تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں تلوار سے کم اور پانی کی کمی سے زیادہ تباہ ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں جب کسی شہر کو فتح کرنا مقصود ہوتا تو سب سے پہلے اس کے پانی کے راستے بند کیے جاتے تھے۔ چند دن بعد فصیلیں خود بخود گر جاتیں تھیں، کیونکہ بھوک سے زیادہ پیاس انسان کو بے بس کر دیتی ہے۔ اور پھر پانی تو زِندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر آجکل کویٹہ کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ کویٹہ میں پانی کے ٹینکر مافیا، پانی فروخت کرنے والے ٹیوب ویل مالکان نے من چاہے قیمتوں ، ہڑتال ، واسا، ضلعی انتظامیہ کی نااہلی، نے کویٹہ کو کربلا بنا دیا۔
میں ایسے محسوس کرتی ہوں۔ جیسے کویٹہ والے اکیسویں صدی میں نہیں۔ بلکہ بارہویں صدی میں جی رہے ہیں۔ جہاں حکام پینے کا پانی بھی نہیں دے سکتے۔ جہاں پانی ناپید ہو چکی ہے۔ لیکن پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ افسوس کہ آج کوئٹہ میں یہی بنیادی نعمت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
شہر کے کئی علاقوں میں نلکوں میں پانی کبھی نہیں آیا۔ بوڑھی مائیں، کمسن بچے اور خواتین شدید گرمی میں میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف نجی ٹینکروں کے نرخ تین ہزار سے آٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ سوال صرف مہنگائی کا نہیں، سوال یہ ہے کہ اگر واسا کے ذخائر خالی ہیں، تو پھر ٹینکر بھرنے کے لیے پانی کہاں سے آ رہا ہے؟ اگر سرکاری ادارے کے پاس پانی نہیں تو نجی نظام کے پاس یہ پانی کس ذریعے سے پہنچ رہا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتا ہے۔
ٹینکر مالکان بھی اپنی مشکلات بیان کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ این او سی ہونے کے باوجود انہیں چالان، جرمانوں اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دوسری طرف شہری کہتے ہیں کہ وہ پانی خریدنے پر مجبور ہیں اور ان کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں۔ یوں ایک طرف کاروباری طبقہ اپنے مسائل بیان کر رہا ہے اور دوسری طرف عام آدمی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ نقصان مگر صرف عوام کا ہو رہا ہے۔
اصل مسئلہ کسی ایک ادارے یا ایک گروہ کا نہیں۔ اصل بحران برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ زیرِ زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے، غیر قانونی ٹیوب ویلز بڑھتے جا رہے ہیں، بارش کا پانی ضائع ہو جاتا ہے، نئے ڈیم نہیں بنتے، پرانے ٹیوب ویلز خراب پڑے ہیں اور شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب منصوبہ بندی ختم ہو جائے تو بحران جنم لیتا ہے، اور جب بحران مستقل ہو جائے تو مافیا پیدا ہو جاتے ہیں۔
پانی تجارت ضرور ہو سکتا ہے، لیکن پانی کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح حکومت بھی صرف بیانات سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی۔ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کو زندگی کی بنیادی سہولت فراہم کرنا ہے، اور پانی ان بنیادی حقوق میں سرفہرست ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ واسا کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے، خراب ٹیوب ویلز فوری فعال کیے جائیں، مزید علاقوں میں نئے ٹیوب ویل لگائیں جائیں۔ آجکل نیا ٹیوب ویل ایک ہفتے میں لگ جاتا ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں، نئے آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں، ٹینکر سروس کے لیے شفاف ریگولیٹری نظام بنایا جائے اور قیمتوں کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جائے۔ حکومت، انتظامیہ، واسا، پرائیویٹ ٹیوب ویل مالکان اور ٹینکر ایسوسی ایشن کو ایک ہی میز پر بیٹھ کر ایسا حل نکالنا ہوگا جس میں سب سے پہلے شہری کا حق محفوظ ہو۔ مناسب قیمت پر صاف پانی میسر ہو۔
کوئٹہ صرف بلوچستان کا دارالحکومت نہیں، لاکھوں لوگوں کا گھر ہے۔ اگر ایک ماں اپنے بچے کو پانی کا ایک گلاس نہ دے سکے، اگر ایک مریض دوائی سے پہلے پانی تلاش کرتا پھرے، اگر مسجد میں وضو کے لیے پانی نہ ہو، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پانی صرف ایک ضرورت نہیں، ایک امانت اور ایک انسانی حق ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اصل شناخت اس کے محلات سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں ایک عام انسان کو پانی کتنی آسانی سے ملتا ہے۔
وقت ابھی بھی ہے۔ اگر آج سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں شاید یہ لکھیں کہ کوئٹہ کو خشک سالی نے نہیں، ہماری غفلت نے پیاسا کیا تھا۔
کوئٹہ کو کربلا بنا دیا