تحریر: زبیر بلوچ
لسبیلہ اور حب کی سرزمین پر ہزاروں بچے آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب لیے اسکول کا رخ کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے ان میں سے بہت سے بچوں کے خواب اسکول کے دروازے پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ کہیں اسکول کی عمارت ہے مگر استاد نہیں کہیں استاد ہے تو بنیادی سہولیات نہیں کہیں کمرے ہیں مگر فرنیچر نہیں کہیں بجلی اور پانی کا نام و نشان نہیں اور کہیں ایسے سرکاری اسکول بھی موجود ہیں جو کاغذوں میں قائم ہیں مگر عملی طور پر خاموش عمارتوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ لسبیلہ اور حب میں کتنے اسکول ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے اسکول حقیقت میں تعلیم دے رہے ہیں؟ کتنے بچوں کو وہ معیارِ تعلیم مل رہا ہے جس کا آئین اور ریاست ان سے وعدہ کرتی ہے؟ اور کتنے بچے صرف اس لیے اپنے مستقبل سے محروم ہو رہے ہیں کہ ان کے علاقے میں ایک فعال اسکول اور ایک مکمل استاد بھی میسر نہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید سرکاری فائلوں میں موجود ہو مگر ان غریب والدین کے پاس نہیں جن کے بچے روزانہ کتابیں اٹھا کر اسکول جاتے ہیں اور کئی مرتبہ استاد کی عدم موجودگی سہولیات کے فقدان یا اسکول کی غیر فعالیت کے باعث مایوس واپس لوٹتے ہیں۔ لسبیلہ اور حب کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کی صورتحال ایک ایسے چراغ کی مانند دکھائی دیتی ہے جسے جلانے کےلئے تیل تو مختص کیا جاتا ہے مگر چراغ تک پہنچانے والا کوئی نہیں۔ برسوں سے تعلیمی منصوبے بنتے رہے اسکول تعمیر ہوتے رہے افتتاحی تختیاں لگتی رہیں اعلانات ہوتے رہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ متعدد تعلیمی ادارے آج بھی اساتذہ کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ ایک استاد کے کندھوں پر کئی جماعتوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ایک ہی شخص مختلف مضامین پڑھانے پر مجبور ہوتا ہے اور پھر اسی نظام سے معیاری تعلیم کی توقع کی جاتی ہے۔ جس کلاس میں مختلف عمر اور مختلف جماعتوں کے بچے ایک استاد کے رحم و کرم پر ہوں وہاں تعلیمی معیار کیسے بلند ہوگا؟ جس اسکول میں طلبہ کی تعداد زیادہ اور اساتذہ چند ہوں وہاں ہر بچے پر انفرادی توجہ کیسے دی جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو شاید دفاتر کی فائلوں میں معمولی نظر آئیں لیکن ایک غریب طالب علم کے مستقبل میں ان کا اثر پوری زندگی باقی رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ان اسکولوں کا ہے جو مختلف وجوہات کے باعث غیر فعال یا عملاً بند رہے ہیں۔ ایک اسکول کا بند ہونا صرف ایک عمارت کا بند ہونا نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کے بچوں کے مستقبل پر تالا لگنے کے مترادف ہے۔ جب کسی گاو¿ں میں اسکول بند ہوتا ہے تو وہاں کے بچوں کو تعلیم کے لیے کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے اور اکثر غریب خاندانوں کے لیے روزانہ کا سفر کرایہ اور دیگر اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں کچھ محنت مزدوری کی طرف چلے جاتے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے تعلیم سے دور ہوجاتے ہیں۔ یوں ایک بند اسکول صرف آج کے بچے کو نہیں روکتا بلکہ آنے والی پوری نسل کے امکانات محدود کردیتا ہے۔ بچیوں کی تعلیم کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ دور دراز علاقوں میں مناسب اسکولوں کی کمی خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی محفوظ تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کا فقدان والدین کے لیے بڑی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ ایک بچی اگر پرائمری تعلیم کے بعد صرف اس لیے مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے کہ قریب میں مناسب اسکول موجود نہیں تو یہ اس بچی کا ذاتی نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔ ایک پڑھی لکھی لڑکی صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہماری ترجیحات میں سڑکیں عمارتیں اور دیگر منصوبے تو اکثر نظر آتے ہیں تعلیم کے اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اسکول کی عمارت بھی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے۔ لسبیلہ حب کے بعض علاقوں میں تعلیمی اداروں کو خستہ حال عمارتوں، کمروں کی کمی، ناقص فرنیچر، پینے کے پانی، بجلی اور واش رومز جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک بچہ جب گرمی، سردی، گردوغبار اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے درمیان بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہو تو اس سے یکسوئی اور بہتر تعلیمی کارکردگی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ اسکول صرف چار دیواری کا نام نہیں اسکول ایک ایسا گیر، ایک کسان، ایک دیہاڑی دار یا کم آمدنی والے خاندان کے لیے سرکاری اسکول ماحول ہے جہاں بچے خود کو محفوظ سمجھیں استاد پوری توجہ سے پڑھائے کتابیں دستیاب ہوں پینے کا صاف پانی ہو واش رومز ہوں بجلی ہو اور بیٹھنے کےلئے مناسب فرنیچر موجود ہو۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ غریب کا بچہ سرکاری اسکول کا محتاج ہے۔ صاحبِ حیثیت خاندان اپنے بچوں کو نجی اداروں میں بھیج سکتے ہیں لیکن ایک مزدور، ایک ماہیہی امید کی آخری کرن ہوتا ہے۔ جب یہی کرن مدھم پڑ جائے تو غریب بچے کے پاس آگے بڑھنے کا راستہ کہاں رہ جاتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کی حالت محض محکمہ تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچے کو معیاری تعلیم اس لیے نہیں ملتی کہ وہ غریب ہے یا دور افتادہ علاقے میں پیدا ہوا ہے تو یہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کےلئے ایک بڑا سوال تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کےلئے صرف نئے اسکول بنانے کے اعلانات کافی نہیں۔٭ جاری ہے٭
پہلے سے موجود اسکولوں کو مکمل فعال بنانا ہوگا۔ غیر فعال اداروں کی مستقل نگرانی ضروری ہے۔ جہاں اساتذہ کی کمی ہے وہاں فوری بھرتی اور تعیناتی کی ضرورت ہے۔ دور دراز علاقوں کے لیے خصوصی تعلیمی پالیسی بنانی ہوگی تاکہ وہاں استاد صرف کاغذ پر تعینات نہ ہو بلکہ عملی طور پر کلاس روم میں موجود ہو۔ اساتذہ کی حاضری کا موثر نظام اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ، خستہ عمارتوں کی مرمت، اضافی کلاس رومز کی تعمیر، فرنیچر، پانی، بجلی اور واش رومز کی فراہمی کو ترجیح دینا ہوگی۔ محکمہ تعلیم کے افسران کو دفاتر سے نکل کر ان اسکولوں کا دورہ کرنا ہوگا جہاں اصل مسئلہ فائلوں میں نہیں بلکہ بچوں کے چہروں پر نظر آتا ہے۔منتخب نمائندوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی ترجیحات میں شامل کریں۔ ہر علاقے میں یہ دیکھا جائے کہ کتنے اسکول فعال ہیں کتنے اساتذہ تعینات ہیں کتنے حاضر ہیں کتنے بچے زیر تعلیم ہیں اور کتنے بچے اسکول سے باہر ہیں۔ عوام کو بھی خاموش رہنے کے بجائے اپنے بچوں کے تعلیمی حق کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔ کیونکہ خاموشی بھی کبھی کبھی ناانصافی کو طاقت دیتی ہے۔ لسبیلہ اور حب کے بچوں سے ان کا مستقبل نہ چھینا جائے۔ ان کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے اینٹ یا مزدوری کا اوزار نہیں۔ ان کے ذہن میں خواب ہونے چاہئیں محرومی نہیں۔ ان کے اسکول میں استاد ہونا چاہیے خاموشی نہیں۔ ان کے کلاس روم میں روشنی ہونی چاہیے اندھیرا نہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے تعلیمی نظام کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو آنے والے برسوں میں ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو ڈگریوں سے نہیں بلکہ محرومیوں سے پہچانی جائے گی۔ لسبیلہ حب کا تعلیمی نظام اگر واقعی کھوکھلا ہوچکا ہے تو اسے صرف رنگ و روغن سے نہیں بنیاد سے مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ اسکول کی دیواریں گرنے سے پہلے قوموں کا مستقبل گرتا ہے اور جب ایک نسل تعلیم سے محروم ہوجائے تو اس کا نقصان کسی بجٹ کسی منصوبے اور کسی اعلان سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ آج ضرورت ہے کہ لسبیلہ اور حب کے ہر بند غیر فعال محروم اور مسائل زدہ اسکول کی طرف دیکھا جائے ہر بچے تک تعلیم پہنچائی جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ اس خطے کا کوئی بچہ صرف اس لیے ناخواندہ نہیں رہے گا کہ اس کے علاقے میں نظامِ تعلیم موجود تو تھا مگر زندہ نہیں تھا۔ آخر میں ایک شعر عرض کرو گا کہ
جہاں کتابوں کی جگہ خاموشی بسی ہو۔
وہاں قوم کے مستقبل کی نیلامی ہوتی ہے۔