جب بھی پاکستان میں ترقی، انتظامی اصلاحات یا عوامی خدمات کی بہتری پر بحث ہوتی ہے تو نئے صوبے بنانے یا موجودہ صوبوں کو تقسیم کرنے کی تجاویز سامنے آتی ہیں۔ اس کے حامیوں کا مؤقف ہوتا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنائیں گی، فیصلے تیزی سے ہوں گے اور عوام کو بنیادی سہولیات آسانی سے میسر آئیں گی۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صرف صوبوں کی حدود تبدیل کرنے سے ترقی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ملکی ترقی کا تعلق انتظامی تقسیم سے زیادہ اچھی حکمرانی، مضبوط اور جوابدہ اداروں، شفاف احتساب، قانون کی بالادستی، مؤثر منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام دوست پالیسیوں سے ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، جس کا آئینی ڈھانچہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر قائم ہے۔ وفاق کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملک کے ہر حصے کو یکساں اہمیت ملے، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور ہر صوبے کو آئین کے مطابق اپنے اختیارات حاصل ہوں۔ ایسے نظام میں ترقی کا معیار صوبوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی کارکردگی، مالی خودمختاری، جوابدہی اور عوامی خدمت کے معیار سے ناپا جاتا ہے۔ اگر حکمرانی کا نظام کمزور ہو تو نئی انتظامی اکائیاں بھی پرانے مسائل سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم کسی بھی وفاقی ریاست کے استحکام اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جب ہر صوبے اور علاقے کو اس کی آبادی، ضروریات، وسائل اور آئینی حقوق کے مطابق حصہ ملتا ہے تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، احساسِ محرومی کم ہوتا ہے اور قومی اتحاد مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اگر وسائل کی تقسیم میں ناانصافی یا سیاسی مداخلت ہو تو ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے اور علاقائی بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس لیے ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب اور فنڈز کی تقسیم میں شفافیت، میرٹ اور قومی مفاد کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔
قانون کی بالادستی اور امن و امان کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ جب قانون سب کے لیے یکساں ہو، انصاف بروقت ملے اور ریاستی ادارے کسی سیاسی یا ذاتی دباؤ کے بغیر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، تب ہی معاشرے میں امن، استحکام اور عوام کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ امن و امان کی بہتر صورتحال نہ صرف شہریوں کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری، صنعت، سیاحت اور معاشی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اس کے برعکس جہاں قانون کی بالادستی کمزور ہو اور بدامنی، دہشت گردی یا جرائم میں اضافہ ہو، وہاں ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے، امن و امان برقرار رکھے اور ہر شہری کی جان، مال اور عزت کا مکمل تحفظ فراہم کرے، کیونکہ محفوظ اور پُرامن معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی پہچان ہوتا ہے۔
کرپشن، سیاسی مداخلت اور کمزور احتساب کسی بھی ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب فیصلے میرٹ کے بجائے ذاتی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں تو ترقیاتی منصوبے اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں کر پاتے، قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں نئے صوبے یا انتظامی تبدیلیاں بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں، کیونکہ مسئلہ انتظامی حدود کا نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کو مضبوط، خودمختار اور جوابدہ بنایا جائے، احتساب کو شفاف اور غیرجانبدار رکھا جائے اور قانون کی بالادستی کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔
تعلیم، صحت اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے بغیر کوئی بھی قوم پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی مہارتیں، بہتر طبی سہولیات، صاف پینے کا پانی، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرے تو اس کا انسانی سرمایہ مضبوط ہوتا ہے، جو معاشی، سماجی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی لیے حکومتوں کو انتظامی مباحث کے بجائے تعلیم، تحقیق، جدت، ہنرمندی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، کیونکہ پائیدار ترقی کا اصل سرمایہ انسان ہوتا ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین کی روح کے مطابق صوبوں اور مقامی حکومتوں کو مکمل سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کیے جائیں۔ ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بااختیار ادارے عوام کے زیادہ قریب ہوتے ہیں، اس لیے وہ مقامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں اور روزمرہ مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے نہ صرف عوامی خدمات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ احتساب اور شفافیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تعداد پر نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار پر ہوتا ہے۔ بہت سے ممالک محدود انتظامی ڈھانچے کے باوجود مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، بہتر صحت اور مؤثر عوامی خدمات کی بدولت ترقی یافتہ بن چکے ہیں، جبکہ کئی ممالک میں زیادہ صوبے یا ریاستیں ہونے کے باوجود عوام آج بھی غربت، بے روزگاری، کمزور بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ناروے، سویڈن، فن لینڈ، کینیڈا، سنگاپور، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ مضبوط ادارے، شفاف حکمرانی، مؤثر منصوبہ بندی اور قانون کی بالادستی انتظامی اکائیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ترقی کا اصل راز مضبوط اداروں اور اچھی حکمرانی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ محض انتظامی حدود میں تبدیلی لانے میں۔
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان ایک وفاقی ڈھانچے پر قائم ملک ہے، جہاں صوبے اس کی بنیادی آئینی اکائیاں ہیں۔ آج ملک کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ آزاد کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز کے جوان اور عام شہری روزانہ جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور وفاقی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں نئے صوبوں کے حوالے سے سیاسی تنازعات پیدا کرنے کے بجائے قومی سلامتی، معاشی بحالی اور عوامی فلاح پر توجہ دینا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔ یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ کسی بھی آئینی یا انتظامی تبدیلی کا فیصلہ جذبات یا عارضی سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں، معاشی حقائق اور وسیع اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ایسے فیصلے اسی وقت سودمند ثابت ہوتے ہیں جب ان کا مقصد عوام کی بھلائی، وفاق کی مضبوطی اور قومی استحکام ہو۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان کی ترقی کا انحصار نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام پر نہیں بلکہ اچھی حکمرانی، مضبوط وفاق، بااختیار صوبوں، فعال مقامی حکومتوں، شفاف احتساب، قانون کی بالادستی، معیاری تعلیم، بہتر صحت، مضبوط معیشت، امن و امان اور قومی یکجہتی پر ہے۔ قومیں اپنے نقشے تبدیل کرنے سے نہیں بلکہ اپنے اداروں کو مضبوط بنانے، انصاف کو یقینی بنانے، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر پاکستان ان بنیادی شعبوں پر سنجیدگی سے توجہ دے تو ملک کے ہر صوبے، ہر شہر اور ہر گاؤں تک ترقی کے ثمرات پہنچ سکتے ہیں اور پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال وفاقی ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے، کیونکہ قوموں کی ترقی صوبوں کو تقسیم کرنے سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، اچھی حکمرانی، قومی اتحاد اور عوام دوست پالیسیوں سے ہوتی ہے۔