو بار نشر ہونے لگے ہیں ۔ جو پیغام بہت بہتر انداز میں تیرہ اقساط میں دیا جا رہا تھا؛ اس کو چینلوں کے وقت کا ایندھن بنانے کے لئے غیر ضروری طوالت کا شکار کر دیا گیا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی ربڑ کی طرح کھینچ کر لمبی کرنے کی کوششوں سے عوام میں بوریت کا عنصر پیدا ہونے لگا ہے۔ غرض کئی بار ایک اچھا سبق آموز ڈرامہ بھی یونہی بوریت کے پردے میں لپٹ کر عوام کے ذہنوں پر نقش نہیں ہو سکا۔ پھر یہ ڈرامے اور ان کے مصنف عوامی مسائل سے نکل کر ایک پر تعیش زندگی دکھانے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں ۔ جس سے معاشرے میں عدم برداشت اور غیر سکونی نے جنم لے لیا ہے۔
پہلے ڈراموں میں جہاں قناعت کا سبق سکھایا جاتا تھا؛ وہاں اب حرص و ہوس کے سبق نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ہر جائز ناجائز طریقے سے دولت کا حصول ہی مقصد حیات بنا دیا گیا ہے۔ غیر ضروری پر تعیش چیزوں کی نمائش کی جانے لگی ہے۔ اشتہاری کمپنیوں کے آلہ کار بن کر اس تہذیب کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو ہمارے معاشرے کے اقدار مخالف رہی ہیں ۔ اس سب صورتحال میں معاشرہ اب آہستہ آہستہ بگاڑ کا شکار ہونے لگا۔ حکومت نے ان تمام باتوں پر نظر رکھنے کے لئے ایک ادارہ ‘ پیمرا ‘ کی بھی تشکیل دی ہے ، تاکہ اس طرف مکمل دھیان رہے ؛ لیکن شاید بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا ان کے لئے ایک مشکل کام ہے۔ بڑی مچھلیاں آسانی سے یہ جالا توڑنے میں کامیاب نظر آ رہی ہیں ۔ پہلے کسی کو سگریٹ پیتے دکھانے پر ایک وارننگ نظر آ جاتی تھی، ‘سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے ‘۔ مگر اب تو وقت ایسا بدلا ہے کہ سگریٹ سے آگے شراب نوشی بھی دکھائی جانے لگی ہے ، ایک ہلکی سی کسی کونے میں تحریر پر یہ لکھا نظر آنے لگا ہے ، ‘شراب نوشی حرام ہے ‘۔ مزید دیدہ دلیری بڑھتی جا رہی ہیں ، ڈانس پارٹیاں اور غیر اخلاقی مناظر کی بھرمار کرنے کی کوشش میں ان ڈراموں کے ذریعے نئی نسل کو بگاڑنے کا مکمل انتظام کیا جا رہا ہے۔
حساس مذہبی موضوعات کو بغیر آگاہی ڈنکے کی چوٹ پر زیر بحث بنایا جا رہا ہے۔ جس پر ناصرف پیمرا بلکہ ذمہ دار احباب بھی لمبی تان کر سو رہے ہیں ۔ ہر سچ دکھانے کے لئے مختلف ذرائع ہوا کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ فلم کے موضوعات ڈراموں میں نہیں دکھائے جاتے۔ یہ موضوعات اگر فلم بین بڑی اسکرین پر دیکھیں گے تو وہاں اس فلم کو دیکھنے کے لئے عمر کی حد مقرر کی جا سکتی ہے ؛ مگر ڈرائنگ روم میں لگی ٹی وی کی اسکرین کو دیکھنے کے لئے حد کون مقرر کر کے روک سکتا ہے ؟ وہاں صرف ان نشریاتی اداروں کا ضمیر، یا حکومت وقت کے اقدامات ہی درست راہ متعین کر سکتے ہیں ۔
٭٭٭٭
ٹی وی ڈرامہ: تفریح یا اخلاقی بگاڑ