تو کجا ، من کجا

تحریر: زبیر بلوچ
کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں سوال باقی رہ جاتے ہیں اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے “ت±و کجا،من کجا” یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ عاجزی محبت حیرت اور اپنی حقیقت کو پہچاننے کا نام ہے۔ انسان اپنی کم مائیگی اپنی کمزوری اور اپنی محدود حیثیت کو محسوس کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ جس ہستی کی عظمت رحمت اور شان کا کوئی شمار نہیں اس کے سامنے اس کی اپنی حیثیت کیا ہے۔ یہی احساس انسان کے اندر غرور کو توڑتا اور عاجزی کو جنم دیتا ہے۔ دنیا میں انسان جب کامیابی حاصل کرتا ہے دولت ، شہرت ، منصب اور اختیار پاتا ہے تو اکثر اپنی اصل حقیقت بھولنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ طاقتور زیادہ قابل اور زیادہ اہم ہے لیکن وقت کا ایک لمحہ اسے یاد دلا دیتا ہے کہ انسان کی طاقت کتنی محدود ہے۔ وہ اپنی پیدائش کا فیصلہ خود نہیں کر سکتا اپنی موت کا وقت نہیں جانتا اور اپنی زندگی کے ہر آنے والے لمحے پر اختیار نہیں رکھتا۔ جس سانس کو وہ اپنا سمجھتا ہے وہ بھی ایک امانت ہے۔ ایسے میں دل سے یہی آواز نکلتی ہے “ت±و کجا،من کجا” انسان جتنا بڑا بنتا جائے اسے اتنا ہی جھکنا چاہیے کیونکہ حقیقی عظمت شور تکبر اور دوسروں کو کمتر سمجھنے میں نہیں بلکہ عاجزی اخلاق اور خدمت میں ہے۔ درخت جب پھل سے بھر جاتا ہے تو اس کی شاخیں جھک جاتی ہیں اسی طرح علم دولت عزت اور مقام رکھنے والے انسان کی شخصیت میں بھی جھکاو¿ اور نرمی ہونی چاہیے۔ جو شخص اپنے مقام پر ناز کرنے کے بجائے اپنے رب کا شکر ادا کرے وہی حقیقت میں بڑا انسان ہے۔ “ت±و کجا،من کجا” کا ایک پہلو محبت بھی ہے۔ محبت میں انسان اپنے محبوب کی عظمت کے سامنے اپنی ذات کو بھول جاتا ہے۔ روحانی محبت میں یہ کیفیت اور بھی گہری ہو جاتی ہے جہاں بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت قدرت اور عظمت کے سامنے اپنی کم مائیگی محسوس کرتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی ہر کامیابی ہر خوشی اور ہر نعمت اسی عطا کا نتیجہ ہے جس کا وہ خود مالک نہیں۔ انسان کی سب سے بڑی غلطی شاید یہی ہے کہ وہ عارضی چیزوں کو مستقل سمجھ لیتا ہے۔ آج جس کے پاس اختیار ہے کل وہ بے اختیار ہو سکتا ہے آج جس کے پاس دولت ہے کل وہ محتاج ہو سکتا ہے اور آج جس کے گرد لوگوں کا ہجوم ہے کل تنہائی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ اس لیے عقل مند وہی ہے جو دنیا کی نعمتوں کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ امانت سمجھے۔ یہی احساس ہمارے موجودہ ملکی حالات میں ان منتخب عوامی نمائندوں کے لیے بھی نہایت ضروری ہے جو عوام کے ووٹ سے اقتدار اور اختیار تک پہنچتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کا ووٹ انہیں مالک نہیں بلکہ خادم بناتا ہے۔ یہ کرسی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور یہ اختیار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ جس عوام نے اپنا اعتماد دے کر کسی شخص کو منتخب کیا اس عوام کے مسائل سننا ان کے درمیان رہنا ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے آواز اٹھانا منتخب نمائندے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات منتخب ہوتے ہی انسان کے رویے بدل جاتے ہیں۔ انتخاب سے پہلے جو شخص ہر دروازے پر جاتا ہے ہر شخص سے ہاتھ ملاتا ہے اور ہر مسئلے پر آواز اٹھانے کا وعدہ کرتا ہے کامیابی کے بعد بعض اوقات اسی عوام سے فاصلے پیدا کر لیتا ہے۔ کل تک جس غریب کی دہلیز پر ووٹ کے لیے کھڑا تھا آج اسی غریب کے لیے ملاقات کا وقت مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے “ت±و کجا، من کجا؟” کسی منتخب عوامی نمائندے کی اصل عظمت اس کی گاڑی پروٹوکول یا عہدے میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس نے اپنے حلقے کے لیے کیا کیا۔ اس کی کامیابی کا معیار اس کے گرد موجود لوگوں کا ہجوم نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے علاقے میں کتنے مسائل حل ہوئے۔ عوامی نمائندگی دراصل خدمت کا دوسرا نام ہے حکمرانی کا نہیں۔ اسی طرح منتخب بلدیاتی نمائندوں کی پہچان ان کے اختیارات نہیں بلکہ ان کی عوامی خدمت ہونی چاہیے۔ گلی ، محلے ، وارڈ اور شہر کے بنیادی مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ صفائی ، پانی ، سڑکیں ، نکاسی آب ، صحت ، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات عوام کا احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہیں اور منتخب بلدیاتی نمائندے ان حقوق کی فراہمی کے لیے عوام کی آواز بن کر آئے ہیں۔ ایک حقیقی نمائندہ وہ نہیں جو صرف اپنے حامیوں کے کام آئے بلکہ وہ ہے جو اپنے مخالف ووٹر کے مسئلے پر بھی اسی طرح توجہ دے جس طرح اپنے حمایتی کے مسئلے پر دیتا ہے کیونکہ ووٹ مختلف ہو سکتا ہے مگر شہری کا حق مختلف نہیں ہوتا۔ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا تنقید کو برداشت کرنا اور عوام کے ہر طبقے کو برابر سمجھنا ہی حقیقی عوامی خدمت ہے۔ “ت±و کجا، من کجا” ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دوسروں کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ کسی انسان کا لباس ، غربت ، پیشہ ، زبان یا ظاہری حالت اس کی اصل قدر کا فیصلہ نہیں کرتی۔ ممکن ہے جس شخص کو ہم معمولی سمجھ رہے ہوں وہ کردار اخلاص اور انسانیت میں ہم سے کہیں بلند ہو۔
اسی لیے کسی کو کمتر سمجھنا دراصل اپنی ہی کم فہمی کا اظہار ہے۔ زندگی میں ناکامی بھی آئے تو انسان کو صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انسان کوشش کا مالک ہے نتیجے کا نہیں۔ وہ راستہ اختیار کر سکتا ہے مگر ہر راستے کی منزل اپنے ہاتھ سے نہیں لکھ سکتا۔ بعض اوقات جس چیز کو ہم اپنی ناکامی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہی مستقبل میں ہمارے لیے کسی بڑی بھلائی کا سبب بن جاتی ہے۔ کامیابی ملے تو شکر ناکامی آئے تو صبر عزت ملے تو عاجزی اختیار ملے تو انصاف اور دولت ملے تو سخاوت یہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عہدہ ہمیشہ نہیں رہتا دولت ہمیشہ نہیں رہتی اور دنیا کی تعریف بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ اصل چیز انسان کا کردار اور وہ اخلاق ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ انسان کی پہچان اس وقت نہیں ہوتی جب اس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب اس کے پاس اختیار ہو۔ اگر اختیار کے باوجود وہ ظلم نہ کرے دولت کے باوجود محتاج کو نہ بھولے شہرت کے باوجود عاجز رہے اور کامیابی کے باوجود دوسروں کی عزت کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے زندگی کا اصل سبق سیکھ لیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو آج عوام کے ووٹ سے کرسی پر بیٹھے ہیں انہیں ہر دن اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ میں کہاں سے آیا ہوں کس نے مجھے یہاں پہنچایا اور میں اس اختیار کے ساتھ عوام کے لیے کیا کر رہا ہوں؟ اگر جواب میں عوام کی خدمت غریب کی مدد مظلوم کی آواز علاقے کی ترقی قانون کی پاسداری اور لوگوں کی عزت موجود ہے تو یہ کرسی بابرکت ہے۔ لیکن اگر جواب میں صرف ذاتی مفاد غرور اقربا پروری طاقت کا اظہار اور عوام سے دوری ہو تو پھر عہدہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کی حقیقت بہت چھوٹی رہ جاتی ہے۔ آخرکار ہر انسان نے اسی راستے پر چلنا ہے جہاں دولت ، شہرت ، عہدہ اور طاقت سب پیچھے رہ جائیں گے۔ ساتھ صرف اعمال کردار اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی یادیں جائیں گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ زندگی کے ہر مقام پر اپنے دل سے پوچھا جائے کہ میں کون ہوں اور میری حقیقت کیا ہے؟ شاید یہی سوال انسان کو غرور سے بچا لے شاید یہی احساس اسے بہتر انسان بنا دے شاید یہی احساس ایک سیاست دان کو حقیقی عوامی نمائندہ ایک افسر کو حقیقی خادم اور ایک صاحبِ اختیار شخص کو حقیقی انسان بنا دے۔ “ت±و کجا، من کجا” صرف دو ہستیوں کے درمیان فاصلے کا اظہار نہیں یہ انسان کی اپنی حقیقت کا آئینہ بھی ہے۔ جب انسان اس آئینے میں خود کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اپنی اصلاح کا راستہ بھی۔ یہی احساس اسے عاجزی محبت شکر صبر انصاف اور انسانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ اور شاید زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے غرور سے بچ جائے اپنی حیثیت کو پہچانے عوام کا اعتماد امانت سمجھے اختیار کو خدمت بنائے اور ہر نعمت کے سامنے دل سے کہہ سکے۔ “ت±و کجا، من کجا۔۔۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں