تعلیمات نبی کی روشنی میں امت واحدہ کا تصور

نبی پاک کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ یہ ذات رسول پاک ہی ہے جو مسلمانوں کے اتحاد کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ نبی محترم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ موجودہ دور پر فتن میں جب عصبیت کا جن امت کا شیرازہ بکھیرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے؛ اسوہ رسول پر عمل پیرا ہونا پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ اللہ اور اس کے آخری رسول نے جس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے وہ ہے امت واحدہ کو چھوڑ کر عصبیت کا شکار ہونا۔ موجودہ دور میں امت مسلمہ نے اسی عصبیت کو اپنا فخر سمجھ کر، احکامات الٰہی اور احکامات رسول سے روگردانی کرنا اپنا شعار بنا لیا ہے۔ امت کو تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی گورے کو کسی کالے پر، یا کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، بلکہ فوقیت کا اصل دارومدار صرف تقویٰ پر ہے۔ اس کے باوجود امت مسلمہ قوم، قبیلوں اور شخصیات کو فوقیت کا معیار بنا کر اپنی تباہی کا اپنے ہاتھوں انتظام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امت ان وجوہات کی بناء پر اپنا شیرازہ بکھرتا دیکھ کر بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہے۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو اللہ تعالٰی نے قرآن میں کئی جگہ سختی سے منع فرمایا ہے۔ واضح الفاظ میں یہ فرما دیا گیا ہے، کہ یہ صرف تمہاری پہچان کے لئے ہیں۔ ان کو اپنے لئے عزت مت سمجھو۔ اللہ تعالٰی قرآن میں فرماتے ہیں،
ترجمہ۔”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔” (سورة الحجرات، آیت: 13)
قرآن میں اللہ تعالٰی مسلمانوں کو مزید آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ترجمہ”جب کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (عصبیت کی غیرت) کو جگہ دی، جو کہ جاہلیت کی حمیت تھی…” (سورة الفتح، آیت: 26)
پھر مزید ایک جگہ مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ترجمہ۔”اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ کےلئے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی تمہاری اپنی ذات کےخلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کےخلاف ہی کیوں نہ ہو…” (سورة النساء، آیت: 135)
قرآن میں مزید ایک جگہ یہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔
ترجمہ۔”اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔” (سورة المائدہ، آیت: 8)
قرآن کی ان تعلیمات کا عملی ثبوت نبی پاک نے اپنی سیرت مبارکہ سے تمام مسلمانوں کو سکھایا، وہ انسانیت کا درس دیتے رہے؛ کبھی کسی انسان کو حقیر تصور نہیں کرتے۔ بنا رنگ و نسل سب کو ایک سا درجہ دیا کرتے۔ وہ صرف امت کےلئے نہیں تمام جہانوں کےلئے سراپا رحمت ہیں۔ تمام جہانوں کےلئے اس رحمت ذات کے ماننے والے دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، آپس میں بھی کینہ، بغض اور عداوت رکھنے میں پیش پیش ہیں۔ کیا حضور کے فرمودات سے روگردانی کرنے کے بعد ہم امتی ہونے کا دعوٰی کر سکتے ہیں؟
امت مسلمہ جس کو ہادی برحق نے ہمیشہ امت واحدہ رہنے کی تعلیمات دی ہیں۔
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
ترجمہ: “وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت (قومی یا قبائلی تعصب) کی طرف بلائے، اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑے، اور وہ بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرے۔”
حوالہ کتب: سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5121
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: “عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم کے کاموں میں اپنی قوم کی مدد کرو۔”
حوالہ کتب: سنن ابی داود، حدیث نمبر: 5119
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: “اور جو شخص کسی اندھے (بے مقصد) پرچم تلے لڑا، جو عصبیت (قوم پرستی) کی خاطر غصے میں آتا ہے، یا عصبیت کی طرف بلاتا ہے، یا عصبیت کی مدد کرتا ہے اور وہ مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔”
حوالہ کتب: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1848
رسول اللہ نے انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک واقعے پر (جب ایک شخص نے مدد کےلئے اپنے قبیلے کو پکارا) ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: “اس (عصبیت اور جاہلانہ پکار) کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ نہایت بدبودار ہے۔”
حوالہ کتب: صحیح البخاری، حدیث نمبر: 4905 / صحیح مسلم
موجودہ دور میں مسلمانوں کے مشکل حالات کی بڑی وجہ اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے؛ جس کی بنیاد پر مسلم امہ کبھی طاقت کا سر چشمہ ہوا کرتی تھی۔ اغیار کےلئے ضرور یہ ایک خوشی کی بات ہے، کہ مسلمان آپس میں یوں ہی دست و گریباں رہیں۔ یوں ہی عصبیت کے شکنجے میں جکڑے رہیں۔ ایک دوسرے کے درمیان تفرقہ کی دیوار اینٹ اینٹ جوڑ کر اونچی سے اونچی کرتے رہیں۔ وہ فیصلے جو روز قیامت اللہ تعالٰی نے کرنے ہیں زمین پر اپنے تئیں خود کو اعلٰی سمجھتے ہوئے یوں کریں، کہ چار سو نفرت کی فصل بوتے جائیں۔ کیا ان حرکات سے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی ناراضگی مول نہیں لی جا رہی؟
ہم ہر سال ربیع الاول میں رسول کریم کی شان بیان کرتے ہیں۔ سارا سال حب رسول کا دعوٰی کرتے ہیں، لیکن کیا ہمارے اعمال ہمارے ان دعوو¿ں کی سچائی کا مظہر ہیں؟ کیا ہم واقعی رسول کے فرامین کی پاسداری کرنے کا فریضہ نیک نیتی سے انجام دے رہے ہیں؟ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر کیا ہم ایک امت ہونے کا دعوٰی کر سکتے ہیں؟ ہم رنگ ونسل کی تفریق سے خود کو ماوراءقرار دے سکتے ہیں؟ جہاں عصبیت کے نام پر اپنے ہی مسلمان بھائی کا گلا بلا خوف و خطر کاٹ دیا جائے وہاں پر ہم اللہ تعالٰی کی رحمت کا تصور کر سکتے ہیں؟
ہمیں مل کر اللہ تعالٰی اور اس کے رسول سے یہ عہد کرنا ہو گا کہ زمانہ جاہلیت کی یہ عصبیت پرستی اپنے دلوں سے نکال پھینکیں گے۔
ایک مسلم قوم بن کر احکامات الٰہی کی پیروی اپنا شعار بنائیں گے۔ ان پر عمل کرنے کے بعد ہی ہم نبی آخر سے اپنی محبت کا دعوٰی کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
علامہ محمد اقبال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں