آج کل ہر طرف ستارہ و ہلال سے مزین سبز و سفید پرچم کی بہار آئی ہوئی ہے۔ تمام پاکستانی آزادی کا بھرپور جشن منانے کو بے تاب ہیں۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک عجیب سی کیفیت دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے۔ جس کو بلا شک و شبہ جذبہ حب الوطنی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات انسانی فطرت ہے کہ انسان کا خمیر جس مٹی سے جنم لیتا ہے۔ وہ مٹی آخری سانس تک اس کی پہلی محبت کی صورت ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو، یہ محبت اس کو اپنی یاد سے غافل نہیں ہونے دیتی۔ قابل فخر ہیں وہ قومیں جو نہ صرف اپنی آزادی کی قدر کرتی ہیں، بلکہ اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر آن جہد مسلسل میں مصروف عمل خود کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جاتی ہیں۔ یوں اپنے پیارے وطن سے محبت کا اظہار ہر لمحہ اپنے کردار سے کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان کا قیام وہ اٹل حقیقت ہے جو اس خطے کے باشندوں کے لئے ناگزیر تھی۔ اس ملک کا قیام نہ صرف یہاں بسنے والوں کو آزادی سے اپنی زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ہر ملک کی سالمیت کے لئے ایک توانا آواز اٹھا کر یہ باور کرواتا رہتا ہے، کہ پاکستان دنیا کے ان چند نمایاں ممالک میں شامل ہے جن کے بغیر کسی مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حدود اس کو دنیا کے اہم ترین ممالک میں شامل کئے ہوئے ہے۔
پاکستان اس خطہ زمین پر موجود ہے جو ہزاروں سال سے ایک اہم خطہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ بڑے بڑے فاتحین اس راستے سے گزرے ہیں۔ بڑے بڑے علم کے متلاشی یہاں مستقل قیام کرتے رہے ہیں۔ نامور شخصیات یہاں آباد ہو کر اس سرزمین کو دل میں بسا کر اس کی محبت میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ یہ اولیاءکی سرزمین ہے۔ فاتحین اس کے مکین ہیں۔ پاکستان کے باشندے ہر شعبہءزندگی میں نمایاں کارنامے انجام دے کر عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پہچان دینے میں کامیاب رہے ہیں۔
یہ پاک سر زمین دنیا کے ان چند خوبصورت ترین ممالک میں شامل ہے، جن پر اللہ کی خاص مہربانی اس صورت نمایاں ہے کہ یہاں ہر طرح کی خصوصیات موجود ہیں۔ موسموں کا ذکر کریں تو چاروں موسم پوری آب و تاب کے ساتھ اس سر زمین سے وفا نبھانے آتے ہیں۔ سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے موسم اپنے پورے رنگ کے ساتھ وقت مقررہ پر جلوہ گر ہوتے ہیں، اور اپنی گود میں لائے ہوئے موسم کے پھل، پھول اور اجناس یہاں کے بسنے والوں کو تحفے کی صورت دیتے آ رہے ہیں۔اس کی حدود میں پہاڑ ہیں ، دریا ہیں، صحرا ہیں۔ ریگستان ہیں۔ نخلستان ہیں۔ کھیت و کھلیان ہیں۔ الغرض اس دھرتی پر اتنے رنگ سجے ہیں کہ دنیا میں کئی ممالک اتنے رنگ یکجا دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔ ایک طرف ترقی کے نشان اس کے شہر ہیں، جہاں اونچے اونچے مکانات، خوبصورت پارک، اور ترقی کا پہیہ گھماتے کارخانے موجود ہیں۔ جدید طرز کے بازار ہیں۔ ان شہروں کا دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہونا، پاکستان کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری طرف گاو¿ں ہیں۔ جہاں تا حد نگاہ لہلہاتی فصلیں خوشحالی کی نوید ہیں۔ پھل ذائقہ دار ہیں۔ پھول خوشبودار ہیں۔ گندم بہترین ہے۔ گنا رس سے بھرپور ہے۔ کسان محنتی ہیں، جو اس زمین سے پاکستان کی ترقی کا پہیہ رواں رکھے ہوئے ہیں۔ بزرگ خوابوں کے پروردہ ہیں، تو نوجوان ان خوابوں کے امین ہیں۔
اس ترقی سے پاکستان مخالف دشمنوں کی نیندیں اڑ جانا بھی ایک لازمی امر ہے۔ دشمن پاکستان کے خلاف اپنی چالیں چلنے میں مصروف ہے۔ جس کے تدارک کے لئے پاکستان کو ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا۔ دشمن کو ہمیشہ اپنے ان ناپاک عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور آئندہ بھی یہی ناکامی اس کا مقدر رہے گی۔ اس لئے پاکستان کے ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی طور پر دشمن کے ان عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی صورت کھڑا رہنا ہو گا، اور ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا کہ دشمن ان کی صف میں دراڑ نہ ڈالنے پائے۔
پاکستان وہ حقیقت ہے جو یہاں کے ہر باشندے کے دل میں جاگزیں ہے۔ اللہ تعالٰی پاکستان کا ترقی کی طرف جاری سفر خوشیوں سے بھرپور بنا دے۔ دشمن کی ہر اس چال کو ناکام بنا دے جو اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ آپس میں محبت مزید مضبوط ہو جائے۔ پاکستان کو عالمی دنیا میں اپنی پہچان مزید اجاگر کرنے کے مواقع ملتے رہیں، اور یہ پرچم پوری آب و تاب سے سدا یونہی لہراتا رہے۔
٭٭٭٭
پاکستان زندہ و تابندہ باد