عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
ایسی ہی اکتائی ہوئی حالت ہمارے کھیلوں کے میدان میں موجود کھلاڑیوں کی بھی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف کرکٹ ٹیم نے بھی اپنی یہ عادت ہی بنا لی ہے، کہ جب بھی بیرون ملک جا کر کھیلنا تو ہار ہی کو گلے لگانا ہے۔ شاید وہ اس ہار کو پہننے والا ہار سمجھنے لگے ہیں، جو کامیابی پر پہنایا جاتا ہے۔
ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں حالیہ ٹیسٹ میچ میں شکست پاکستان کی غیر ملکی دوروں میں مسلسل آٹھویں شکست ہے۔ ہم سے اوپر بنگلہ دیش اور زمبابوے ہی رہ گئے ہیں جو مسلسل ہار کا تجربہ ہم سے زیادہ رکھتے ہیں۔ ہماری ٹیم کی سال 2023 کے بعد سے مسلسل اپنی خراب پرفارمنس کو برقرار رکھنا بھی ایک ریکارڈ ہی ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین سے باہر آخری ٹیسٹ سری لنکا کے خلاف سری لنکا میں 27 جولائی 2023 کو جیتا تھا، یعنی پورے تین سال ہو گئے ہم نے جیت کا ذائقہ نہیں چکھا ہے۔ اس کے بعد سے ہماری تسلسل کے ساتھ ہارنے کی روایت کو کب بریک لگے گا اس پر انتظار فرمائیے کا بورڈ شائقین کا منہ چڑا رہا ہے۔ اس دوران پہلے بابر اعظم کو کپتان کے تخت سے اتار شان مسعود کو کپتان کے تخت پر بٹھایا گیا، مگر تین سال میں خاطر خواہ کامیابی کا منہ نہ دیکھنے پر بابر اعظم کو دوبارہ کپتان کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ جس کے بعد پہلے ٹیسٹ میں بھی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ مشکلیں اتنی پڑیں ہیں کہ ٹیم اب عادی ہو گئی ہے۔ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال یہ ہے کہ اب تک پاکستان پانچ ٹیسٹ کھیلنے کے بعد چار میں ناکامی کا سامنا کر چکا ہے، اور اس وقت عالمی درجہ میں نویں نمبر پر براجمان ہے۔
ہار کے بعد ہمیشہ کی طرح بلند و بانگ دعوے شروع ہو گئے ہیں۔ جلد بہتری نظر آئے گی۔ محنت بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ ان سب بیانات کو سن کر شائقین جو امیدیں باندھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ میدان میں نظر کیوں نہیں آتا؟ پھر ہار کے بعد شائقین کھیل میں مایوسی ہی نظر آتی ہے۔ مایوسی کا یہ عالم ہے کہ 211 رنز کے ٹارگٹ پر بھی سب نے یہی کہنا شروع کر دیا تھا، یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے، اور ٹیم قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے 90 رنز سے ہار گئی ہے۔ اب اگلے ٹیسٹ سے امید لگائیں یا نہیں، شائقین اسی شش و پنج میں ہیں۔
دوسری طرف ایسا ہی کچھ حال گلاسگو میں منعقد کامن ویلتھ گیمز میں شامل پاکستانی دستے کا بھی ہے۔ وہاں بھی ہر میدان سے ناکامی ہی ناکامی کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس 21 کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستانی دستے کو ایک آدھ میڈل مل جانے پر ہی خوشی کے شادیانے بجا کر قوم کو تسلی دے دی جائے گی۔ دنیا کا آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک جس کی آبادی پچیس کروڑ ہے۔ وہاں سے صرف اکیس کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ وہ بھی وہ کھلاڑی جن کے جیتنے کی امید ہارنے کے یقین سے بہت کم ہے۔ اب تک منعقد ایونٹس جن میں پاکستان نے شرکت کی، ان میں سوئمنگ، ایتھلیٹکس، لان بال، اور باکسنگ شامل ہیں، تمام کھیلوں میں پہ در پہ شکست کی خبریں سننے کے درمیان صرف ایک خبر باکسر فاطمہ زہرا کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی آئی ہے۔ اس خبر سے یہ آگاہی ہوئی کہ ہمارا دستہ کم از کم خالی ہاتھ واپس نہیں آئے گا۔ دوسرے میڈل کی امید ارشد ندیم سے بندھی ہوئی ہے۔ یہ ہے کل اکیس کھلاڑیوں کے دستے سے شائقین کھیل کی امیدیں۔
اب کوئی اسپورٹس بورڈ سے پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے، کہ اب وہ کیا مثبت اقدامات کئے جا رہے ہیں، کہ مستقبل میں شائقین کے دلوں میں میڈلز کی امید جاگ سکے؟۔ ہم سے چھوٹے افریقی ممالک، جہاں سہولیات کا فقدان بھی ہے۔ ہم سے زیادہ میڈلز اپنے سینوں پر سجائے نظر آ رہے ہیں، لیکن احتساب کا عمل ہمارے ہاں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ارباب اختیار اسی کارکردگی پر خوش ہیں۔ جبکہ یہ کارکردگی اقوام عالم میں عزت کا باعث بالکل بھی نہیں ہے۔
ایک محدود پیمانے پر منعقد اس ایونٹ میں بھی پاکستان تمام کھیلوں میں شمولیت نہیں کر سکا ہے۔ صرف 6 گیمز میں 21 کھلاڑیوں کی شمولیت یہ ثابت کرنے کو کافی ہے، کہ اسپورٹس بورڈ تمام کھیلوں کو یکساں مواقع نہیں دے پا رہا ہے۔ نا ہی گراس روٹ لیول سے ہمارے کھلاڑی اپنی شناخت بنا پا رہے ہیں۔ پچھلے کامن ویلتھ گیمز منعقدہ 2022 میں پاکستانی دستے نے 8 میڈلز جیتے تھے۔ جن میں 2 گولڈ ، 3 سلور اور 3 براونز میڈلز شامل تھے۔ اس میں سے ایک گولڈ میڈل نوح دستگیر بٹ نے ویٹ لفٹنگ میں جیتا تھا۔ وہی ویٹ لفٹنگ جو اس مرتبہ بھی کامن ویلتھ گیمز کا حصہ تو ہے، لیکن پاکستان شمولیت نہیں کر سکا ہے، پاکستان ویٹ لفٹنگ پر بین لگنے کی وجہ سے۔ اسی وجہ سے 72 رکنی وفد جو 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں شریک ہوا تھا۔ وہ گھٹ کر صرف 21 رکنی رہ گیا، کیونکہ پاکستان جن کھیلوں میں شرکت کرتا ہے، وہ شامل ہی نہیں ہیں۔ جیسے ہاکی اور وومن کرکٹ۔
کھلاڑی دنیا میں ملک کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں کی وجہ سے ملک کو پہچان ملتی ہے۔ ملک کو عزت و وقار حاصل ہوتا ہے۔ شائقین کھیل کا یہی سوال ہے، کہ آخر ہم کب کوئی ایسا جامع پلان مرتب کر پائیں گے، کہ عوام کو ناصرف ایک بھرپور دستہ کھیلوں میں شرکت کرتا ہوا نظر آئے، بلکہ میڈلز جیتنے کی امید، ہارنے کی مایوسی سے بدرجہا زیادہ ہو ۔
کھیلوں میں ناکامی، درست سمت کا سفر کب شروع ہو گا