سندھ کی انتظامی تقسیم کا بحث ملک کے نام نہاد قومی میڈیا میں زور و شور سے جاری ہے۔ مختلف ٹی وی پروگراموں اور تجزیوں میں سندھ کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مسائل کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور نئے انتظامی یونٹس کو گویا ہر مسئلے کا واحد حل قرار دیا جا رہا ہے۔ کسی بھی سیاسی تجویز پر بحث کرنا جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اگر ایک ہی رائے کو مسلسل منظم انداز میں پیش کیا جائے اور اس کے برعکس سندھ کے عوامی موقف کو میڈیا میں مناسب جگہ نہ دی جائے تو قومی میڈیا کے بارے میں شفافیت کے سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔
سندھ کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے سندھ کی تاریخ، سماج اور سیاسی مزاج کو سمجھنا ضروری ہے۔ سندھ صدیوں سے اپنی الگ تاریخی اور ثقافتی شناخت رکھنے والا خطہ ہے۔ یہاں صوبائی وحدت کا تصور صرف انتظامی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کے تاریخی شعور اور اجتماعی احساسات سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے سندھ کی تقسیم کو صرف آبادی، شہروں کے انتظام یا حکمرانی کے مسائل کی بنیاد پر جانچنا ایک پیچیدہ معاملے کو حد درجہ سادہ بنا دینا ہوگا۔
کراچی کے مسائل حقیقی ہیں اور ان سے انکار ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ شہر کو بہتر بلدیاتی حکومت، جدید انفرا اسٹرکچر، مو¿ثر ٹرانسپورٹ، صاف پانی، نکاسی آب کے نظام اور مضبوط انتظامی اداروں کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا حل صرف صوبے کی تقسیم میں ہی کیوں ہونا چاہیے؟ اگر کسی شہر کی انتظامی کارکردگی کمزور ہے تو بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے سے بھی یہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انتظامی ناکامی کو لازمی طور پر جغرافیائی تقسیم سے جوڑنا منطقی طور پر درست نہیں۔
اسی وقت یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سندھ کے دیگر شہروں اور دیہی علاقوں کے مسائل کیا ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت، پانی، روزگار، غربت، سڑکوں، اسپتالوں اور بنیادی سہولیات کی کمی نے کئی علاقوں کو متاثر کر رکھا ہے۔ اگر انتظامی تقسیم کو ترقی کا بنیادی نسخہ قرار دیا جاتا ہے تو پھر یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا نیا انتظامی نقشہ ان تمام مسائل کا خود بخود حل پیدا کر دے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا انحصار صرف نقشے کی تبدیلی پر نہیں بلکہ پالیسیوں، وسائل، اداروں اور حکمرانی کے معیار پر بھی ہوتا ہے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ ایسے سوالات عوام کے سامنے ضرور رکھے۔ اگر کوئی تجزیہ نگار نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی حمایت کرتا ہے تو اسے اپنے دلائل دینے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن اسی اسکرین پر اس تجویز کے مخالف دلائل بھی سننے چاہئیں۔ عوام کو صرف نتیجہ بتانے کے بجائے مختلف مو¿قف، اعداد و شمار، تاریخی پس منظر اور ممکنہ نتائج سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔ صحافت کا معیار اس بات سے طے ہوگا کہ بحث کو زمینی حقیقت سے جوڑا جائے۔ سندھ کے عوامی موقف کو بھی ترجیح دی جائے تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے کہ عوام کیا سوچ رہے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے دیکھا جائے تو قومی میڈیا میں سندھ کے بارے میں بحث اکثر سندھ کے لوگوں کے موجودہ سیاسی احساسات سے کٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ کبھی کبھی ایسی گفتگو بھی سننے کو ملتی ہے، جس میں سندھ کے لوگوں کے خدشات کو سمجھنے کے بجائے انہیں محض ایک سیاسی نعرے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ایسی روش سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ قومی میڈیا کو عوام کے بارے میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی بات سننے کی روایت بھی مضبوط کرنی ہوگی۔ یہ معاملہ صرف سندھ تک محدود نہیں۔ پاکستان جیسے کثیر قومی، کثیر لسانی اور وفاقی ملک میں صوبوں کے معاملات پر گفتگو انتہائی احتیاط سے کی جانی چاہیے۔ کسی صوبے کی سیاسی اور تاریخی حساسیت کو نظرانداز کرکے صرف اپنی پسند کو اہمیت دیتے ہوئے تقسیم کی بات کی جائے گی تو سندھ کے عوام کا ردعمل سامنے آنا بھی ایک فطری عمل ہے۔ وفاق اس وقت مضبوط ہوگا جب اس کی مختلف وحدتوں کو عزت، اعتماد اور برابری کا احساس حاصل ہوگا۔ مسلسل شک، الزام تراشی اور طعنوں سے صوبوں کے درمیان وفاقی رشتے مضبوط نہیں ہو سکتے۔
سندھ اور پنجاب کے عوام کے درمیان عام سطح پر بہت سے انسانی اور معاشی تعلقات موجود ہیں۔ لاکھوں لوگ روزگار، تعلیم، تجارت اور دیگر ضروریات کے باعث ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے کے بجائے میڈیا کو ان عوامی رشتوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات کو عوامی نفرت میں تبدیل کرنا کسی بھی ذمہ دار صحافت کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ صحافی اور تجزیہ نگار جب کسی حساس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کے الفاظ کا اثر اسٹوڈیو سے بہت دور تک جاتا ہے۔ ایک غیر ذمہ دار جملہ ہزاروں لوگوں میں غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ ایک متوازن تجزیہ اسی بحث کو دلیل اور برداشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس لیے صحافتی آزادی کے ساتھ صحافتی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی مو¿قف کو حقیقت کی پرکھ کے بغیر عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
سندھ کی تقسیم کے بارے میں قومی میڈیا پر جو بحث جاری ہے، اس کی حقیقی پرکھ کرنی ہے تو اس کے لیے ٹی وی اسٹوڈیو کے شور سے باہر نکلنا ہوگا۔ سندھ کے مختلف علاقوں کے دورے کرنا، مقامی لوگوں، دانشوروں، اساتذہ، تاجروں، نوجوانوں اور سیاسی حلقوں سے بات کرنا اور ان کی مختلف آرا کو سمجھنا ضروری ہے۔ محض سوشل میڈیا کی پوسٹس، بند کمرے کے مباحث یا منتخب اعداد و شمار کی بنیاد پر کسی صوبے کے مستقبل کے بارے میں رائے قائم کرنا صحافتی تحقیق پر ایک داغ ہوگا، جس کی عوام کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس وقت ملک کو ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو اختلاف کو برداشت کرے، سوالات کو کھلے ذہن کے ساتھ عوام کے سامنے رکھے اور کسی بھی حساس معاملے کو جذباتی نعرے بازی کے بجائے دلیل سے دیکھے۔ سندھ کی تقسیم کی حمایت کرنا یا مخالفت کرنا ہر شہری کا سیاسی حق ہے، لیکن کسی بھی موقف کو عوامی اتفاقِ رائے کا نام دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ زمین پر لوگوں کی حقیقی رائے کیا ہے۔ ٭ جاری ہے ٭
سندھ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کسی میڈیا مہم، ٹی وی بحث یا چند تجزیہ نگاروں کی رائے سے نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے فیصلے عوامی خواہشات، آئینی اصولوں، تاریخی حقائق اور وفاق کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر ہونے چاہئیں۔ میڈیا کا کام فیصلہ سنانا نہیں بلکہ سوال کو سمجھنے میں عوام کی مدد کرنا ہے۔ اگر صحافت اپنی اس بنیادی ذمہ داری کی طرف واپس آ جائے تو اختلافات کم ہوں گے اور ایسا کوئی تنازع جنم نہیں لے گا جس سے قوم اور ملک کو نقصان پہنچے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی مضبوطی وفاق کی مضبوطی میں ہے اور وفاق کی مضبوطی صوبوں کی مضبوطی میں ہے، نہ کہ انہیں توڑنے میں۔