تحریر۔ ہمایوں ارشد
ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس کوئٹہ
14 اگست صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ہماری قومی زندگی کا وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد اپنے مقصد تک پہنچی۔ 14 اگست 1947ءکو پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس کے قیام کے پیچھے سر سید احمد خان کی تعلیمی و سیاسی جدوجہد، علامہ اقبال کا فکری تصور، قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں شامل تھیں۔ 23 مارچ 1940ءکی قراردادِ لاہور نے اس جدوجہد کو واضح سمت دی اور بالآخر پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔آزادی کے وقت پاکستان کے پاس وسائل کم اور مسائل بہت زیادہ تھے۔ مہاجرین کی آبادکاری، اداروں کی تعمیر، معاشی مشکلات، دفاع اور کشمیر جیسے چیلنجز نئی ریاست کے سامنے تھے، مگر قوم نے محدود وسائل کے باوجود ملک کی بنیادیں مضبوط کیں۔ 1947-48ءاور 1965ءکی جنگیں، 1971ءکا قومی سانحہ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران اس سفر کا حصہ رہے، لیکن ہر مشکل کے بعد پاکستان نے دوبارہ آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ 1973ءکا متفقہ آئین، صنعتی و زرعی ترقی، تعلیم، سائنس، دفاع اور انفراسٹرکچر میں پیش رفت اسی جدوجہد کی مثالیں ہیں۔پاکستان نے مختلف شعبوں میں کئی تاریخی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ شاہراہِ قراقرم جیسے منصوبوں نے ملک کو دشوار گزار علاقوں سے جوڑا، جبکہ کھیل کے میدان میں کرکٹ کے عالمی اعزازات کےساتھ ہاکی میں اولمپک اور عالمی کامیابیاں، اسکواش میں عالمی حکمرانی، اسنوکر اور باکسنگ میں عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی اور 2024ءکے پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کا تاریخی طلائی تمغہ پاکستان کیلئے باعثِ فخر ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی ملک نے اہم پیش رفت کی، جبکہ 28 مئی 1998ئ کو چاغی میں ایٹمی تجربات پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئے، جنہوں نے ملک کی دفاعی صلاحیت کو نئی بلندی دی۔ پاکستان نے قدرتی آفات کا بھی بارہا سامنا کیا۔ 2005ءکے تباہ کن زلزلے اور 2010ءاور 2022ءکے شدید سیلابوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، مگر ہر بار پاکستانی قوم، افواج، ریسکیو اداروں اور فلاحی تنظیموں نے متاثرین کی مدد کےلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مستقبل میں پانی کے بہتر انتظام، ماحول کے تحفظ اور مو¿ثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مزید اہمیت دینا ہوگی۔ملک کو دہشت گردی کے ایک طویل اور خونریز دور کا بھی سامنا رہا۔ شہریوں، فوج، پولیس، مساجد ، بازاروں اور تعلیمی اداروں پر حملوں کے باوجود قوم اور سیکیورٹی اداروں نے بے شمار قربانیاں دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ آج بھی خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے، جس کا مستقل حل موثر حکمرانی، سرحدی نظم، تعلیم، روزگار، ترقی اور قومی یکجہتی سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان نے دفاع کے ساتھ سفارت کاری اور امن کو بھی اہمیت دی ہے۔ مئی 2025ءمیں بھارت کے ساتھ شدید فوجی کشیدگی کے بعد بین الاقوامی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان کے ذمہ دارانہ رویے کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ 2026ءمیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران بھی پاکستان نے دونوں جانب رابطوں اور مذاکرات کیلئے سفارتی کردار ادا کیا اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا۔ اس سے پاکستان کی ایک ایسے ملک کی حیثیت مزید نمایاں ہوئی جو دفاع کے ساتھ امن اور مذاکرات کو بھی اہمیت دیتا ہے۔اسی سفارتی اور دفاعی اہمیت کا ایک اور اظہار 7 اگست 2026ءکو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف مسلح جارحیت کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے اور باہمی دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف قرار نہیں دیا گیا بلکہ علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔معاشی میدان میں پاکستان کو کئی مشکلات کا سامنا رہا، تاہم حالیہ عرصے میں مالی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مالی سال 2025-26ءمیں سرکاری اعداد کے مطابق ملکی معیشت کی حقیقی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی۔ اگر یہ اصلاحات سیاسی استحکام، برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ جاری رہیں تو پاکستان کےلئے مضبوط معاشی بنیاد بن سکتی ہے۔ پاکستان کے مستقبل میں سی پیک، گوادر اور بلوچستان کے معدنی وسائل خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ گوادر پاکستان کو خطے کے اہم تجارتی راستوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ریکوڈک سمیت بلوچستان کے سونے، تانبے اور دیگر معدنی ذخائر ملکی معیشت کیلئے بڑا موقع ہیں۔ اگر ان وسائل کو شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے اور مقامی آبادی کو روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی میں مناسب حصہ دیا جائے تو بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔آج پاکستان مسائل سے آزاد نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی اختلافات، دہشت گردی، توانائی، تعلیم، صحت اور گورننس جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ لیکن ہمارے پاس نوجوان آبادی، زرعی و معدنی وسائل، ایٹمی و دفاعی صلاحیت، گوادر، سی پیک، آئی ٹی کا بڑھتا ہوا شعبہ اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کی صورت میں بے شمار مواقع بھی ہیں۔اسلئے 14 اگست صرف ماضی پر فخر کرنے کا دن نہیں بلکہ اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا دن ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان کیلئے قربانیاں دیں، ان کے خواب کی تکمیل صرف جشن منانے سے نہیں بلکہ امن، تعلیم، انصاف، قانون کی حکمرانی، میرٹ، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی سے ہوگی۔پاکستان نے 79 سال میں جنگیں بھی دیکھیں، سانحات بھی برداشت کیے، زلزلوں اور سیلابوں کا مقابلہ بھی کیا، دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں بھی دیں اور ایٹمی طاقت بننے سمیت کھیل، سائنس، دفاع اور سفارت کاری میں کئی تاریخی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی طاقت کو باہمی اختلافات میں ضائع کرنے کے بجائے ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال کریں۔14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ورثے میں ملنے والا ملک نہیں بلکہ لاکھوں قربانیوں، جدوجہد اور امیدوں کا نتیجہ ہے۔ اب اس کی حفاظت، ترقی اور اسے ایک مضبوط، پرامن، خوددار اور خوشحال ملک بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
14 اگست — آزادی سے آج تک پاکستان کا سفر