
تحریر : عبدالفتاح عباسی
صحت مند اور تندرست زندگی کیلئے لازمی ہے کہ وہ کم از کم سال میں ایک مرتبہ ضرور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حسین و جمیل خوبصورت نظارے دیکھنے کیلئے ٹھنڈے علاقوں کا سفر اختیار کرنا چاہیے ، اس طرح آپ کو دوسرے علاقوں کے رہائشیوں کا رھن سہن، زندگی گذارنے کا طریقہ کار، ان کی یونٹی یکجہتی ،متحد ،منظم ہونے کا عمل پریکٹیکلی دیکھنے کو ملے گا. ویسے بھی ایک روٹین گھر، دفتر، دکان تک محدود رکھنا خود کے ساتھ ناجائزی ہے، ہمارے بزرگان دین بھی سیر سفر اختیار کرتے رہے ہیں، اور انکی زندگی سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں، شہروں ،ممالک تک کے سیر سفر کے دوران نیکی کی دعوت دیتے رہے ہیں اور راھ خدا میں سفر اختیار کرتے ہوئے انسانیت کی حقیقی خیر خواہی کرتے رہے ہیں، اسی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے 12 جون 2026ع بروز جمعہ شام چار بجے نورل بھورل کوچ سندھ کے تاریخی شہر لاڑکانہ کے نیو بس اسٹینڈ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوتی ہے۔ خوشگوار موڈ میں تمام اسلامی بھائی اللہ پاک کے نام کا ورد کرتے ہیں اور درود و سلام کا ورد کرتے ہیں، گاڑی میں بیٹھتے ہی سب ایک دوسرے کو سلام دعا کرتے ہیں، ایک دوسرے کی خیر خواہی کرتے ہیں اور کچھ دوست گپ شپ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ سفر شروع ہوتا ہے اور نورل بھورل کوچ میں ڈرائیور اور اس کے ساتھی جو پینے کا پانی سب کو دیتے ہیں، کوچ چلتے ہی پرانے گلوکار جلال چانڈیو کے بلند آواز میں کلام شروع کئے جاتے ہیں اور ماحول عجیب سا ہو جاتا ہے۔ روہڑی اور دوسرے اسٹاپ کے بعد گاڑی تیز رفتاری سے چلنے لگتی ہے۔ صبح، کوچ اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر نماز فجر کے لیے رکتی ہے اور صبح سات بجے کے قریب اسلام آباد/ راولپنڈی کے فیض آباد بس اسٹینڈ پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں اسلام آباد میں بھی شدید گرمی ہے، جب کہ لاڑکانہ میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اسلام آباد میں شدید گرمی کی وجہ سے سائیں فدا حسین عطاری، نجی اللہ سرکی اور عبدالوحید شیخ صاحب فوری طور پر ہی اسٹینڈ پر کوہ مری کے لیے اپنی سواری بک کروانے کیلئے مصروف عمل ہوجاتے ہیں۔ اس دوران اسلامی بھائی کچھ دیر تک اپنے سفر کے بارے میں حال احوال بھی دیتے رہتے ہیں، اسی طرح سرکی صاحب اور شیخ صاحب دو ویگن بک کرتے ہیں۔ پھر دوستوں کو اطلاع دی جاتی ہے اور انہیں ہر ویگن میں بہتر طریقے سے بٹھایا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی گرمی سے نکلتے ہی کوہ مری کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ کوہ مری کے داخلے راستے پر پاپوجی ہوٹل میں ناشتے میں گرم. گرم فراٹے، انڈے اور چائے کے ساتھ وی آئی پی چکن ڈش بھی محترم سائیں مجیب الرحمن شیخ صاحب قمبر والے ساتھی کی ادی بہن کی طرف سے ناشتہ تناول کیا جاتا ہے اسی ہی دوران بارش بوندا باندی شروع ہوجاتی ہے جس سے موسم بہت خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ناشتے کے بعد، گاڑیوں میں سوار ہونے سے پہلے ایک گروپ فوٹو لیا جاتا ہے اور پھر ہم کوہ مری کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔

کوہ مری کے پہاڑوں کی طرف گاڑیاں اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگیں تو ٹھنڈی ہوائیں بہار کی طرح ہمارا استقبال کرتی ہیں۔ کوہ مری کی سڑکیں نئی بن رہی ہیں جس کی وجہ سے آدھی سے زیادہ سڑکیں خستہ، ٹوٹی پھوٹی اور خطرناک ہو چکی ہیں۔ میری مدنی تحریک دعوت اسلامی کے بانی مدنی ماحول کے بانی امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری کے حکم کے مطابق مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے جس کے لیے ھمیں راہ خدا میں سفر کرنا ہے۔ اپنی اصلاح کے لیے ہمین مدنی قافلوں میں سفر کرنا چاہیے۔ دو ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات میں دعوت اسلامی کے قافلے بالخصوص سندھ اور پنجاب سے 30 دن اور 12 دن کیلئے اللہ کی راہ میں شمالی سرد علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ قافلوں کو دیکھنے والے یہ حسرت کرتے ہیں کہ کاش اللہ پاک ہمیں ان دعوت اسلامی کے قافلوں میں نکل کر سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں کے شرکاء کو آخر کیا حاصل ہوتا ہے، سب سے پہلے جو شخص دعوت اسلامی کے قافلوں میں سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ رب العالمین کی خصوصی توجہ حاصل کرتا ہے۔ وہ نوجوان پانچ وقت کی پابندی کے ساتھ جماعت اور تکبیر اولیٰ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ اسے نہ صرف پانچ وقت کی نماز کی سعادت ملتی ہے بلکہ اسے تہجد کی نماز ، نماز توبہ، نماز اوابین، نماز اشراق، نماز چاشت، نماز صلواة تسبیح، تلاوت قرآن پاک دیگر نوافل کی عظیم سعادت بھی ملتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب دنیا گہری نیند میں ہوتی ہے تو دعوتِ اسلامی والے مدنی مقصد کے تحت صدائے مدینہ یعنی نماز فجر کیلئے جگاتے ہیں اور علاقوں، شہروں قریہ قریہ بستی بستی نگرنگر میں رات کو نماز نیند سے بہتر ہے کی صدائیں لگاتے ہیں۔ نماز فجر سے پہلے گھر سے مسجد تک پہنچتے ہوئے جگاتے جاتے ہیں، یقیناً مطالعہ کرنے والے باذوق ذی الشعور عوام الناس کو معلوم ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کی اس سنت میں کئی برکتیں ہیں، سندھ کے عاشقان رسول کو بھی کوہ مری و دیگر ٹھنڈے علاقوں میں 30 دن اور 12 دن کے سفر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ اللہ رب العالمین کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہم سب کو مدنی تحریک دعوت اسلامی کے فیضان مدینہ جامع مسجد چٹھہ موڑ میں دعوتِ خیر میں مشغول رہنے کی سعادت عطا فرمائی۔ اس مدنی سفر میں دعوت اسلامی کے ذمہ داران سائیں فدا حسین کھوسو عطاری، سائیں جواد علی بھرگڑی عطاری، سائیں محمد مشتاق چاچڑ عطاری کی کاوشیں اور صبح کی گرم چائے تیار کرنے میں اور ان کے معاونین میں عبدالرحیم شیخ، سجاد علی میمن، سائیں مجیب الرحمن شیخ آف قمبر، سائیں ذیشان علی وگن، نصیر آباد کے سائیں سکندر علی چنہ، رتوڈیرو کے عبدالواحد سیلرو، وقار المدینہ عطاری، سائیں محمد یوسف، سائیں قاضی رفیق احمد ، سائیں شکیل احمد بھٹو اور دیگر مہربان دوستوں نے خوب تر خدمات سرانجام دیں اور خاص طور پر پورے کارواں میں سائیں اوشاق علی ٹگڑ عطاری اور سائیں نجی اللہ سرکی عطاری جنہوں نے قابل ستائش اور اہم کردار ادا کیا اور ایک ایسی شخصیت ہین جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، سائیں محمد خالد حسین عطاری سندھ اور پنجاب کے بارڈر اوباڑو جنہوں نے اسلامی بھائیوں کے لیے سات روزہ اسلامی تربیتی کورس کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کیں اور انھیں پہلے سے بہتر اسلامی دینی وسیع معلومات فراہم. کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے اس طرح سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور متاثر کن شخصیت ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، ناران، پارس، ایوبیہ وغیرہ میں خدمات سر انجام دیں۔ فیضان مدینہ کوہ مری کے خطیب قاری حافظ محمد قاسم عطاری کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے، جو نہایت ذہین اور سچے پکے عاشق رسول ہیں۔

دعوت اسلامی کوہ مری کے ڈسٹرکٹ نگران محمد کاشف عطاری عباسی نے خلیفہ دوئم جلیل القدر صحابی رسول حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے یومِ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے موقع پر فیضان مدینہ مری میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے فضائل اھلبیت و صحابہ کرام بیان کیا گیا، اس موقع ہر طرف ( ھر صحابی رسول ) جنتی، جنتی، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، جنتی، جنتی، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جنتی جنتی، عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ، جنتی، جنتی جیسے خوبصورت نعرے لگائے گئے، یہاں کوہ مری میں ٹھنڈی ہوائیں اور ہر روز ہونے والی بارش نے موسم کو واقعے ہی خوشگوار اور دل کو خوش کر دیا، جس کی وجہ سے مسافروں کو گھر واپسی کے لیے تقریباً دو دن باقی تھے کہ وہ آرزو یہی خواہش کررہے تھے کہ یا اللہ ہمیں اپنی صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما جس سے آپ راضی ہوں، آمین، اس پورے سفر میں محترم فدا حسین عطاری صاحب کا نمایاں اصلاحی کردار رہا، جن کے لیے ہم سب کی دعائیں ہیں۔
عطار تیرا حامی و ناصر ہیں مصطفی ،
کس کی مجال ہے جو تجھ کو دبا سکے.
٭٭٭
لاڑکانہ سے کوہ مری ناران کاغان کا سفر