بلوچستان : جنازوں کا بوجھ اور حکومتی ذمہ داری

کچھ عرصہ سے بلوچستان کا پرامن خطہ دوبارہ سے دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے پے در پے واقعات کا تسلسل سے جاری رہنا ایک نہایت پریشان کن صورتحال ہے۔ بندوق سے کھیلی گئی خون کی ہولی سے روز ایک دردناک کہانی اس سرزمین پاک پر تحریر ہو رہی ہے۔ خوف کی فضائ نے اس خطہ پر چہار سو خزاں رت کا پہرہ لگایا ہوا ہے۔ ہر دل روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ان مظلوم شہادتوں پر ان کے ورثائ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ تمام شہریوں کی دعائیں ہر اس دعا میں شریک ہیں جو اس پر امن خطے کے سکون کے لئے مانگی جا رہی ہے۔ ہر سر بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہے، یا اللہ ہمارے اعمال سے درگزر فرما اور ہم پر سے پریشانیوں کے اس دور کا خاتمہ بالخیر فرما۔
یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے جب کسی کے دل پر دہشتگردوں کا خنجر وار کرتا ہے، تو اس کا شکوہ بھی ارباب اختیار سے ہی کیا جاتا ہے۔ گو یہ بات بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ریاست دن رات شہریوں کے جان و مال کی حفاظت میں ضرور مصروف عمل ہے، لیکن پھر بھی جب کسی شہری کو ایک گہرا زخم ملتا ہے، تو اس کا شکوہ وہ اپنی حکومت سے ہی کرتا ہے۔
کچھ دن سے شہدائے منگی کے جنازے کوئلہ پھاٹک کے ساتھ رکھ کر ان کے لواحقین اور ہمدرد ایسا ہی پر درد احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی اپنے کا جنازہ اٹھانا بہت ہمت، حوصلے اور صبر کا کام ہے۔ ان جنازوں کے ساتھ بیٹھے لواحقین جائز طور پر حکومت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے ضرور آگے آئیں گے۔ ان کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کو روکنے کا مداوا کریں گے۔ ان کو اپنا حال دل بیان کرنے اور اس درد بھرے واقعہ کو اپنے سامنے بٹھا کر بیان کرنے کا موقع دیں گے۔ ان کے کاندھوں پر دست شفقت رکھیں گے۔ ان کو احساس دلائیں گے کہ حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑی ہے۔ ہر شہری کو یہ یقین دلائیں گے، کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت ہمہ وقت چاک و چوبند اور تیار ہے۔ یہ یقین کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی مکمل روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کر دئیے جائیں گے۔
اس ذیل میں یہ ضروری ہے کہ شہداءکے جنازوں کی پورے اعزاز کے ساتھ جلد تدفین ممکن بنانے کے لئے حکومت ہر ممکن کوشش کرے۔ یہ ہماری پولیس کے وہ بہادر جوان ہیں جنہوں نے ریاست کی طرف سے دی گئی ذمہ داریاں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پوری کی ہیں۔ یہ قوم کا فخر ہیں۔ ان کو یوں کسی چوک پر تابوت میں بند حکومتی اقدامات کا منتظر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب بھی وقت ہمیں یہی سکھا رہا ہے کہ ان کی تکریم کے لئے حکومت فوری اقدامات کرے۔ ان کے جذبہ شہادت کو سلام عقیدت پیش کرے، تاکہ فورسز میں موجود دیگر جوانوں کا بھی حوصلہ بلند ہو، اور وہ بھی ان بہادر جوانوں کی شہادت سے حوصلہ اور رہنمائی حاصل کریں۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر کے نتیجے میں جاری واقعات کا تسلسل روکنے کے لئے بھی اب ریاست کو ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جیسا ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ان تمام واقعات کے پیچھے دشمن ملک کا براہ راست ہاتھ ہے، تو ان کے خلاف انٹیلیجنس پر مشتمل معلومات سے ان کا قلع قمع کرنا اور ان کا وہ ہاتھ توڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دینا ہی قوموں کے لئے فخر کا لمحہ ہوتا ہے۔ اپنوں کو گلے سے لگا کر ان کے زخموں پر مرہم، ان کے شکوں کی داد رسی کرنا اور دشمن کے عزائم خاک میں ملا کر اس کو منہ توڑ جواب دینا ہی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
ہر شہری یہ امید رکھتا ہے کہ حکومت اس کے جان و مال کے تحفظ کا ہر وعدہ پورا کرے گی۔ خطہ ارض میں موجود حالیہ دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی۔ بلوچستان کو پہلے کی طرح امن کا گہوارہ بنائے گی۔ ترقی اور امن کی طرف سفر کا دوبارہ آغاز کرے گی۔ یہاں درپیش مسائل کا فوری حل نکالنے کی کوششوں کو تیز کرنے پر توجہ دے گی۔ بے روزگاری کے جن کو بوتل میں بند کر کے نوجوانوں کے لئے روزگار کا انتظام کرے گی۔ معیشت کا پہیہ تیز چلانے کے لئے یہاں ایسے کاروبار دوست اقدامات کئے جائیں گے، کہ ناصرف لوگ کاروبار کی بہتر مواقع کی تلاش میں بلوچستان کا رخ کریں، بلکہ یہاں موجود کاروباری حضرات کو بھی جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی جانی چاہئے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں زور شور سے شروع ہوں، اور معیشت کی ترقی سے یہاں چھائے دہشت گردی کے بادل چھٹ جائیں۔ معدنی وسائل سے مالا مال اس خطے کو صرف ایک ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے، جو اس کے احساس محرومی کو ختم کر کے اسے ترقی کی شاہراہ پر لے آئے۔
امید ہے کہ جلد ہی امن کی طرف جاری اپنے سفر میں ہم امن و خوشحالی کی منزل پا لیں گے۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں