مہنگائی کے طوفان میں صبر، شعور اور سادگی ہی نجات کا راستہ


تحریر۔ذوالفقارعلی طارقی قادری
مہنگائی کا جن اس وقت بے قابو ہو چکا ہے جبکہ معاشی بحران اپنے عروج پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ عام آدمی دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور روز مرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مہنگائی کو قابو کرنے اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے کوئی مو¿ثر اور دیرپا حکمتِ عملی نظر نہیں آ رہی۔
جس طرح انسان بیماریوں سے بچاو¿ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہے، اینٹی بائیوٹک استعمال کرتا ہے، گرمی اور سردی سے محفوظ رہنے کے لیے مختلف طریقے اپناتا ہے، اسی طرح موجودہ معاشی حالات میں بھی ہمیں اپنی زندگیوں میں چند مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ مشکلات کا بوجھ کچھ کم ہو سکے۔
سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ عبادات، نماز، دعا، تلاوتِ قرآن اور استغفار کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا کیونکہ حقیقی سکون اور رزق میں برکت اللہ ہی کی ذات عطائ کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی طرزِ زندگی میں سادگی اختیار کرنا ہوگی۔ باہر کے کھانوں، غیر ضروری ہوٹلنگ اور فضول اخراجات سے اجتناب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواہشات کو محدود کرکے صرف ضروریات تک خود کو رکھنا ہی دانشمندی ہے۔
آمدنی بڑھانے کے ذرائع پر غور کرنا ہوگا۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ حلال روزگار کے نئے مواقع تلاش کرے، چھوٹے کاروبار، ہنر اور اضافی ذرائع آمدن پر توجہ دے تاکہ مالی دباو¿ کم ہو سکے۔
غیر ضروری خریداری ترک کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ فیشن، دکھاوے اور فضول رسومات نے پہلے ہی معاشرے کو معاشی بوجھ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق زندگی گزارنے کی عادت اپنانا ہوگی۔
صحت مند اور سادہ غذا کو ترجیح دی جائے۔ سبزیاں، دالیں اور گھریلو کھانے نہ صرف صحت بخش ہیں بلکہ نسبتاً سستے بھی ہیں۔ اسی طرح غیر ضروری سفر سے گریز، بجلی اور گیس کی بچت اور روزمرہ اخراجات میں احتیاط بھی موجودہ حالات میں نہایت اہم ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ چیخنے چلانے، بےجا سیاسی گفتگو شور مچانے اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سہارا دینا، حوصلہ دینا اور آسانیاں پیدا کرنا ہی اصل انسانیت ہے۔
چھوٹی چھوٹی بچتوں کو ہرگز نظر انداز نہ کریں کیونکہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ ہمیشہ صبر اور شکر کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ صبر مشکل وقت کو آسان بناتا ہے اور شکر نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ دکھاوے کی زندگی سے نکل کر حقیقت پسندانہ طرزِ زندگی اپنائیں، اپنی حدود میں رہیں اور اپنی چادر دیکھ کر پاو¿ں پھیلائیں۔ اگر ہم نے اجتماعی طور پر سادگی، صبر، محنت اور شعور کو اپنالیا تو یقیناً یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا اور معاشرہ دوبارہ استحکام کی طرف لوٹ آئے گا۔
بالا باتوں پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کرنے کی کوشش کریں تو زندگی یقیناً بہت آسان ہو سکتی ہے۔ نہ بار بار قرض لینے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی انسان ہر وقت پریشانیوں اور مشکلات میں گھرا رہے گا۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ضروریات سے زیادہ خواہشات کو اہم بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے سکون ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
انسان کو ہمیشہ اپنے وسائل بڑھانے کے لیے حلال ذرائع پر غور و فکر اور تگ و دو میں رہنا چاہیے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ رزقِ حلال کس طرح کمایا جائے، کون سا ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں برکت بھی ہو اور عزت بھی۔ کیونکہ حرام کی چمک وقتی ہوتی ہے جبکہ حلال کی کمائی انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔
ضروری نہیں کہ انسان ہر وقت دوسروں کی زندگی سے اپنی زندگی کا موازنہ کرتا رہے۔ یہ دوڑ کبھی ختم نہیں ہوتی کہ فلاں کے پاس گاڑی ہے، بنگلہ ہے، دولت ہے اور میرے پاس کیوں نہیں۔ انسان کو اپنی محنت جاری رکھنی چاہیے، ترقی کی خواہش ضرور رکھنی چاہیے لیکن حسد، نفرت اور بے صبری کے بغیر۔ کیونکہ دولت، عزت اور وسائل اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ اللہ کسی کو امیر بنا کر آزماتا ہے اور کسی کو غریب رکھ کر امتحان لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امیری اور غریبی دونوں آزمائشیں ہیں، اور یہ زندگی کا سفر دراصل ایک امتحان گاہ ہے۔
ہمیں اپنی صحبتوں کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اچھی صحبت انسان کی زندگی بدل دیتی ہے جبکہ بری صحبت انسان کو بے سکونی، انتشار اور پریشانیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جن کی زبان پر شکر ہو، جو دوسروں کےلئے آسانیاں پیدا کرتے ہوں، جو مایوسی نہیں بلکہ امید بانٹتے ہوں۔
ایک دوسرے کا خیال رکھنا، دکھ درد میں ساتھ دینا اور محبت، عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا ہی اصل انسانیت ہے۔ کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے کیونکہ عزت و ذلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جو آج طاقتور ہے کل کمزور بھی ہو سکتا ہے اور جو آج مشکل میں ہے ممکن ہے کل کامیابی کی بلندیاں چھو لے۔
اگر ہم سادگی، قناعت، صبر، شکر اور محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور اپنے دلوں کو حسد، نفرت اور دکھاوے سے پاک کرلیں تو ان شائ اللہ زندگی کا سفر بہت آسان ہو جائے گا۔ غم، پریشانیاں اور بے سکونی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں گی اور انسان حقیقی سکون اور خوشی محسوس کرے گا۔
زندگی کو آسان بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان کے پاس بے شمار دولت، بڑی گاڑیاں یا عالی شان بنگلے ہوں، بلکہ اصل سکون قناعت، صبر، شکر اور محبت میں پوشیدہ ہے۔ جو انسان اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزارنا سیکھ لیتا ہے، حلال رزق پر اکتفا کرتا ہے، دوسروں کی خوشیوں پر حسد کرنے کے بجائے دعا دیتا ہے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، اس کی زندگی میں برکتیں خود بخود اترنا شروع ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نمود و نمائش، فضول مقابلہ بازی اور بے جا خواہشات سے نکل کر سادگی، اخلاص اور انسانیت کو اپنائیں۔ ایک دوسرے کےلئے آسانیاں پیدا کریں، محبت بانٹیں، دل نہ دکھائیں اور مشکل وقت میں سہارا بنیں۔ کیونکہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک عارضی سفر اور امتحان گاہ ہے۔
اگر ہم نے اپنے دلوں کو حسد، نفرت اور لالچ سے پاک کرکے صبر، شکر، قناعت اور عاجزی کو اپنا شعار بنا لیا تو یقیناً نہ صرف ہماری زندگی آسان ہو جائے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی سکون، بھائی چارے اور محبت کا گہوارہ بن جائے گا۔
ان شاءاللہ۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں