محبت اور دوستی

آمنہ بنت مسعود
حبیب ابن مظاہر کون تھے اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا سے حبیب ابن مظاہر کے نام خط میں کیا لکھا تھا حبیب ابن مظاہر حضرت علیؓ کے وفادار ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت حسین کے سچے دوست بھی تھے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کربلا کی تپتی زمین جہاں حق و باطل صف آرا تھے اپنے سچے اور وفادار دوست حبیب کے نام خط لکھا اس خط کا عنوان کچھ یوں تھاحبیب ابنِ مظاہر کو حسین ابنِ علیؓ کا سلام ہو حبیب تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہماری نسبت کو خوب جانتے ہو ہمیں کربلا میں دشمنوں نے گھیر لیا ہے والسلام حسین ابنِ علی بس اتنا لکھا اور اپنے قاصد کو حبیب ابن مظاہر کی طرف روانہ کردیا قاصد خط لیکر حبیب ابنِ مظاہر کے دروازے پو پہنچا تو حبیب ابنِ مظاہر اس وقت اپنی زوجہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے دروازے پر دستک ہوءتو وہی سے آواز دی پوچھا کون ہو
تو قاصد نے کہا میں حسین ابنِ علی کا قاصد ہوں حبیب ابن مظاہر نے کھانا چھوڑا اور دروازے پر پہنچے قاصد کے ہاتھ کو بوسہ دیا خط لیا اور جب خط کو پڑھنا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسوو¿ں رواں ہوگئے جسم کپکپانے لگا
زوجہ نے پوچھا کیا لکھا ہے کیا لکھا ہے حسین ابنِ علی نے تو حبیب ابنِ مظاہر کہتے ہیں کربلا میں دشمنوں نے آلِ رسول کو گھیر لیا ہے انہوں نے مجھے مدد کے لیئے بلایا ہے تو زوجہ کہتی ہیں اب آپکا کیا ارادہ ہے تو آپ نے اپنی زوجہ کے ایمان اور محبت اہل بیت کا امتحان لینے کے لیئے کہا کہ تم تو جانتی ہو میری عمر پچھتر برس ہوگئی ہے میں ضعیف ہو گیا ہوں میں کیا مدد کرسکتا ہوں اتنے میں آپکی زوجہ نے اپنی چادر کو اوڑھ لیا حبیب ابنِ مظاہر نے پوچھا تم کہاں جا رہی ہو پھر وہ کہنے لگی میں تو انکی مدد کو جاو¿ں گی کیونکہ وہاں زینب بھی تو ہوگی اللہ اکبر کبیرا حبیب ابنِ مظاہر کی آنکھوں میں آنسوو¿ں آگے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آلِ رسول کو میری ضرورت پڑے حسین مجھے بلائیں اور میں نہ جاو¿ں اللہ اکبر کبیرا حبیب ابنِ مظاہر نے اپنے غلام کو ساتھ لیا گھوڑے کو اندھا دھند بھگایا اور دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے دشمنوں کی نظروں سے بچتے بچاتے آپ کربلا کی سرزمین پہنچ گے ادھر دور سے گرد اٹھتی دکھائی دی ادھر امام حسینؓ نے عباس سے مخاطب ہو کر فرمایا عباس دیکھو میرا دوست حبیب ابنِ مظاہر پہنچ گیا ہے اللہ اکبر کبیرا حبیب ابنِ مظاہر نے امام حسین کو گلے لگایا اتنے میں خیمے سے جنابِ فضا آتی ہے اور آکر کہتی ہیں حبیب ابنِ مظاہر آپکو بی بی زینبؓ سلام کہہ رہی ہیں اور یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ آپ نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا حبیب ابنِ مظاہر نے جب یہ سنا تو جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور آپ نے اپنی دستار کو سر سے اتار لیا روتے ہوئے ہچکی بندھ گئی کہ بتول زادی اس غلام کو سلام دے رہی ہیں یا خدا یہ آلِ رسول پر کیا وقت آگیا اور پھر وفا کی داستان رقم کرتے ہوئے حبیب ابنِ مظاہر نے یومِ عاشور کو کمر کس لی اور اپنے ماتھے پر پٹی باندھ لی کہ دشمنوں کو میرے چہرے پر ضعیفی کے آثار بھی نمایا نہ ہوں اور آپ برق رفتار ی کے ساتھ دشمنوں کی صفوں میں گھس گے ستر سے ذائد دشمنوں کو واصلِ جہنم کیا اور پھر بلا آخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ زمین پر گرے آخری آواز تھی امام حسین تو امام حسینؓ آگے بڑھے اور حبیب ابن مظاہر اپنے دوست کا سر اپنی گود میں رکھا اور فرمایامیں حسین ابنِ علی ؓ حبیب یہ گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنی محبت اور دوستی کا حق ادا کردیا ہے اللہ اکبر کبیرا اور یوں حبیب ابنِ مظاہر نے وفا اور دوستی اور محبت کی داستان رقم کردی اللہ پھر مجبورا مجھے یہاں کہنا پڑ رہا ہے کوءایک دوست تو ہو حبیب ابنِ مظاہر جیساجسکو بے تکلف مقتل میں بلایا جائے قربانم اس دوستی وفاداری تعلق کے واللہ اسکو لکھتے آنسوں رواں رہے مسلسل مجھے لگتا میری ساری لکھی گئی باتوں میں یہ سب سے خوبصورت سٹوری محبت اوردوستی کی بے مثال لاجواب سٹوری ہے
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں